طالبان نائب سربراہِ انٹیلیجنس نے کہا کہ کچھ عناصر طالبان کی 20 سالہ جنگ کی کامیابیوں کو نقصان پہنچانے کے لیے سرگرم ہیں، ایسی کوششوں کے مختلف پہلوؤں کی نگرانی کی جا رہی ہے اور ان کے مقاصد ناکام بنانے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں-
افغان طالبان کے نائب سربراہِ انٹیلیجنس تاجمیر جواد نے طالبان انتظامیہ کے اندر موجود ’موقع پرست عناصر‘ کی موجودگی کا اعتراف کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ نظام کو کمزور کرنے کی کوشش کرنے والوں پر نظر رکھی جا رہی ہے اور ان کے خلاف ضروری کارروائی کی جائے گی انہوں نے یہ بیان طالبان کی اقتدار میں واپسی کی پانچویں سالگرہ کے موقع پر دیا۔
جواد کے مطابق طالبان نظام کو مضبوط بنانے کے لیے نظریاتی، فکری اور مذہبی وابستگی رکھنے والے افراد کی ضرورت ہے، جبکہ صرف مالی مفادات کے لیے طالبان میں شامل ہونے والوں سے نظام کے لیے جدوجہد اور قربانی کی توقع نہیں کی جاسکتی۔
طالبان نائب سربراہِ انٹیلیجنس نے کسی کا نام لیے بغیر کہا کہ ماضی میں بعض افراد کو سوویت یونین کے خلاف ’جہاد کی کامیابیوں‘ کو نقصان پہنچانے کے لیے استعمال کیا گیا، اسی طرح اب بھی کچھ عناصر طالبان کی 20 سالہ جنگ کی کامیابیوں کو نقصان پہنچانے کے لیے سرگرم ہیں، ایسی کوششوں کے مختلف پہلوؤں کی نگرانی کی جا رہی ہے اور ان کے مقاصد ناکام بنانے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں-
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب افغانستان میں طالبان مخالف مسلح گروہوں کی سرگرمیوں اور حملوں میں حالیہ دنوں کے دوران اضافہ ہوا ہے۔ افغانستان انٹرنیشنل کے مطابق بدخشان کے ضلع نُسی میں منحرف طالبان کمانڈر جمعہ خان فتح کے حامیوں اور طالبان فورسز کے درمیان لڑائی پانچویں روز میں داخل ہوگئی ہے۔
