امریکی سپریم کورٹ نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی اس درخواست کو مسترد کردیا ہے جس میں انہوں نے مصنفہ ای جین کیرول کو جنسی زیادتی اور ہتک عزت کے مقدمے میں دیے گئے 50 لاکھ ڈالر کے ہرجانے کے عدالتی فیصلے کو کالعدم قرار دینے کی اپیل کی تھی۔
ٹرمپ نے سپریم کورٹ سے درخواست کی تھی کہ عدالت جون میں ان کی ابتدائی اپیل مسترد کیے جانے کے فیصلے پر دوبارہ غور کرے۔ تاہم اعلیٰ عدالت نے ان کی نئی درخواست بھی مسترد کردی، جس کے بعد جیوری کا فیصلہ برقرار رہے گا۔
یہ مقدمہ ای جین کیرول کی جانب سے نیویارک میں دائر کیے گئے ایک وفاقی مقدمے سے متعلق ہے۔ کیرول نے الزام عائد کیا تھا کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے 1996 میں ایک ڈپارٹمنٹ اسٹور کے ڈریسنگ روم میں ان کے ساتھ جنسی زیادتی کی تھی۔
بعد ازاں اس معاملے نے اس وقت مزید قانونی شکل اختیار کی جب ٹرمپ نے کیرول کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے انہیں جھوٹا اور دھوکا قرار دیا۔ کیرول نے ان بیانات کو ہتک عزت قرار دیتے ہوئے بھی عدالت سے رجوع کیا۔
2023 میں مقدمے کی سماعت کرنے والی جیوری نے فیصلہ دیا تھا کہ ٹرمپ نے ای جین کیرول کے ساتھ جنسی زیادتی کی اور بعد میں اپنے بیانات کے ذریعے ان کی ہتک عزت بھی کی۔ تاہم جیوری نے کیرول کے ریپ سے متعلق دعوے کو قانونی طور پر ثابت قرار نہیں دیا تھا۔
عدالت کے فیصلے کے بعد ٹرمپ کو 50 لاکھ ڈالر ہرجانہ ادا کرنے کا حکم دیا گیا تھا۔ رپورٹ کے مطابق سپریم کورٹ کی جانب سے ان کی ابتدائی اپیل مسترد ہونے کے بعد ٹرمپ نے یہ رقم ادا کردی تھی۔
تازہ فیصلے سے ٹرمپ کی اس قانونی کوشش کو ایک اور دھچکا لگا ہے، کیونکہ سپریم کورٹ نے معاملے پر دوبارہ غور کرنے سے انکار کردیا ہے۔ اس کے نتیجے میں ای جین کیرول کے حق میں دیا گیا 50 لاکھ ڈالر کا فیصلہ برقرار رہے گا۔
سپریم کورٹ کی جنسی زیادتی اور ہتک عزت کیس میں ٹرمپ کی اپیل مسترد
