یورپی سوشل ڈیموکریٹک حلقوں سے وابستہ معروف جریدے، آئی پی ایس جرنل، نے پاکستان کی امریکا ایران کشیدگی دور کرنے کی کوششوں کی تائید کر دی۔
آئی پی ایس جرنل نے 14 اگست کو پاکستان ، دی پیس میکر، کے عنوان سے مضمون شائع کرتے ہوئے پاکستان کو واشنگٹن، تہران رابطہ برقرار رکھنے والا مؤثر سفارتی کردار قرار دیا،کہا گیا کہ اسلام آباد میمورنڈم خطے کو وسیع جنگ سے بچانے کے لیے واحد قابلِ عمل سفارتی فریم ورک ہے۔ پاکستان نے امریکا اور ایران کے درمیان اعلیٰ سطحی مذاکرات کی راہ ہموار کرکے اہم سفارتی کامیابی حاصل کی۔ پاکستان کی جغرافیائی پوزیشن اور امریکہ اور ایران دونوں سے دیرینہ روابط اسے موثر ثالثی میں منفرد مقام دیتے ہیں۔ پاکستان نے کشیدگی کم کرنے اور مذاکرات بحال رکھنے کے لیے محتاط اور خاموش سفارت کاری اختیار کی۔ پاکستان نے فریقین کے مؤقف پر فیصلہ سنانے کے بجائے مذاکرات اور کشیدگی میں کمی کو اپنی سفارت کاری کا محور بنایا۔ پاکستان نے متحارب فریقوں کے درمیان رابطے کا پل بننے کی اپنی تاریخی سفارتی روایت کو دوبارہ زندہ کیا۔ پاکستان نے واشنگٹن اور تہران کے درمیان اعتماد اور رسائی کو سفارتی اثاثے میں تبدیل کیا۔ پاکستان نے بیانات بازی کے بجائے محتاط اور نتیجہ خیز سفارت کو ترجیح دی۔ پاکستانی سفارت کاری نے ایسے ماحول میں ایرانی مذاکرات کاروں کے لیے محفوظ سفارتی گنجائش فراہم کی جب خطے میں مذاکرات کو شدید خطرات لاحق تھے۔ پاکستان کی کوششوں سے 1979 کے بعد امریکا ایران کے درمیان اعلیٰ ترین سطح کے مذاکرات کی راہ ہموار ہوئی۔ 2015 کے ایٹمی معاہدے سے امریکہ کے انخلاء کے بعد یورپی ممالک ایران کو وعدہ کردہ اقتصادی فوائد فراہم کرنے میں ناکام ثابت ہوئے۔ یورپی سفارتی اثر و رسوخ محدود ہونے کے بعد پاکستان ایران کے معاملے میں نمایاں علاقائی سفارتی مرکز بن کر ابھرا۔ یورپ کے برعکس پاکستان نے علاقائی رسائی، اعتماد اور فریقین سے روابط کو اپنی سفارتی طاقت بنایا۔ یورپی یونین نے پاکستان کے ثالثی کردار کا خیرمقدم کرتے ہوئے پائیدار معاہدے کی ضرورت پر زور دیا۔ پاکستان اور یورپ کا مشترکہ مفاد خطے میں وسیع جنگ کو روکنا اور پائیدار امن قائم کرنا ہے،پاکستان کا موجودہ کردار ثابت کرتا ہے کہ علاقائی طاقتیں عالمی تنازعات کے حل میں بڑھتا ہوا سفارتی اثر رکھتی ہیں۔ پاکستان کی ایران ثالثی کثیر قطبی دنیا میں نئے علاقائی مراکزِ سفارتی اثر کے ابھرنے کی مثال ہے۔ پاکستان نے موجودہ بحران میں فریق بننے کے بجائے امن، مذاکرات اور رابطے کے ذریعے ذمہ دار علاقائی کردار اجاگر کیا۔
