پسرور میں بکری سے مبینہ بدفعلی کے الزام میں درج مقدمے کے بعد ایک 70 سالہ شہری محمد شبیر نے ایف آئی آر کو جھوٹا اور بے بنیاد قرار دیتے ہوئے شفاف تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔
پولیس ریکارڈ کے مطابق تھانہ سٹی پسرور میں 13 اگست 2026 کو مقدمہ درج کیا گیا۔ درخواست گزار کے مطابق 12 اگست کی رات اس کے پیٹرول پمپ کے عقب میں قائم بکریوں کے باڑے سے آواز آنے پر وہ دیگر افراد کے ہمراہ وہاں پہنچا، جہاں مبینہ طور پر ایک شخص کو بکری کے ساتھ بدفعلی کرتے ہوئے دیکھا گیا۔ درخواست میں الزام عائد کیا گیا کہ ملزم موقع سے فرار ہوگیا۔
دوسری جانب محمد شبیر نے اپنے خلاف عائد الزام اور مقدمے کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کی دوسری پارٹی کے ساتھ پہلے لڑائی جھگڑا ہوا تھا، جس کے بعد انہیں مبینہ طور پر جھوٹی درخواست میں نامزد کروا دیا گیا۔محمد شبیر کا کہنا ہے کہ وہ تقریباً 70 سال کے بزرگ ہیں اور ناف سے نیچے فائر لگنے کے باعث شدید جسمانی مشکلات کا شکار ہیں، اس لیے ان پر عائد الزام بے بنیاد ہے۔ انہوں نے تھانہ سٹی پسرور کے ایس ایچ او اور ڈی پی او سیالکوٹ سے اپیل کی ہے کہ معاملے کی غیر جانب دارانہ اور شفاف انکوائری کی جائے اور حقائق سامنے لائے جائیں۔شہری نے مطالبہ کیا ہے کہ اگر تحقیقات میں مقدمہ بے بنیاد ثابت ہو تو اسے قانون کے مطابق خارج کیا جائے۔ پولیس کی جانب سے معاملے کی تفتیش جاری ہے، جبکہ حتمی حقائق تحقیقات مکمل ہونے کے بعد ہی سامنے آسکیں گے۔
