Baaghi TV

اپووا کے زیر اہتمام جشنِ آزادی تقریب، شہداء اے پی ایس کے والدین کی شرکت،ایوارڈ تقسیم

آل پاکستان رائٹرز ویلفیئر ایسوسی ایشن (اپووا) کے زیرِ اہتمام 14 اگست کی مناسبت سے جشنِ آزادی کی ایک پروقار تقریب لاہور کے معروف ہوٹل پاک ہیریٹیج میں منعقد ہوئی۔ تقریب سینئر وائس چیئرمین ملک یعقوب اعوان کی سرپرستی اور بانی و صدر ایم ایم علی کی زیرِ نگرانی منعقد ہوئی، جبکہ معروف شاعر، استاد اور کالم نگار ناصر بشیر نے تقریب کی صدارت کی۔

تقریب میں ادب، صحافت، تعلیم، سماجی خدمت، طب، فنون اور دیگر شعبہ ہائے زندگی میں نمایاں خدمات انجام دینے والی شخصیات کو شانِ پاکستان ایوارڈز سے نوازا گیا۔ تقریب کی نظامت کے فرائض سمیرا شفق اور قرۃ العین خالد نے خوبصورتی سے انجام دیے۔تقریب کا آغاز حافظ محمد زاہد کی تلاوتِ کلامِ پاک سے ہوا، جبکہ فائزہ شہزاد نے بارگاہِ رسالت ﷺ میں نعتِ رسولِ مقبول ﷺ پیش کی۔

جشنِ آزادی کی اس تقریب کا سب سے منفرد، جذباتی اور یادگار پہلو سانحہ اے پی ایس پشاور میں شہید ہونے والے معصوم بچوں کے والدین کی خصوصی شرکت تھی، جو پشاور سے لاہور تشریف لائے۔تقریب کے دوران جب شہدائے اے پی ایس کے والدین کو خصوصی طور پر اسٹیج پر مدعو کیا گیا اور ان کے شہید بچوں کی عظیم قربانیوں کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے ایوارڈز دیے گئے تو پورا ہال جذباتی کیفیت میں ڈوب گیا۔اسی موقع پر ڈی جے کی جانب سے ملی جذبے سے بھرپور نغمہ "مجھے دشمن کے بچوں کو پڑھانا ہے” پیش کیا گیا۔ نغمے کے ساتھ ہی تقریب کا ماحول انتہائی جذباتی ہوگیا۔ شہداء کے والدین، مہمانوں اور شرکاء کی آنکھیں اشکبار ہوگئیں۔ وہ لمحہ ایسا تھا کہ ہال میں موجود شاید ہی کوئی آنکھ ہو جو نم نہ ہوئی ہو۔شہدائے اے پی ایس کے والدین کی لاہور آمد نے جشنِ آزادی کی اس تقریب کو ایک منفرد اور تاریخی حیثیت دے دی۔ اس موقع پر اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ پاکستان کے لیے جانوں کا نذرانہ پیش کرنے والے شہداء اور ان کے خاندانوں کی قربانیوں کو قوم کبھی فراموش نہیں کرے گی۔

تقریب سے راشد محمود، ظلِ ہما، عمر سلیم گھمن، ڈاکٹر فضیلت بانو، حسن راشد، اشفاق احمد، سامعہ خان، ایم اے شہزاد خان، طاہرہ سراء،شہزادی گلفام، کرنل آصف ڈار، فائزہ شہزاد، ناز پروین، ڈاکٹر شاہدہ سردار، ندیم نظر، چوہدری غلام غوث، ریاض احمد احسان اور سیدہ فائزہ شیرازی اور عابدہ سمیت متعدد نامور شخصیات نے خطاب کیا۔مقررین نے اپنے خطابات میں کہا کہ پاکستان ہمارے بزرگوں کی بے شمار قربانیوں کا ثمر ہے۔ آزادی ایک عظیم نعمت ہے اور اس نعمت کی حفاظت ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک کی ترقی، خوشحالی، سلامتی اور استحکام کے لیے ہر شہری کو اپنی صلاحیتوں کے مطابق مثبت کردار ادا کرنا چاہیے۔مقررین نے بالخصوص شہدائے پاکستان اور شہدائے اے پی ایس کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ ان کی قربانیاں قوم کے لیے ہمیشہ مشعلِ راہ رہیں گی۔

تقریب کے دوران پاکستان کے مختلف علاقوں کی ثقافت کو بھی اجاگر کیا گیا۔ کے پی کی جنرل سیکرٹری ناز پروین کی جانب سے بانی و صدر اپووا ایم ایم علی کو کے پی کی روایتی ثقافتی پگڑی پہنائی گئی، جبکہ سینئر وائس چیئرمین ملک یعقوب اعوان کو چترالی ٹوپی پہنائی گئی۔ عمر سلیم گھمن کو بھی ثقافتی پگڑی پہنائی گئی۔ثقافتی روایات کے اس خوبصورت اظہار نے تقریب کے حسن میں مزید اضافہ کیا اور پاکستان کے مختلف صوبوں اور ثقافتوں کے درمیان محبت، یگانگت اور قومی یکجہتی کا پیغام اجاگر کیا۔

تقریب کے آغاز سے قبل شرکاء کے لیے پرتکلف لاہوری بوفے ناشتے کا اہتمام کیا گیا، جس سے مہمانوں اور شرکاء نے بھرپور لطف اٹھایا۔ روایتی لاہوری ذائقوں سے مہمانوں کی تواضع تقریب کی خوبصورت روایات میں شامل رہی۔

تقریب کے اختتام پر فائزہ شہزاد کی کتاب کی رونمائی بھی کی گئی، جبکہ ان کی سالگرہ کا کیک کاٹ کر انہیں مبارکباد پیش کی گئی۔ اس کے علاوہ سلمیٰ کشم، عافیہ بزمی، ناہید گل، ردا امانت، حسن علی اور قاسم خان کی سالگرہ کے کیک بھی کاٹے گئے۔جشنِ آزادی کی اس پروقار تقریب نے جہاں قومی جذبے، حب الوطنی اور آزادی کی خوشیوں کو اجاگر کیا، وہیں شہدائے اے پی ایس کے والدین کی شرکت نے اسے ایک ایسی یادگار تقریب بنا دیا جس میں قومی خوشی، شہداء سے عقیدت، ثقافتی رنگ، ادبی سرگرمی اور انسانی جذبات سب ایک ساتھ نظر آئے۔تقریب کے اختتام پر پاکستان کی سلامتی، خوشحالی، ترقی، استحکام اور شہدائے وطن کے درجات کی بلندی کے لیے خصوصی دعا کی گئی،اور تقریب کے اختتام پر سانحہ اے پی ایس کے شہدا کے والدین نے ایم ایم علی کو بھی یادگاری شیلڈ پیش کی

More posts