پنجاب میں پتوکی، دیپالپور، حاصل پور اور ہارون آباد کو نئے اضلاع کا درجہ دینے سے متعلق سوشل میڈیا پر گردش کرنے والا نوٹیفکیشن جعلی قرار دے دیا گیا ہے۔
سوشل میڈیا پر وائرل مبینہ دستاویز میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ پنجاب ریونیو ڈیپارٹمنٹ نے چار نئے اضلاع کے قیام کی منظوری دے دی ہے، جس کے بعد صوبے میں اضلاع کی تعداد 41 سے بڑھ کر 45 ہوجائے گی اور یہ فیصلہ فوری طور پر نافذ العمل ہوگا۔
تاہم متعلقہ حکام نے اس دعوے کی تردید کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ پنجاب میں فی الحال کوئی نیا ضلع قائم نہیں کیا گیا۔
بورڈ آف ریونیو پنجاب کے ترجمان نے سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی دستاویز کو جعلی اور من گھڑت قرار دیتے ہوئے کہا کہ پنجاب حکومت یا بورڈ آف ریونیو کی جانب سے نئے اضلاع کے قیام سے متعلق ایسا کوئی نوٹیفکیشن جاری نہیں کیا گیا۔
حکام کے مطابق وائرل دستاویز میں کئی ایسی تفصیلات بھی موجود ہیں جو اس کے جعلی ہونے کی نشاندہی کرتی ہیں۔ مبینہ نوٹیفکیشن میں ظہیر عباس ملک کو پنجاب کا چیف سیکریٹری ظاہر کیا گیا ہے، جبکہ صوبے کے موجودہ چیف سیکریٹری زاہد اختر زمان ہیں۔
صوبائی وزیر اطلاعات عظمیٰ زاہد بخاری نے بھی سوشل میڈیا پر گردش کرنے والے نوٹیفکیشن کو جعلی قرار دیتے ہوئے اس کی تردید کردی ہے۔
حکام کی وضاحت کے بعد یہ بات سامنے آگئی ہے کہ پتوکی، دیپالپور، حاصل پور اور ہارون آباد کو نئے اضلاع کا درجہ دینے کا دعویٰ بے بنیاد ہے اور وائرل دستاویز پنجاب حکومت یا بورڈ آف ریونیو کی جانب سے جاری نہیں کی گئی۔
حکام نے شہریوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی غیرمصدقہ سرکاری دستاویزات اور معلومات پر فوری یقین کرنے کے بجائے متعلقہ سرکاری ذرائع سے ان کی تصدیق کریں۔
