Baaghi TV

راجستھان کا 200 سال سے زائد پرانا پراسرار گاؤں،جہاں 800 افراد نے راتوں رات ہجرت کی

village

راجستھان کے جیسلمیر کے قریب واقع کلدھرا گاؤں کی 200 سال سے زیادہ پرانی ویران بستی کی تصاویر اور ویڈیوز سوشل میڈیا پر وائرل ہو رہی ہیں، جوآج بھی راجستھان کی سب سے زیادہ دلچسپ اور پراسرار تاریخی بستیوں میں شامل ہیں-

حال ہی میں ایک سوشل میڈیا انفلوئنسر نے کلدھرا کا دورہ کیا اور وہاں کی ویڈیو شیئر کی ویڈیو میں اس نے اس مقام کو ایک ایسی بستی کے طور پر دکھایا جہاں کبھی سینکڑوں لوگ آباد تھے، لیکن پھر ایک وقت آیا جب پوری آبادی اپنے گھر چھوڑ کر چلی گئی،یہی پرانی کہانی ایک بار پھر لوگوں کی توجہ حاصل کر رہی ہے کہ آخر ایسا کیا ہوا تھا کہ کلدھرا اچانک ویران ہوگیا؟

سب سے مشہور روایت کے مطابق یہ واقعہ جیسلمیر ریاست کے طاقتور وزیر سلیم سنگھ سے جڑا ہوا ہے کہا جاتا ہے کہ سلیم سنگھ کی نظر گاؤں کے سربراہ کی بیٹی پر تھی اور وہ اس سے شادی کرنا چاہتا تھا گاؤں والوں نے اس مطالبے کو قبول کرنے سے انکار کیا تو مبینہ طور پر انہیں سنگین نتائج کی دھمکی دی گئی۔

کہا جاتا ہے کہ کلدھرا کے لوگوں نے دباؤ قبول کرنے کے بجائے گاؤں چھوڑنے کا فیصلہ کیا صرف کلدھرا ہی نہیں بلکہ آس پاس کی پالیوال بستیوں کے لوگ بھی مبینہ طور پر اس فیصلے میں شامل ہوئے اور لوگ راتوں رات اپنے گھر چھوڑ کر چلے گئے اور جاتے وقت اس زمین کو بددعا دے گئے کہ یہاں دوبارہ کوئی آباد نہیں ہوسکے گا۔

یہی وہ مقام ہے جہاں سے کلدھرا کی ’آسیب زدہ گاؤں‘ والی شہرت شروع ہوتی ہے آج بھی بعض لوگ سمجھتے ہیں کہ گاؤں پر اس بددعا کا اثر ہے اور اسی وجہ سے یہاں دوبارہ مستقل آبادی قائم نہیں ہوسکی۔ لیکن کلدھرا کی حقیقت اس مشہور کہانی سے کہیں زیادہ پیچیدہ ہوسکتی ہے۔

تاریخی ریکارڈ بتاتے ہیں کہ کلدھرا کبھی ایک خوشحال بستی تھی،جیسلمیر سے تقریباً 17 سے 20 کلومیٹر جنوب مغرب میں واقع یہ گاؤں پالیوال برہمنوں کی آبا دی تھا راجستھان ٹورازم کے مطابق اس کی بنیاد 1291 میں رکھی گئی تھی اور سخت صحرائی ماحول کے باوجود یہ بستی کئی صدیوں تک ترقی کرتی رہی۔

پالیوال لوگ زراعت کے ماہر سمجھے جاتے تھے انہوں نے صحرائی علاقے میں پانی کو محفوظ کرنے اور استعمال کرنے کے ایسے طریقے اختیار کیے جن کی مدد سے خشک زمین پر بھی فصلیں اگائی جاتی تھیں کلدھرا دراصل پالیوال برہمنوں کی تقریباً 84 بستیوں پر مشتمل ایک بڑے سماجی اور معاشی نظام کا حصہ تھا۔

اپنے عروج کے زمانے میں کلدھرا میں تقریباً 400 سے 600 عمارتیں موجود تھیں اور یہاں تقریباً 1,600 افراد رہتے تھے لیکن بعد کے برسوں میں آبادی میں کمی آنا شروع ہوگئی دستیاب تاریخی معلومات کے مطابق 1815 تک یہاں تقریباً 800 افراد رہ گئے تھے، جو لگ بھگ 200 گھروں میں آباد تھے۔

یہ اعداد و شمار ایک اہم سوال اٹھاتے ہیں اگر آبادی 1815 سے پہلے ہی کم ہونا شروع ہوگئی تھی تو کیا واقعی پورا گاؤں صرف ایک رات میں خالی ہوا تھا؟

مورخین اور محققین کے مطابق اس سوال کا کوئی ایسا حتمی دستاویزی جواب موجود نہیں جو راتوں رات ہونے والی مکمل ہجرت کی مشہور کہانی کی تصدیق کرسکے بعض تحقیقات میں گاؤں کی ویرانی کی مختلف ممکنہ وجوہات سامنے آتی ہیں، جن میں معاشی مشکلات، تجارت کے راستوں میں تبدیلی، پانی کی قلت اور بڑھتے ہوئے ٹیکس شامل ہیں۔

اس لیے ایک امکان یہ بھی ہے کہ کلدھرا کی آبادی ایک ہی واقعے کے نتیجے میں ختم نہیں ہوئی بلکہ لوگوں نے مختلف وجوہات کی بنا پر وقت کے ساتھ یہاں سے نقل مکانی کی۔

بھوتوں اور بدروحوں سے متعلق دعووں کے بارے میں بھی کوئی قابل اعتماد سائنسی ثبوت سامنے نہیں آیا، مقامی افراد نے بھی ان کہانیوں سے اختلاف کیا ہے پی ٹی آئی کی ایک رپورٹ کے مطابق کلدھرا کے قریب رہنے والے لوگوں کا کہنا ہے کہ انہوں نے برسوں اس علاقے میں رہتے ہوئے کوئی غیر معمولی واقعہ نہیں دیکھا وہاں موجود ایک نگہبان نے بھی کسی پراسرار تجربے کی تردید کی۔

آج کلدھرا ایک محفوظ تاریخی ورثے کے مقام کے طور پر موجود ہے اس کے پرانے مکانات، تنگ گلیاں، مندر اور ریت میں کھڑے خستہ حال ڈھانچے سیاحوں کو ماضی کی زندگی کی جھلک دکھاتے ہیں یہی کھنڈرات اور ان سے جڑی کہانیاں ہر سال بڑی تعداد میں لوگوں کو یہاں کھینچ لاتی ہیں۔

یوں کلدھرا کا سب سے بڑا راز شاید یہ نہیں کہ یہاں بھوت ہیں یا نہیں، بلکہ یہ ہے کہ ایک زمانے میں آباد اور خوشحال رہنے والی یہ بستی آخر ویران کیوں ہوئی۔

800 افراد کی آبادی، راتوں رات ہجرت کی مشہور داستان، سلیم سنگھ کی مبینہ دھمکی اور زمین کو دی گئی بددعا نے کلدھرا کو ایک پراسرار شناخت ضرور دے دی ہے، لیکن تاریخی شواہد یہ بھی بتاتے ہیں کہ اس ویرانی کے پیچھے کئی معاشی اور ماحولیاتی عوامل ہوسکتے ہیں یہی حقیقت اور افسانے کا امتزاج کلدھرا کو آج بھی راجستھان کی سب سے زیادہ دلچسپ اور پراسرار تاریخی بستیوں میں شامل رکھتا ہے۔

More posts