وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا ہے کہ افغانستان کی سرزمین مسلسل پاکستان کے خلاف دہشتگردی کے لیے استعمال ہو رہی ہے اور اس سنگین مسئلے کے خاتمے کے لیے عالمی سطح پر مشترکہ اقدامات ناگزیر ہیں۔
وزیر داخلہ نے یہ بات ناروے کے وزیر خارجہ ایسپن بارتھ ائیڈے سے ملاقات کے دوران کہی۔ ملاقات میں پاکستان اور ناروے کے درمیان باہمی تعاون کے مختلف شعبوں پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا، جن میں انسداد دہشتگردی، غیر قانونی امیگریشن کی روک تھام، پولیس کی تربیت اور قانونی معاونت شامل ہیں۔
دونوں رہنماؤں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ دہشتگردی اور سرحد پار جرائم جیسے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے ممالک کے درمیان مؤثر رابطہ اور تعاون ضروری ہے۔ ملاقات کے دوران افغانستان کی مجموعی صورتحال اور وہاں موجود کالعدم تنظیموں کی سرگرمیوں پر بھی تفصیل سے گفتگو ہوئی۔
محسن نقوی نے کہا کہ پاکستان ایک طویل عرصے سے دہشتگردی کے خلاف جنگ میں بھاری جانی اور مالی قربانیاں دے رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان صرف اپنے داخلی امن کے لیے نہیں بلکہ خطے اور دنیا کے امن کے لیے بھی دہشتگردی کے خلاف اہم کردار ادا کر رہا ہے۔
وفاقی وزیر داخلہ نے زور دیا کہ دہشتگردی ایک ایسا مسئلہ ہے جس سے کسی ایک ملک کی کوششوں سے مکمل طور پر نہیں نمٹا جا سکتا۔ اس کے لیے علاقائی اور عالمی سطح پر تعاون کو مزید مضبوط بنانا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان دہشتگردی اور دنیا کے درمیان ایک مضبوط دیوار کی طرح کھڑا ہے اور دہشتگردی کے مکمل خاتمے کے لیے تمام متعلقہ ممالک کو اپنی ذمہ داریاں پوری کرنا ہوں گی۔
ملاقات میں غیر قانونی امیگریشن کے مسئلے پر بھی تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا گیا۔ پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی تربیت، معلومات کے تبادلے اور قانونی معاونت کے ذریعے دونوں ممالک کے تعلقات کو مزید مضبوط بنانے پر بھی بات چیت ہوئی۔
افغانستان سے دہشتگردی پر محسن نقوی کا دوٹوک مؤقف
