Baaghi TV

میر رضا قتل کیس، نئی تفتیشی ٹیم کے اہم فیصلے

‎کراچی کے نوجوان تاجر میر رضا قتل کیس کی تحقیقات میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں نئی تفتیشی ٹیم کا فیروز آباد تھانے میں اجلاس ہوا اور کیس کو آگے بڑھانے کے لیے متعدد اہم فیصلے کیے گئے۔ اجلاس میں کمیٹی کے مختلف ارکان کو تحقیقات سے متعلق الگ الگ ذمہ داریاں سونپی گئیں تاکہ کیس کے تمام پہلوؤں کا تفصیلی جائزہ لیا جا سکے۔
‎تفتیشی ذرائع کے مطابق مقتول میر رضا کے اہلخانہ کا باضابطہ بیان ریکارڈ کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے، جبکہ کیس میں حراست میں لیے گئے 21 افراد کے بیانات بھی قلمبند کیے جائیں گے۔ تفتیشی ٹیم کا مقصد دستیاب معلومات، بیانات اور دیگر شواہد کو یکجا کرکے واقعے کی مکمل کڑیوں تک پہنچنا ہے۔
‎اجلاس کے بعد کمیٹی کے ارکان جائے وقوعہ کے دورے کے لیے روانہ ہوئے، جہاں مزید شواہد جمع کیے جائیں گے۔ ذرائع کے مطابق نئی تحقیقاتی ٹیم کے ہمراہ کیس کا سابق تفتیشی افسر بھی جائے گا تاکہ پہلے سے ہونے والی تحقیقات اور نئے شواہد کا تقابلی جائزہ لیا جا سکے۔
‎دوسری جانب تفتیشی ٹیم نے نیشنل سائبر کرائم ایجنسی سے بھی رابطہ کرلیا ہے اور مقتول کے سوشل میڈیا اور دیگر ڈیجیٹل اکاؤنٹس کی تفصیلات طلب کی گئی ہیں۔ ٹیم کی جانب سے ایجنسی کو چار خطوط ارسال کیے گئے ہیں، جن میں میر رضا کی اسمارٹ واچ کا فرانزک کرنے کی درخواست بھی شامل ہے۔
‎مقتول کے اہلخانہ نے تاہم اسمارٹ واچ کا فرانزک نیشنل سائبر کرائم ایجنسی کے بجائے لاہور کی فارنزک لیبارٹری سے کروانے کا مطالبہ کیا ہے۔ اہلخانہ کے وکیل جبران ناصر کا کہنا ہے کہ اسمارٹ واچ کئی روز تک سابق سربراہ کمیٹی کے پاس موجود رہی، جس کے باعث اس میں ممکنہ ٹیمپرنگ کے خدشات پیدا ہوئے ہیں۔
‎یاد رہے کہ 12 اگست کو میر رضا کا پہلا پوسٹ مارٹم کرنے والے میڈیکولیگل افسر ڈاکٹر اسامہ شیخ کو عہدے سے ہٹا دیا گیا تھا۔ حکام کے مطابق پوسٹ مارٹم میں مبینہ سنگین غلطیوں کے معاملے پر انکوائری جاری ہے، جبکہ قبر کشائی کے بعد ہونے والے پوسٹ مارٹم کی ابتدائی رپورٹ میں مقتول کے جسم پر تشدد کے نشانات سامنے آئے تھے۔ کیس کی تحقیقات اب سائنسی، ڈیجیٹل اور فرانزک شواہد کی بنیاد پر مزید آگے بڑھائی جا رہی ہیں۔

More posts