کرپشن اور ناقص منصوبہ بندی رحمت کو زحمت بنا دیتی ہے
بارش وہاں رحمت بنتی ہے جہاں دیانت داری اور شہری شعور زندہ ہو
قومیں قدرتی آفات سے نہیں، اپنی غفلت اور کمزور نظام سے ڈوبتی ہیں
تجزیہ شہزاد قریشی
پاکستان میں مون سون کی بارشوں کا سلسلہ شروع ہوتے ہی ہر سال ایک ہی منظر سامنے آتا ہے۔ سڑکیں دریا بن جاتی ہیں، گلیاں تالاب کا منظر پیش کرتی ہیں، نشیبی علاقے زیرِ آب آ جاتے ہیں اور پھر تمام تر ذمہ داری بارش پر ڈال دی جاتی ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا واقعی قصور صرف بارش کا ہے؟
حقیقت یہ ہے کہ اس صورتحال کے پیچھے کئی عوامل کارفرما ہیں۔ سب سے پہلے وہ نظام ذمہ دار ہے جس میں ترقیاتی منصوبوں کے نام پر اربوں روپے خرچ کیے جاتے ہیں، مگر ان منصوبوں کا معیار انتہائی ناقص ہوتا ہے۔ جب ٹھیکے میرٹ کے بجائے سفارش، کمیشن اور ذاتی مفادات کی بنیاد پر دیے جائیں، جب نگرانی کرنے والے ادارے اپنی ذمہ داری پوری نہ کریں، جب کچھ انجینئر، افسران اور بااثر عناصر قومی وسائل کو امانت کے بجائے کمائی کا ذریعہ سمجھنے لگیں، تو پھر نالے بند ہوتے ہیں، نکاسیٔ آب کا نظام ناکام ہوتا ہے اور شہر بارش کے سامنے بے بس ہو جاتے ہیں۔
دوسری بڑی ذمہ داری ان اداروں اور افراد پر عائد ہوتی ہے جن کا کام منصوبوں کی نگرانی اور احتساب ہے۔ اگر چیک اینڈ بیلنس کا نظام مضبوط ہو، ناقص کام کرنے والوں کا احتساب ہو اور قومی خزانے کے ہر روپے کا حساب لیا جائے تو صورتحال بہت مختلف ہو سکتی ہے۔
لیکن ساری ذمہ داری صرف حکمرانوں، افسروں یا ٹھیکیداروں پر ڈال دینا بھی حقیقت سے فرار ہے۔ اس مسئلے میں عوام کا کردار بھی کم نہیں۔ ہم میں سے بہت سے لوگ روزانہ کچرا سڑکوں، نالیوں اور گٹروں میں پھینکتے ہیں۔ گھروں سے نکلنے والا فضلہ ڈسٹ بن تک پہنچانے کے بجائے گلی کے کنارے یا نالی میں ڈال دیا جاتا ہے۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ بارش کا پانی اپنے راستے بند پاتا ہے اور پورا نظام مفلوج ہو جاتا ہے۔
دنیا کے مختلف ممالک میں بھی شدید بارشیں ہوتی ہیں، لیکن وہاں منصوبہ بندی، دیانت داری، احتساب اور شہری شعور مل کر مسائل کو بحران بننے سے روکتے ہیں۔ قومیں صرف بڑے منصوبوں سے ترقی نہیں کرتیں بلکہ اپنی اجتماعی ذمہ داریوں کو سمجھنے سے ترقی کرتی ہیں۔
اگر ہم واقعی اپنے شہروں کو ڈوبنے سے بچانا چاہتے ہیں تو صرف بارش کو موردِ الزام ٹھہرانا کافی نہیں۔ ہمیں کرپشن، ناقص منصوبہ بندی، کمزور نگرانی اور اپنی سماجی بے حسی کا بھی جائزہ لینا ہوگا۔ جب تک ہم اپنی ذمہ داری قبول نہیں کریں گے، ہر مون سون ہمیں یہی سبق دہراتا رہے گا کہ قوموں کو تباہ کرنے کے لیے کسی بیرونی دشمن کی ضرورت نہیں ہوتی، بعض اوقات ان کی اپنی غلطیاں ہی کافی ہوتی ہیں۔
بارش رحمت ہے، لیکن جب دیانت داری، ذمہ داری اور شہری شعور ناپید ہو جائیں تو یہی رحمت زحمت کا روپ دھار لیتی ہے۔
