وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہاہے کہ عمران خان کی میڈیکل رپورٹ جائے گی، پی ٹی آئی رہنما بھی اسے دیکھ لیں گے، کوئی فکر کی بات، آنکھ کا مسئلہ ٹھیک ہو گیا ہے، حلفاً کہتا ہوں عمران خان کی صحت بالکل ٹھیک ہے۔
قومی اسمبلی اجلاس کے دوران اظہار خیال کرتے ہوئے خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ تحریک انصاف عمران خان کی بیماری پر سیاست کر رہی ہے۔عمران خان کی صحت کے حوالے سے فکر کی کوئی بات نہیں، ان کی مجموعی صحت بہتر ہے اور انہیں بلڈ پریشر کی ادویات دی جا رہی ہیں۔ بانی پی ٹی آئی سے ان کی ہمشیرہ کی ملاقات بھی کرا دی گئی ہے، جبکہ اس عمر میں ادویات کا استعمال معمول کی بات ہے۔بانی پی ٹی آئی کواللہ صحت دے،وہ دوسروں کی بیماریوں کا مذاق اڑاتے رہے،بانی پی ٹی آئی نے نوازشریف کی بیماری کا مذاق امریکا تک اڑایا ،ہماری قیادت قید تھی ہم توپارلیمان میں آتے رہے ،بانی پی ٹی آئی صحت مند ہیں،بانی پی ٹی آئی سے عظمیٰ خان کی ملاقات ہوچکی ہے ، عظمیٰ خان بتا سکتی ہیں کہ بانی کی صحت کیسی ہے ،بانی پی ٹی آئی کی آنکھ کا مسئلہ ٹھیک ہوچکا ہے ،بانی پی ٹی آئی کوبلڈ پریشر کی شکایت ہے ،میں جیل میں تھا تو ڈاکٹرزنے آپریشن کا کہا ،بانی پی ٹی آئی نے ویڈیو مانگی کہ واقعی آپریشن ہورہا ہے کہ نہیں ،وہ ویڈیو آج تک میرے پاس موجود ہے ،ڈاکٹر کی رپورٹ آپ بھی دیکھ لیں، ہم بھی دیکھ لیں گے ، میں حلفاً کہتا ہوں ،بانی پی ٹی آئی کو کوئی مسئلہ نہیں ، نواز شریف کی دو ماہ پہلے دو سرجریز ہوچکی ہیں ، آج بھی پلیٹ لیٹس کی بات کی جاتی ہے،بانی پی ٹی آئی کی صحت ٹھیک ہے، تفصیلات آ جائیں گی،
کون عمران خان کو غلط ہسپتال لے کر گیا اور ایک گھنٹے بعد واپس لے گیا ،بیرسٹر گوہر
دوسری جانب پی ٹی آئی چیئرمین بیرسٹر گوہر کا کہنا تھا کہ کون عمران خان کو غلط ہسپتال لے کر گیا اور ایک گھنٹے بعد واپس لے گیا ۔ ہمارے لیے ممکن نہیں چند روز بعد پارلیمنٹ میں رہیں ۔ ہم فیصلہ کریں گے۔عمران خان دنیا کا مقبول ترین لیڈر ہے، بعض لوگ عمران خان کی ایک جھلک برداشت نہیں کر سکتے۔کل کی رات اور آج کا دن ہمارے لیے بہت بھاری ہے ہمارے کارکنوں کےلیے بھاری ہے اس طرح کی جمہوریت آپ کو مبارک ہو ہم جلد اس پارلیمنٹ کے حوالے سے فیصلہ کرینگے ۔جو کچھ ہوا وہ بڑی بدقسمتی ہے اس کی توقع نہیں تھی، کوئی ہے جو نہیں چاہتا کہ حالات بہتری کی طرف جائیں، ہمیں بتایا گیا تھا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے پر عمل ہو گا، سپریم کورٹ کا فیصلہ بڑا واضح تھا، کوئی ابہام تھا تو دوبارہ عدالت سے رجوع کیا جا سکتا تھا،
