خواتین کو پولیس سے رابطے اور اپنی شکایات بلاجھجھک درج کرانے میں سہولت دینے کے لیے پولیس تھانوں میں خواتین افسران کی 24 گھنٹے موجودگی یقینی بنانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ اس اقدام کے تحت لیڈیز پولیس اہلکار دن اور رات کے تمام اوقات میں خواتین سائلین کی مدد اور قانونی رہنمائی کے لیے دستیاب ہوں گی۔
ڈی آئی جی آپریشنز فیصل کامران کے مطابق اس فیصلے کا بنیادی مقصد خواتین کو ایک محفوظ اور معاون ماحول فراہم کرنا ہے تاکہ وہ بغیر کسی خوف یا جھجھک کے اپنے مسائل اور شکایات پولیس کے سامنے بیان کرسکیں۔
انہوں نے کہا کہ اب خواتین کو رات کے اوقات میں بھی پولیس سے رابطہ کرنے میں دشواری کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا۔ گھریلو تشدد، ہراسانی اور خواتین کے خلاف ہونے والے دیگر جرائم سے متعلق شکایات پر فوری ردعمل دینے کی کوشش کی جائے گی۔
پولیس حکام کے مطابق خواتین افسران کی ہر وقت موجودگی سے متاثرہ خواتین کو شکایت درج کرانے، ابتدائی قانونی معاونت حاصل کرنے اور متعلقہ کارروائی کے لیے بہتر سہولت میسر آئے گی۔ خاص طور پر ایسے معاملات میں جہاں متاثرہ خاتون مرد پولیس اہلکاروں کے سامنے تفصیلات بیان کرنے میں ہچکچاہٹ محسوس کرتی ہے، خواتین پولیس اہلکاروں کی موجودگی مددگار ثابت ہوسکتی ہے۔
فیصل کامران کا کہنا تھا کہ تھانوں میں خواتین پولیس کی مستقل موجودگی خواتین کے تحفظ اور انہیں فوری انصاف تک رسائی فراہم کرنے کی سمت ایک اہم پیشرفت ہے۔ اس فیصلے کے مؤثر عمل درآمد سے خواتین سے متعلق شکایات پر بروقت کارروائی اور پولیس پر اعتماد میں اضافے کی توقع کی جا رہی ہے۔
پولیس تھانوں میں خواتین افسران کی 24 گھنٹے موجودگی کا فیصلہ
