Baaghi TV

پاکستان نے مکہ معاہدے کے لیے اہم ترین کردار ادا کیا،ترجمان دفتر خارجہ

pak

ترجمان دفتر خارجہ طاہر حسن اندرابی نے کہا ہے کہ مکہ معاہدہ بالکل واضح ہے کہ ایک ملک پر حملہ تینوں ممالک پر حملہ تصور ہوگا، جبکہ معاہدے کا مقصد علاقائی امن و سلامتی کو یقینی بنانا ہے۔

صحافیوں کو ہفتہ وار پریس بریفنگ دیتے ہوئے ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ 7 اگست کو ہونے والا مکہ سمٹ انتہائی اہمیت کا حامل تھا، پاکستان نے مکہ معاہدے کے لیے اہم کردار ادا کیا۔ مکہ معاہدہ پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے برادرانہ تعلقات میں اہم پیشرفت ہے۔

انہوں نے کہا کہ مکہ معاہدہ خالصتاً دفاعی نوعیت کا ہے اور یہ خطے میں امن و استحکام کے لیے تینوں ممالک کے عزم کا عکاس ہے۔ معاہدے کے تحت خطے اور اس سے باہر اجتماعی سلامتی یقینی بنانے کے لیے کوششیں جاری رکھی جائیں گی۔

ترجمان دفتر خارجہ نے واضح کیا کہ مکہ معاہدہ محض تین ممالک تک محدود نہیں، اس کا بنیادی مقصد دفاع، امن اور سلامتی کا فروغ ہے۔ معاہدے کی شق واضح ہے کہ ایک ملک پر حملہ سب پر حملہ تصور کیا جائے گا۔

مشرق وسطیٰ کی صورتحال پر ترجمان نے کہا کہ پاکستان خطے میں امن کے حوالے سے پرامید ہے اور جاری تنازع کے حل کے لیے مخلصانہ کوششیں کر رہا ہے۔ کشیدگی میں اضافے کے بعد فریقین کے درمیان بات چیت بھی ہوئی ہے۔

اسلام آباد ایم او یو کے حوالے سے ترجمان نے کہا کہ پاکستان کا مؤقف واضح ہے۔ انہوں نے پاکستان کے بارے میں مثبت بیان دینے پر ایرانی صدر کا شکریہ بھی ادا کیا۔

امریکا اور سعودی عرب کے درمیان سول جوہری معاہدے کے حوالے سے ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ پاکستان اس پیشرفت کا جائزہ لے رہا ہے۔ پاکستان سعودی عرب کے سول جوہری توانائی کے حق کا احترام اور حمایت کرتا ہے۔ معاہدے کی مکمل تفصیلات سامنے آنے کے بعد اس حوالے سے تفصیلی مؤقف جاری کیا جائے گا۔

باب المندب میں تجارتی جہاز پر حوثی حملے کا ذکر کرتے ہوئے ترجمان نے بتایا کہ واقعے میں 3 پاکستانی شہری شہید ہوئے۔ پاکستان کو غیر جنگجو تجارتی جہاز پر حملے کے افسوسناک واقعے پر گہری تشویش ہے اور وہ اس حملے کی شدید مذمت کرتا ہے۔

ترجمان دفتر خارجہ نے بھارت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ بھارت آزاد کشمیر کی صورتحال سے سیاسی فائدہ اٹھانے کی کوشش کر رہا ہے۔ بھارت کو آزاد کشمیر پر تبصرے کرنے کے بجائے مقبوضہ کشمیر کی صورتحال پر توجہ دینی چاہیے اور کشمیریوں کو ان کا حقِ خودارادیت دینا چاہیے۔

More posts