Baaghi TV

عالمی مخالفت کے باوجود اسرائیل کا آبادکاری منصوبے پر عملدرآمد شروع

اسرائیل نے عالمی مخالفت اور شدید تنقید کے باوجود مقبوضہ مغربی کنارے میں متنازع یہودی آبادکاری کے منصوبے پر عملی پیش رفت شروع کردی ہے۔

امریکی و بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق اسرائیل نے مشرقی بیت المقدس اور مغربی کنارے کے درمیان واقع E1 علاقے میں 1200 سے زائد نئی رہائشی یونٹس کی تعمیر کے لیے ٹینڈرز جاری کیے ہیں۔ منصوبے کا مقصد یہودی بستیوں کے ایک بڑے بلاک کو قائم کرنا ہے۔رپورٹس کے مطابق E1 منصوبہ مکمل ہونے کی صورت میں مغربی کنارے کو شمالی اور جنوبی حصوں میں تقسیم کر سکتا ہے، جبکہ مشرقی بیت المقدس کا فلسطینی علاقوں سے رابطہ بھی مزید متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔ ناقدین کے مطابق یہ منصوبہ مستقبل میں ایک متصل اور قابلِ عمل فلسطینی ریاست کے قیام کی راہ میں بڑی رکاوٹ بن سکتا ہے۔

فلسطینی حکام نے اسرائیلی اقدام کو بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے عالمی برادری سے فوری مداخلت اور منصوبے کو روکنے کا مطالبہ کیا ہے۔ فلسطینی وزارت خارجہ نے تعمیراتی ٹینڈرز میں حصہ لینے والی کمپنیوں کو بھی خبردار کیا ہے کہ منصوبے میں براہِ راست یا بالواسطہ شمولیت بین الاقوامی قانون سے متصادم ہوسکتی ہے۔برطانیہ، فرانس، جرمنی، اٹلی، نیدرلینڈز، ناروے اور کینیڈا سمیت متعدد ممالک نے بھی اسرائیل سے آبادکاری منصوبہ واپس لینے کا مطالبہ کرتے ہوئے اسے ناقابلِ قبول قرار دیا ہے۔ عالمی رہنماؤں کا کہنا ہے کہ E1 منصوبہ دو ریاستی حل کے امکانات کو مزید نقصان پہنچا سکتا ہے۔دوسری جانب اردن نے بھی E1 منصوبے کے تحت 1234 آبادکاری یونٹس کے ٹینڈرز جاری کرنے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے بین الاقوامی اور انسانی قوانین کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔

اسرائیلی آبادکاری کے خلاف عالمی سطح پر بڑھتی ہوئی مخالفت کے باوجود منصوبے پر پیش رفت نے خطے میں کشیدگی اور فلسطینی ریاست کے قیام کے امکانات سے متعلق خدشات مزید بڑھا دیے ہیں۔

More posts