Baaghi TV

قومی اسمبلی اجلاس،ڈیفنس فورسز ترمیمی بل 2026 کی کثرت رائے سے منظوری

qomi

اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق کی زیر صدارت قومی اسمبلی کا اجلاس ہوا

قومی اسمبلی نے ڈیفنس فورسز ترمیمی بل 2026 کی کثرت رائے سے منظوری دیدی،قومی اسمبلی نے نیشنل کمانڈ اتھارٹی ترمیمی بل 2026 کی کثرت رائے سے منظوری دے دی،نیشنل کمانڈ اتھارٹی ترمیمی بل 2026 وزیر دفاع خواجہ آصف نے پیش کیا ،مجوزہ ترمیم میں کہا گیا کہ نیشنل کمانڈ اتھارٹی میں چیف آف ڈیفنس فورسز کو شامل کیا جائے گا۔ اتھارٹی کی تشکیل سے چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی کو ہٹا دیا جائے گا۔

چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر کو بات کرنے کا موقع نہ دینے پر اپوزیشن نے واک آؤٹ کیا،

قبل ازیں وزیر دفاع خواجہ آصف نے قومی اسمبلی اجلاس میں دفاعی فورسز ایکٹ 2026 ایوان میں پیش کر دیا،محمود خان اچکزئی کی جانب سے بل کی مخالفت کی گئی، محمود اچکزئی نے کہا کہ ہم نےبل کا مسودہ ہی نہیں دیکھا، اتنا اہم بل ایوان میں لایا جارہا ہے مگر ارکان کے پاس اس کی کاپی تک موجود نہیں، یہ کیسا ایوان ہے جہاں قانون سازی بلڈوز کی جارہی ہے؟ انہوں نے امریکا کی ایران سے متعلق پابندیوں پر بھی حکومت کو متحد ہوکر جواب دینے کا مطالبہ کیا اور کہا کہ حکومت عمران خان کی اسپتال منتقلی اور صوبوں کے معاملات میں الجھی ہوئی ہے،

قومی اسمبلی اجلاس میں‌ بل پیش کرنے کے لیے آج کا ایجنڈا معطل کردیا گیا، جبکہ اپوزیشن نے بل کی کاپی ٹیب پر دستیاب نہ ہونے پر شدید احتجاج اور شور شرابا شروع کردیا۔

دوسری جانب وزیراعظم شہباز شریف کی ایوان میں اپوزیشن بینچوں پر آمدہوئی،وزیراعظم نے بیرسٹر گوہر، اسد قیصر، محمود خان اچکزئی سے مصافحہ کیا،اپوزیشن کو ایک بار پھر مذاکرات کی دعوت دی، جس پر بیرسٹر گوہر کا کہنا تھا کہ ہمیں دعوت قبول، نتیجہ خیز مذاکرات کریں،

دوسری جانب قومی اسمبلی اجلاس کی لائیو سٹریمنگ بند کر دی گئی،

قبل ازیں تحریکِ انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر نے کہا ہے کہ پاکستان تحریکِ انصاف نے کبھی بھی ڈیفنس فورسز سے متعلق قوانین کو متنازع نہیں بنایا،اسلام آباد میں پارلیمانی راہداری میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہم نہیں چاہتے کہ پاکستان کا دفاع مضبوط نہ ہو، ڈیفنس فورسز ایکٹ کا معاملہ ٹیکنیکل نوعیت کا ہے ہمارے ساتھ کچھ بات نہیں کی گئی.بیرسٹر گوہر نے کہا کہ عوام کو بھی نہیں پتہ کہ کیا قانون سازی کی جا رہی ہے، میں نے پہلے بھی مطالبہ کیا تھا کہ جو قانون سازی کرتے ہیں اس کو پہلے پارلیمان میں لائیں،کوئی قانون سازی ہو تو اسے پہلے ممبرانِ اسمبلی کے سامنے رکھا جائے اور بحث کی جائے، جو کچھ آپ ایکٹ میں ڈالتے ہیں اس کو پارلیمان کے سامنے رکھا جائے، یہ ٹیکنیکل نوعیت کا معاملہ ہے، پاکستان ہمارا ہے، پاک فوج ہماری ہے

More posts