امریکا کی معروف اسقاط حمل مخالف تنظیم لائیو ایکشن نے 13 اسقاط حمل کے حق میں سرگرم کارکنوں کے مطالبات مسترد کرتے ہوئے واضح کردیا ہے کہ وہ اپنی پرانی رپورٹنگ حذف نہیں کرے گی اور نہ ہی وسیع پیمانے پر تردید یا معذرت جاری کرے گی۔
فاکس نیوز کی رپورٹ کے مطابق ان کارکنوں کے وکلا نے لائیو ایکشن پر الزام عائد کیا تھا کہ تنظیم نے ان کی حمل سے متعلق معلومات کے بارے میں غلط اور ہتک آمیز دعوے شائع کیے۔ اس کے بعد مطالبہ کیا گیا کہ تنظیم برسوں پر مشتمل اپنی متعلقہ رپورٹنگ ہٹائے اور شائع شدہ مواد کی تردید کرے۔
تاہم لائیو ایکشن کی نمائندگی کرنے والی قانونی تنظیم تھامس مور سوسائٹی نے سخت جواب دیتے ہوئے مطالبات ماننے سے انکار کردیا۔ وکلا نے مؤقف اختیار کیا کہ اسقاط حمل کے حوالے سے تنظیم کی متعدد آراء اور رپورٹنگ آئینی طور پر اظہار رائے کی آزادی کے تحت محفوظ ہیں۔
تنازع کا ایک اہم پہلو اسقاط حمل کو بیان کرنے کے لیے استعمال کیے جانے والے الفاظ ہیں۔ لائیو ایکشن اسقاط حمل کے لیے "قتل” اور "جان لینا” جیسے الفاظ استعمال کرتی ہے، جبکہ مخالف فریق کا مؤقف ہے کہ اس قسم کی زبان بعض افراد کے بارے میں غلط اور نقصان دہ تاثر پیدا کرسکتی ہے۔
تھامس مور سوسائٹی کے ایگزیکٹو نائب صدر اور قانونی شعبے کے سربراہ پیٹر برین نے کہا کہ لائیو ایکشن اسقاط حمل سے متعلق رپورٹنگ بند نہیں کرے گی۔ ان کے مطابق تنظیم اپنے آرکائیو سے مواد حذف کرنے، وسیع پیمانے پر تردید جاری کرنے یا مستقبل کی رپورٹنگ پر پابندی قبول کرنے کے لیے تیار نہیں۔
برین نے اسے آزادی اظہار کا بنیادی معاملہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ماضی میں ایسے قانونی معاملات میں عدالتوں نے اسقاط حمل کو "قتل” قرار دینے جیسے بیانات کو ہتک عزت کے زمرے میں نہیں رکھا۔
یہ معاملہ اگر عدالت تک پہنچتا ہے تو امریکا میں آزادی اظہار، اسقاط حمل سے متعلق سیاسی و سماجی بحث اور میڈیا یا تنظیموں کی قانونی ذمہ داریوں کے حوالے سے ایک اہم قانونی تنازع بن سکتا ہے۔
اسقاط حمل سے متعلق رپورٹنگ حذف کرنے کا مطالبہ مسترد
