Baaghi TV

میں شفا اسپتال میں تھا اور عمران خان کو پمز اسپتال لے جایا جا چکا تھا،ڈاکٹر فیصل

عمران خان کے ذاتی معالج ڈاکٹر فیصل نے کہا ہے کہ مجھے شفا انٹرنیشنل پہنچایا گیا ، آگے اور پیچھے پولیس کی گاڑیاں تھیں ، تین گھنٹے اندر انتظار کرتے رہے ، عمران خان کے بارے بتایا کہ وہ کچھ دیر تک پہنچیں گے ؛ ساڑھے چار کے آس پاس بتایا کہ وہ نہیں آئیں گے آپ بھی واپس چلیں تو ہم اڈیالہ واپس گئے

پریس کانفرنس کرتے ہوئے ڈاکٹر فیصل کا کہنا تھا کہ 8 بجے رات ہم اڈیالہ جیل پہنچے، کچھ وقت انتظار کیا، تقریبا 12:30 کے بعد ایک اہلکار آیا، مجھے ساتھ لیا اور ایک گاڑی میں بٹھا کر روانہ ہوگئے، 40/45 منٹ کے بعد مجھے شفاء ہسپتال پہنچا دیا گیا، سیکورٹی کے انتظامات تھے، ویٹنگ روم میں بٹھائے رکھا، صبح فجر کے وقت مجھے بتایا گیا کہ شاید وہ نہیں پہنچ پارہے، آپ روانہ ہو جائیں، مجھے گاڑی میں بٹھایا اور واپس اڈیالہ جیل چھوڑ دیا،میں شفا انٹرنیشنل اسپتال میں تھا اور عمران خان کو پمز اسپتال لے جایا جا چکا تھا،فجر کی اذان کے قریب ہم اڈیالہ جیل دوبارہ واپس پہنچے،

بانی پی ٹی آئی نے کہا میرے ساتھ ظلم کیا جا رہا ہے ،ڈاکٹر عظمیٰ
ڈاکٹر عظمیٰ کا کہنا تھا کہ ہمیں فون آیا تو ہم ساڑھے آٹھ اڈیالہ جیل پہنچ گئے، ڈی ایس پی کے کمرے میں بیٹھ گئے ، ڈاکٹر فیصل کو لے گئے پھر مجھے کار میں بیٹھا دیا پولیس کچھ نہیں بول رہی تھی جب ہم کسی جگہ جا رہے تھے پھر بتایا گیا پمز لیکر آئے ہیں،مجھے پمز میں کہا گیا ڈاکٹر صاحبہ آجائیں میں اوپر گئی تو عمران خان بیٹھے تھے وہ اتنے شاک میں تھے وہ مجھے ملے پیار کیا عمران خان نے کہا دس منٹ کے لیے بہن سے مل رہا ہوں،کل شام مجھے اور ڈاکٹر فیصل سلطان کو اڈیالہ جیل بلایا گیا۔ کچھ دیر بعد ڈاکٹر فیصل کو کالے شیشوں والی گاڑی میں لے جایا گیا، جبکہ تقریباً 10 منٹ بعد مجھے بھی پولیس کی گاڑیوں کے حصار میں لے جایا گیا۔ بعد میں معلوم ہوا کہ ہمیں پمز لایا گیا ہے،جب ہم پمز ہسپتال پہنچے تو عمران خان صاحب نے کہا ڈاکٹر فیصل کہاں ہے تو میں نے ان کو مذاق میں کہا کہ ان کو اغوا کر لیا ،میں نے عمران خان سے بار بار کہا کہ ہم یہاں سے طبی معائنے کے بعد شفا انٹرنیشنل اسپتال جائیں گے اس پر وہ بہت خوش اور مطمئن تھے،عمران خان نے مجھے بار بار کہا کہ لوگوں کی عدم موجودگی کے باعث میری طبیعت خراب ہوتی ہے وہ کہتے رہے کہ میرے ساتھ ظلم ہو رہا ہے عمران خان کو لوگوں سے دور رکھا جا رہا ہے ٹی وی اور مطالعے کا مواد بھی انہیں دستیاب نہیں ہے،عمران خان علاج کروانے اور شفا انٹرنیشنل اسپتال جانے پر خوش تھے ان کے انکار سے متعلق سامنے آنے والی تمام خبریں غلط ہیں، بانی پی ٹی آئی اور مجھے الگ الگ گاڑیوں میں بٹھا دیا گیا ،میں جس راستے سے آئی ہوں اس راستے پر کوئی رش نہیں تھا ،بانی پی ٹی آئی کا ڈاکٹر عارف اور دیگر ڈاکٹروں نے معائنہ کیا ،جب ہم صبح اڈیالہ پہنچے تو ڈاکٹر فیصل ایک اور گاڑی سے اتر رہے تھے،بانی پی ٹی آئی کا بلڈ پریشر ٹیسٹ کیا، اس کے بعد آنکھ کا انجکشن لگایا ،میں نے بانی پی ٹی آئی کو بار بار کہا کہ شفا انٹرنیشنل جائیں گے ،ہم کافی دیر انتظار کرتے رہے مگر ہمیں شفا نہیں لے گئے ،بانی پی ٹی آئی نے بتایا کہ دس ماہ سے ٹی وی نہیں دیکھنے دیا ،ڈاکٹر کے مطابق بانی پی ٹی آئی کو بلڈ پریشر کا مسئلہ انزائٹی کی وجہ سے ہو رہا ہے ،بانی پی ٹی آئی نے کہا بشریٰ بی بی کو بھی تنہا رکھا ہوا ،بانی پی ٹی آئی نے کہا میرے ساتھ ظلم کیا جا رہا ہے ،بانی پی ٹی آئی نے کہا میں جب بھی ان کو کہتا ہوں تو وہ میری نہیں سنتے ،میں نے بانی پی ٹی آئی کو بار بار کہا کہ شفا انٹرنیشنل ہسپتال لے کر جائیں گے ،شفا انٹرنیشنل ہسپتال کے نام پر بانی پی ٹی آئی خوش ہو رہے تھے ،دو دن بانی پی ٹی آئی کو ٹی وی دیکھنے دیا گیا،پمز ہاسپٹل کے اندر جب جا رہے تھے تو ہر طرف اندھیرا تھا اور وہ عمران خان کو پکڑ کر اندھیرے میں ٹارچ لائٹ دے کر تیزی سے لے کر لے جا رہے تھے جب میں نے کہا کہ اہستہ چلیں تو نہیں مان رہے تھے، ڈاکٹر فیصل کی عمران خان صاحب سے ملاقات نہی ہونے دی گئی

More posts