قومی اسمبلی کے اجلاس کے دوران وقفۂ سوالات میں رکن قومی اسمبلی محترمہ آسیہ ناز تنولی کی جانب سے پاکستان جنرل کاسمیٹکس ریگولیٹری اتھارٹی کے قیام کی تجویز اور آن لائن فروخت ہونے والی غیر معیاری کاسمیٹکس مصنوعات کی روک تھام کے لیے مؤثر قانون سازی اور ایکٹ کے نفاذ سے متعلق سوال کا جواب موصول نہ ہونے پر اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے برہمی کا اظہار کیا۔
اسپیکر سردار ایاز صادق نے وزارتِ سائنس و ٹیکنالوجی کے وزیر، پارلیمانی سیکرٹری اور سیکرٹری کی عدم موجودگی اور وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امور ڈاکٹر طارق فضل چوہدری کو اس حوالے سے پیشگی اطلاع نہ دینے پر بھی شدید ناراضگی کا اظہار کیا۔ انہوں نے وزارتِ سائنس و ٹیکنالوجی کے جوائنٹ سیکرٹری کو ہدایت کی کہ وہ فوری طور پر وزارت کے سیکرٹری کو پیغام دیں کہ وہ پارلیمنٹ ہاؤس آ کر اسپیکر سے ملاقات کریں اور پارلیمنٹ ہاؤس میں موجود رہیں۔اسپیکر سردار ایاز صادق نے رکن قومی اسمبلی محترمہ آسیہ ناز تنولی کے سوال کو مؤخر کرتے ہوئے وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امور ڈاکٹر طارق فضل چوہدری سے استفسار کیا کہ وہ وزیرِ پارلیمانی امور ہیں اور گزشتہ روز بھی ایک ایسا سوال سامنے آیا تھا جس کا جواب گزشتہ چار اجلاسوں سے موصول نہیں ہوا۔اسپیکر سردار ایاز صادق نے واضح کیا کہ ایوان میں ارکانِ قومی اسمبلی کے سوالات کے بروقت جواب دینا وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امور، متعلقہ وزراء، پارلیمانی سیکرٹریز اور متعلقہ وزارتوں کے سیکرٹریز کی اجتماعی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے دریافت کیا کہ وزارتِ سائنس و ٹیکنالوجی کے وزیر، پارلیمانی سیکرٹ اور وزارت کے سیکرٹری سمیت کوئی متعلقہ افسر ایوان میں موجود کیوں نہیں ہے اور وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امور کو اس بارے میں پیشگی اطلاع کیوں نہیں دی گئی۔
وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امور ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ بعض وزراء، پارلیمانی سیکرٹریز اور وزارتوں کے افسران انہیں پیشگی اطلاع دیے بغیر ایوان سے غیر حاضر ہوتے ہیں۔ انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ وہ اس معاملے کو وزیراعظم پاکستان کے سامنے بھی اٹھائیں گے تاکہ مناسب کارروائی عمل میں لائی جا سکے۔ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے کہا کہ اس کا مقصد یہ یقینی بنانا ہے کہ قومی اسمبلی کے قیمتی وقت کا ضیاع نہ ہو اور وقفۂ سوالات کے لیے تیاری اور محنت کرکے آنے والے ارکانِ قومی اسمبلی کے سوالات اور ان کی محنت رائیگاں نہ جائے۔
