Baaghi TV

آٹھ اسلامی ممالک کے وزرائے خارجہ کا مشرقی یروشلم کے مشرق میں آبادکاری منصوبے کے خلاف مشترکہ مذمتی بیان

پاکستان سمیت 8 اسلامی ممالک کے وزرائے خارجہ نے مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں اسرائیل کی غیر قانونی آبادکاری کی پالیسیوں اور مشرقی یروشلم کے مشرق میں “E1” آبادکاری منصوبے کی شدید مذمت کردی۔

مشترکہ بیان پاکستان، مصر، ترکیہ، انڈونیشیا، اردن، قطر، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے وزرائے خارجہ کی جانب سے جاری کیا گیا۔ بیان میں مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں اسرائیلی آبادکاری کی سرگرمیوں کو واضح طور پر مسترد کرتے ہوئے کہا گیا کہ ایسی کارروائیاں بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کی متعلقہ قراردادوں کی خلاف ورزی ہیں۔

وزرائے خارجہ نے اسرائیلی قابض حکام کی حمایت یافتہ آبادکاروں کی جانب سے فلسطینی عوام اور ان کی املاک کے خلاف تشدد، حملوں اور دیگر خلاف ورزیوں کی بھی شدید مذمت کی۔ انہوں نے کہا کہ یہ اقدامات فلسطینی عوام کے ناقابلِ تنسیخ حقوق کو ختم نہیں کرسکتے۔

مشترکہ بیان میں کہا گیا کہ “E1” آبادکاری منصوبہ ایک خطرناک پیش رفت ہے جو آبادکاری کی توسیع اور الحاق کے عمل کو مزید آگے بڑھا سکتا ہے۔ اس منصوبے سے مغربی کنارے اور مشرقی یروشلم کے درمیان جغرافیائی تسلسل متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔

وزرائے خارجہ کے مطابق اس منصوبے سے 1967 کی سرحدوں کی بنیاد پر آزاد فلسطینی ریاست کے قیام، جس کا دارالحکومت مشرقی یروشلم ہو، کے امکانات کو بھی شدید خطرہ لاحق ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اسرائیلی آبادکاری کی ایسی سرگرمیاں علاقائی اور عالمی امن و سلامتی کے لیے سنگین خطرہ ہیں۔

بیان میں کہا گیا کہ یہ اقدامات امن کے حصول کے لیے جاری عالمی کوششوں کو بھی براہِ راست چیلنج کرتے ہیں۔ وزرائے خارجہ نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے جامع منصوبے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس میں الحاق اور جبری بے دخلی کو واضح طور پر مسترد کیا گیا ہے۔

انہوں نے منصوبے پر عملدرآمد کے لیے تجویز کردہ طریقہ کار، بشمول بورڈ آف پیس کے ذریعے اقدامات، کا بھی ذکر کیا اور مغربی کنارے کے الحاق کی اجازت نہ دینے کے عزم کو سراہا۔

آٹھوں ممالک کے وزرائے خارجہ نے ایک بار پھر مؤقف دہرایا کہ بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کی متعلقہ قراردادوں کے مطابق دو ریاستی حل ہی منصفانہ، جامع اور دیرپا امن کے قیام کا واحد قابلِ عمل راستہ ہے۔

More posts