Baaghi TV

بانی پی ٹی آئی کی رہائی پر فوج سے محاذ آرائی نہیں ہوگی، زلفی بخاری

PTI

اڈیالہ جیل میں قید سابق وزیراعظم عمران خان رہائی کی صورت میں فوج یا آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر کے ساتھ محاذ آرائی نہیں کریں گے، عمران خان کے قریبی ساتھی اور پاکستان تحریک انصاف کے ترجمان ذوالفقار بخاری نے رائٹرز کو انٹرویو میں کہا ہے۔

ذوالفقار بخاری کا کہنا تھا کہ اگر عمران خان کل رہا ہوجائیں تو وہ ایسا کوئی اقدام نہیں کریں گے جس سے ملک کو نقصان پہنچے۔ ان کے مطابق عمران خان ایک ’’وسیع ظرف‘‘ شخصیت ہیں اور ملک کی بہتری کے لیے ذاتی تکلیف اور دکھ کو برداشت کرسکتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ اس کا مطلب یہ نہیں کہ عمران خان ریاستی اداروں یا فوجی قیادت سے محاذ آرائی کریں گے، بلکہ وہ اپنے ذاتی دکھ اور تکلیف کو ملک کے مفاد کے لیے قابو میں رکھیں گے۔

یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب سپریم کورٹ نے عمران خان کو علاج کے لیے جیل سے نجی اسپتال منتقل کرنے کا حکم دیا ہے۔ عدالت نے حکام کو 48 گھنٹوں کے اندر 73 سالہ عمران خان کو اسپتال منتقل کرنے کی ہدایت کی تھی۔

ذوالفقار بخاری نے سپریم کورٹ کے فیصلے کو ’’امید کی نئی کرن‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ تحریک انصاف عدالت کی اس ہدایت پر عمل کرے گی کہ کارکن اور رہنما عمران خان کے علاج کے دوران اسپتال کے باہر اجتماع نہ کریں۔تاہم جمعرات کی سہ پہر تک عمران خان کو اسپتال منتقل نہیں کیا گیا تھا، جبکہ یہ بھی واضح نہیں تھا کہ حکومت عدالت کی جانب سے تکنیکی بنیادوں پر مسترد کی جانے والی درخواست کے خلاف دوبارہ چیلنج دائر کرے گی یا نہیں۔

ذوالفقار بخاری نے کہا کہ تحریک انصاف اور فوج کے درمیان اس وقت کوئی مذاکرات نہیں ہورہے، تاہم انہوں نے آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر کو پاکستان کی سب سے طاقتور شخصیت قرار دیا۔ان کا کہنا تھا کہ اگر عاصم منیر یہ فیصلہ کریں کہ اب ملک کو متحد کرنے اور مفاہمت کی ضرورت ہے تو وہ ’’شفا دینے والا ہاتھ‘‘ ملک پر رکھ سکتے ہیں۔ بخاری کے مطابق ایسی صورت میں انہیں امید ہوگی کہ تمام سیاسی قیدی 24 گھنٹوں کے اندر رہا ہوجائیں گے۔

تجزیہ کاروں نے تاہم خبردار کیا ہے کہ عمران خان کی سوچ تحریک انصاف کی ان قیادت سے مختلف ہوسکتی ہے جو گرفتاری سے بچنے کے لیے روپوش ہے۔ اٹلانٹک کونسل کے سینیئر فیلو مائیکل کگل مین کے مطابق یہ واضح نہیں کہ عمران خان کی موجودگی کے بغیر تحریک انصاف کی قیادت ریاست کے ساتھ کسی ممکنہ مذاکرات میں مشترکہ مؤقف اختیار کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے یا نہیں۔

ذوالفقار بخاری نے واضح کیا کہ عمران خان کو اسپتال منتقل کیا جاتا ہے یا نہیں، تحریک انصاف 27 ستمبر کو ملک گیر مارچ کا اعلان واپس نہیں لے گی۔انہوں نے کہا کہ احتجاج میں عمران خان کے عدالتی حکم کے مطابق علاج، اہلخانہ، ڈاکٹروں، وکلا اور پارٹی قیادت کو ملاقات کی اجازت دینے، مقدمات کی فوری سماعت اور بالآخر عمران خان کی رہائی کا مطالبہ کیا جائے گا۔بخاری کے مطابق گرفتاری سے بچنے کے لیے روپوش تحریک انصاف کے سینئر رہنما بھی احتجاج میں شریک ہوں گے یا اسے منظم کرنے میں مدد دیں گے۔انہوں نے کہا کہ ممکنہ طور پر تحریک انصاف کی بہت سی قیادت روپوشی ختم کرکے سامنے آئے گی، اور اگر وہ خود منظر عام پر نہ بھی آئے تو احتجاج کے لیے کارکنوں کو متحرک کرتی نظر آئے گی۔

رائٹرز کے مطابق عمران خان کی جانب سے حالیہ عرصے میں کوئی بیان سامنے نہیں آیا۔عمران خان 2022 میں پارلیمانی عدم اعتماد کے ذریعے حکومت سے برطرف ہونے کے بعد متعدد مقدمات کا سامنا کر رہے ہیں، جن میں ریاستی تحائف، فوجی و سرکاری تنصیبات پر پرتشدد حملوں پر اکسانے اور مبینہ غیر قانونی شادی سے متعلق مقدمات شامل ہیں۔

More posts