روس اور یوکرین نے رات کے دوران ایک دوسرے کے مختلف علاقوں پر میزائل اور ڈرون حملے کیے، جن کے نتیجے میں دونوں جانب شہری ہلاک اور متعدد افراد زخمی ہوگئے۔
روسی حملوں میں یوکرین کے دوسرے بڑے شہر خارکیف کو بھی نشانہ بنایا گیا۔ علاقائی حکام کے مطابق سالتیوسکی ضلع میں ایک رہائشی عمارت پر روسی میزائل گرنے سے 2 افراد ہلاک اور 13 زخمی ہوگئے۔
بحیرہ اسود کے اہم بندرگاہی شہر اوڈیسا اور اس کے گردونواح میں بھی درجنوں میزائلوں اور ڈرونز سے حملے کیے گئے۔ مقامی حکام کے مطابق ان حملوں میں مزید 8 افراد زخمی ہوئے۔ حکام نے بتایا کہ حملوں کے باعث شہری علاقوں اور بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچا۔
دوسری جانب روس کے سرحدی علاقے بیلگورود میں یوکرینی ڈرون حملوں کے نتیجے میں 5 افراد ہلاک اور تقریباً دو درجن زخمی ہوئے۔ علاقائی انتظامیہ کے مطابق زخمیوں میں 4 سالہ بچہ بھی شامل ہے۔
حالیہ ہفتوں میں یوکرین کے مختلف شہروں پر روسی میزائل حملوں میں اضافہ ہوا ہے۔ روس کی جانب سے یوکرین کے فضائی دفاعی نظام کی کمزوری سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کی جا رہی ہے، جبکہ امریکی ساختہ پیٹریاٹ دفاعی نظام کے انٹرسیپٹرز کی کمی یوکرین کے لیے ایک اہم مسئلہ بن چکی ہے۔ پیٹریاٹ نظام یوکرین کے پاس موجود ان چند دفاعی صلاحیتوں میں شامل ہے جو بیلسٹک میزائلوں کو روک سکتی ہیں۔
یوکرینی صدر ولودیمیر زیلنسکی طویل عرصے سے امریکا اور دیگر اتحادی ممالک سے مزید پیٹریاٹ نظام فراہم کرنے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ ان کا مؤقف ہے کہ یہ نظام شہری آبادی کو روسی میزائل حملوں سے بچانے کے لیے انتہائی اہم ہیں۔
ادھر یوکرین نے بھی روس کے اندر طویل فاصلے تک مار کرنے والے ڈرون حملے جاری رکھے ہوئے ہیں۔ روسی توانائی کے بنیادی ڈھانچے، ایندھن سے متعلق تنصیبات اور دیگر اہم اہداف کے علاوہ روس کی بڑی آن لائن ریٹیل کمپنی وائلڈ بیریز کو بھی نشانہ بنایا گیا ہے، جس کے نتیجے میں روس میں ایندھن کی فراہمی پر دباؤ بڑھنے کی اطلاعات ہیں۔
روسی وزارت دفاع نے دعویٰ کیا ہے کہ اس کی فوج نے رات کے دوران 153 یوکرینی ڈرونز مار گرائے، جن میں روس کے زیر قبضہ کریمیا، بحیرہ اسود اور بحیرہ آزوف کے علاقوں میں پرواز کرنے والے ڈرون بھی شامل تھے۔
روس اور یوکرین کے رات گئے حملے، دونوں جانب شہری ہلاک اور متعدد زخمی
