Baaghi TV

کراچی میں پانی اور سیوریج کے بل میں 7.05 فیصد تک اضافہ

‎کراچی کے شہریوں پر مہنگائی کا ایک اور بوجھ ڈال دیا گیا ہے، جہاں پانی اور سیوریج کے بلوں میں 7.05 فیصد تک اضافہ کردیا گیا ہے۔ کراچی واٹر اینڈ سیوریج کارپوریشن کی جانب سے مالی سال 2026-27 کے لیے نرخوں پر نظرثانی کی گئی ہے اور نئے ٹیرف کا اطلاق یکم جولائی 2026 سے ہوچکا ہے۔
‎نظرثانی شدہ ٹیرف کے تحت رہائشی صارفین کے پانی اور سیوریج کے ماہانہ چارجز پلاٹ کے رقبے کے حساب سے مقرر کیے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ کاروباری مراکز اور دکانوں کے لیے بھی فکسڈ ماہانہ چارجز مقرر کیے گئے ہیں، جس کے باعث مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے صارفین کے ماہانہ اخراجات میں اضافہ ہوگا۔
‎ذرائع کے مطابق نرخوں میں اضافہ اوسط کنزیومر پرائس انڈیکس کی بنیاد پر کیا گیا ہے۔ واٹر بورڈ ایکٹ کے تحت واٹر کارپوریشن کو ہر سال نرخوں میں 7 فیصد تک اضافے کی اجازت حاصل ہے، جس کے تحت پانی اور سیوریج کے ٹیرف میں تقریباً ہر سال ردوبدل کیا جاتا ہے۔
‎تاہم نرخوں میں اضافے کے بعد شہریوں کی مشکلات میں مزید اضافہ ہوسکتا ہے کیونکہ کراچی کے کئی علاقوں میں پانی کی فراہمی پہلے ہی ایک بڑا مسئلہ بنی ہوئی ہے۔ متعدد علاقوں کے مکینوں کو باقاعدہ پانی کی فراہمی نہ ہونے کے باوجود پانی اور سیوریج کے ماہانہ بل موصول ہوتے ہیں۔
‎پانی کی قلت کے باعث بہت سے شہری نجی ٹینکرز سے مہنگے داموں پانی خریدنے پر مجبور ہیں۔ پمپنگ اسٹیشنز کی خرابی، پانی کی لائنوں کے پھٹنے اور دیگر تکنیکی مسائل کے باعث بھی مختلف علاقوں میں فراہمی متاثر ہوتی رہتی ہے، جس کا مالی بوجھ براہ راست شہریوں کو برداشت کرنا پڑتا ہے۔
‎ذرائع کا کہنا ہے کہ واٹر کارپوریشن کو بلوں کی وصولی میں بھی مشکلات کا سامنا ہے اور اربوں روپے کے واجبات تاحال وصول نہیں ہوسکے۔ ادارے کے مطابق نئے ٹیرف کا مقصد ریونیو بیس کو مضبوط بنانا اور مالی وسائل میں اضافہ کرنا ہے، تاہم شہریوں کے لیے یہ اضافہ روزمرہ اخراجات میں ایک اور اضافی بوجھ ثابت ہوگا۔

More posts