Baaghi TV

چین چاند پر برف کے ممکنہ ذخائر کا سراغ لگانے کیلئے تیار

Mission

سرکاری اخبار چائنا ڈیلی کے مطابق چین اپنے اگلے قمری مشن ’چانگ ای 7‘ کی تیاری مکمل کر رہا ہے جس کا مقصد چاند کے جنوبی قطبی علاقے میں پانی کی برف کے ممکنہ ذخائر کا سراغ لگانا ہے،یہ مشن چاند کے اس حصے کا تفصیلی جائزہ لے گا جہاں مستقل طور پر سایہ رہنے والے گڑھوں میں پانی کی موجودگی کے امکانات ظاہر کیے گئے ہیں۔

چین کی خلائی ایجنسی کے مطابق ’چانگ ای 7‘ خلائی جہاز اور اسے خلا میں لے جانے والا ’لانگ مارچ 5 وائی 14‘ راکٹ بدھ کی صبح جنوبی صوبے ہینان میں واقع وین چانگ خلائی لانچ مرکز منتقل کردیے گئے ہیں،لانچ سے قبل آنے والے دنوں میں خلائی انجینیئرز راکٹ اور خلائی جہاز کے آخری تکنیکی معائنے، مشترکہ ٹیسٹنگ اور ایندھن بھرنے کے مراحل مکمل کریں گے۔

’چانگ ای 7‘ کو چین کا اب تک کا سب سے پیچیدہ روبوٹک قمری مشن قرار دیا جارہا ہے یہ 4 اہم حصوں پر مشتمل ہے جن میں ایک مدار میں گردش کرنے والا خلائی جہاز، ایک لینڈر، سطح پر چلنے والا روور اور ایک خصوصی چھلانگ لگانے والا چھوٹا تحقیقاتی روبوٹ شامل ہےاس مشن کا مقصد چاند پر انتہائی درست لینڈنگ، ٹانگوں کی مدد سے حرکت کرنے والی ٹیکنالوجی اور ایسے گڑھوں کی تحقیق میں اہم پیشرفت حاصل کرنا ہے جہاں سورج کی روشنی کبھی نہیں پہنچتی۔

مشن کا خصوصی ’ہاپنگ منی پروب‘ تھرسٹرز کی مدد سے چاند کے ان تاریک گڑھوں میں داخل ہوگا جہاں براہ راست سورج کی روشنی نہیں پہنچتی یہ روبوٹ چاند کی سطح کے نیچے موجود مٹی میں پانی کے سالمات، ہائیڈروجن رکھنے والے عناصر اور دیگر اتار چڑھاؤ رکھنے والے مرکبات کا سراغ لگانے کی کوشش کرے گا۔

چین کی خلائی ایجنسی کے مطابق یہ مشن چاند کے جنوبی قطب کے ماحول اور وہاں موجود ممکنہ وسائل کا بڑے پیمانے پر جائزہ لے گا جبکہ اس میں بین الاقوامی تعاون کو بھی شامل کیا گیا ہے اب تک چین چھ کامیاب روبوٹک قمری مشن مکمل کرچکا ہے۔ اس کا گزشتہ مشن ’چانگ ای 6‘ تھا، جو 2024 میں مکمل ہوا53 روزہ اس مہم میں چین نے تاریخ میں پہلی مرتبہ چاند کے دور دراز حصے (فار سائیڈ) سے مٹی اور چٹانوں کے نمونے زمین پر واپس لانے میں کامیابی حاصل کی،اس مشن کے ذریعے چاند سے 1,935.3 گرام (تقریباً 4.27 پاؤنڈ) مواد زمین پر لایا گیا جسے سائنسی تحقیق کے لیے استعمال کیا جارہا ہے۔

More posts