ایرانی پاسداران انقلاب کی بحریہ کے کمانڈر ریئر ایڈمرل علی اوزمائی نے دعویٰ کیا ہے کہ آبنائے ہرمز بدستور بند ہے اور اس حوالے سے امریکی حکام کے بیانات زمینی حقائق کی عکاسی نہیں کرتے۔
ایرانی کمانڈر نے کہا کہ آبنائے ہرمز کی موجودہ صورتحال کا درست اندازہ محض بیانات اور اعلانات سے نہیں بلکہ سمندری حدود میں جاری عملی صورتحال کو دیکھ کر لگایا جانا چاہیے۔ ان کے مطابق امریکی حکام کی جانب سے کیے جانے والے دعوے حقیقی صورتحال سے مختلف ہیں۔
ریئر ایڈمرل علی اوزمائی کا کہنا تھا کہ آبنائے ہرمز میں سمندری آمدورفت پر ایرانی پاسداران انقلاب کی بحری افواج کو مکمل اور فیصلہ کن کنٹرول حاصل ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس اہم سمندری گزرگاہ سے ہونے والی ہر قسم کی نقل و حرکت پر کڑی نظر رکھی جا رہی ہے۔
انہوں نے زور دے کر کہا کہ آبنائے ہرمز کی اصل صورتحال کا فیصلہ سیاسی بیانات یا سرکاری دعوؤں کی بنیاد پر نہیں بلکہ سمندر میں موجود عملی حقائق سے کیا جانا چاہیے۔ ایرانی کمانڈر کے مطابق پاسداران انقلاب کی بحری فورسز صورتحال پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہیں اور اپنی ذمہ داریوں کی انجام دہی کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں۔
آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین سمندری گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے اور خطے میں کشیدگی کے باعث اس کی صورتحال عالمی توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہے۔ اس راستے سے ہونے والی سمندری نقل و حرکت میں کسی بھی رکاوٹ کے عالمی تجارت اور توانائی کی منڈیوں پر اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
ایرانی کمانڈر کے تازہ بیان کے بعد آبنائے ہرمز کی صورتحال سے متعلق مختلف فریقوں کے متضاد دعوے ایک بار پھر سامنے آگئے ہیں، جبکہ خطے میں جاری کشیدگی کے باعث اس اہم سمندری راستے کی صورتحال پر گہری نظر رکھی جا رہی ہے۔
امریکی دعوے زمینی حقائق کے برعکس، آبنائے ہرمز اب بھی بند ہے: ایرانی کمانڈر
