Baaghi TV

ایران جنگ میں امریکا کے ایم کیو نائن ریپر ڈرونز کے ذخیرے کا ایک چوتھائی ختم

‎ایران کے ساتھ جنگ کے دوران امریکا کو اپنے جدید ایم کیو نائن ریپر ڈرونز کے حوالے سے بڑا نقصان اٹھانا پڑا ہے۔ امریکی اخبار کی ایک رپورٹ کے مطابق جنگ کے دوران 45 ایم کیو نائن ریپر ڈرونز تباہ ہوئے یا مختلف کارروائیوں میں گرا دیے گئے، جس کے بعد امریکا کے دستیاب ڈرونز کے ذخیرے میں نمایاں کمی واقع ہوئی ہے۔
‎رپورٹ کے مطابق تباہ ہونے والے ڈرونز کی مجموعی مالیت ایک ارب ڈالر سے زیادہ بنتی ہے۔ ایم کیو نائن ریپر امریکا کے جدید ترین بغیر پائلٹ فضائی نظاموں میں شمار ہوتا ہے، جسے نگرانی، انٹیلی جنس جمع کرنے اور فوجی کارروائیوں کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔
‎دستیاب معلومات کے مطابق جنگ سے قبل امریکا کے پاس ایم کیو نائن ریپر ڈرونز کی ایک بڑی تعداد موجود تھی، تاہم 45 ڈرونز کے نقصان کے بعد اب امریکی ذخیرے میں تقریباً 145 ڈرونز باقی رہ گئے ہیں۔ اس طرح جنگ کے دوران امریکا کے اس مخصوص ڈرون بیڑے کا تقریباً 25 فیصد حصہ ختم ہو چکا ہے۔
‎یہ نقصان امریکی فوجی حکمت عملی کے لیے بھی اہم سمجھا جا رہا ہے کیونکہ ریپر ڈرونز جدید جنگی کارروائیوں میں طویل فاصلے تک نگرانی اور اہداف کی نشاندہی کے لیے اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ ان ڈرونز کی مدد سے فوجی اہلکار خطرناک علاقوں میں براہ راست پائلٹ بھیجے بغیر معلومات حاصل کر سکتے ہیں اور مخصوص کارروائیاں انجام دے سکتے ہیں۔
‎ایران جنگ کے دوران امریکی فوجی سازوسامان کو ہونے والے نقصانات اور فضائی دفاعی نظاموں کی کارکردگی عالمی سطح پر توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہے۔ 45 جدید ڈرونز کا نقصان نہ صرف مالی اعتبار سے نمایاں ہے بلکہ اس سے امریکا کو اپنے بغیر پائلٹ فضائی بیڑے کی بحالی اور نئے ڈرونز کی تیاری کے حوالے سے بھی اضافی اقدامات کرنا پڑ سکتے ہیں۔
‎جنگی صورتحال کے دوران ڈرون ٹیکنالوجی کی اہمیت مسلسل بڑھ رہی ہے اور جدید فضائی دفاعی نظاموں کے باعث مہنگے بغیر پائلٹ طیاروں کو بھی شدید خطرات لاحق ہو رہے ہیں۔ امریکا کی جانب سے ان ڈرونز کے نقصانات کے بعد ممکنہ طور پر مستقبل کی جنگی حکمت عملی اور ڈرون آپریشنز پر مزید نظرثانی کی جائے گی۔

More posts