Baaghi TV

چین میں طوفان ‘ڈولفن’ سے تباہی: دس لاکھ سے زائد افراد کی نقل مکانی

china

چین کے مشرقی ساحل پر اس سال کا سب سے طاقتور ترین سمندری طوفان ’ڈولفن‘ ٹکرا گیا ہے، جس کے باعث ساحلی علاقوں میں موسلا دھار بارشوں اور انتہائی تیز ہواؤں کا سلسلہ جاری ہے۔

چین کے محکمہ موسمیات کے حکام کے مطابق، طوفان ڈولفن اتوار کی شام ساڑھے پانچ بجے کے قریب مشرقی صوبے ژجیانگ کے علاقے یو ہوان کے قریب ساحل سے ٹکرایا اس دوران طوفان کے مرکز میں ہواؤں کی رفتار 42 میٹر فی سیکنڈ یعنی 151 کلومیٹر فی گھنٹہ ریکارڈ کی گئی، جو کہ سفیر سمپسن اسکیل پر کیٹیگری ون کے ہولناک طوفان کے برابر ہے۔

طوفان کے خطرے کے پیشِ نظر حکام نے ساحل سے دور کام کرنے والے ملازمین کو پہلے ہی محفوظ مقامات پر منتقل کر دیا تھا، کشتیوں کو بندرگاہوں پر واپس بلا لیا گیا تھا اور ڈیموں، پہاڑی ندی نالوں، لینڈ سلائیڈنگ کے خطرے والے علاقوں اور سیاحتی مقامات پر نگرانی سخت کر دی گئی تھی۔

محکمہ موسمیات نے خبردار کیا ہے کہ 10 اگست تک ژجیانگ، شنگھائی، شمالی فوجیان، شمال مشرقی جیانگ شی، وسطی اور جنوبی انہوئی، اور جیانگ سو کے بیشتر حصوں میں شدید بارشیں ہو سکتی ہیں، جبکہ ژجیانگ کے کچھ حصوں میں 250 سے 500 ملی میٹر تک بارش کا امکان ہے۔

نیشنل میٹروولوجیکل سینٹر کے چیف فورکاسٹر وانگ ہائی پنگ نے سرکاری ٹی وی ’سی سی ٹی وی‘ سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ ساحل سے ٹکرانے کے بعد طوفان ڈولفن کے مغرب کی طرف بڑھنے کی پیش گوئی ہے، جس کے بعد یہ وسطی اور جنوب مغربی چین کے اوپر سست پڑ جائے گا اور اس کی شدت میں بتدریج کمی آئے گی۔

وانگ ہائی پنگ کا کہنا تھا کہ اس صورتحال کی وجہ سے شدید بارشوں کا دورانیہ لمبا ہو سکتا ہے اور خاص طور پر پہاڑی علاقوں اور چھوٹے دریاؤں کے آس پاس سیلاب اور مٹی کے تودے گرنے کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔

اس طوفان کی وجہ سے ملک کے مشرقی حصوں میں نقل و حمل کا پورا نظام درہم برہم ہو کر رہ گیا ہے اور اب تک دس لاکھ سے زائد افراد کو ان کے گھروں سے نکال کر محفوظ مقامات پر منتقل کیا جا چکا ہے اکیلے شنگھائی شہر سے تیس ہزار تین سو سے زائد افراد کو نکالا گیا ہے اور فلائٹ ٹریکنگ ڈیٹا کے مطابق لگ بھگ پندرہ سو پروازیں منسوخ کی گئی ہیں۔

More posts