اسلام آباد: وزیراعظم محمد شہباز شریف نے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) میں سی ٹی کورونری اینجیوگرافی کی سہولت فعال نہ ہونے یا عدم دستیابی کا نوٹس لیتے ہوئے معاملے کی تحقیقات کے لیے انکوائری کمیٹی قائم کردی۔
وزیراعظم نے کمیٹی کو ہدایت کی ہے کہ معاملے کے تمام پہلوؤں کا جائزہ لے کر حقائق اور ذمہ داری کا تعین کیا جائے اور مکمل رپورٹ وزیراعظم کو پیش کی جائے۔کمیٹی کی سربراہی سیکرٹری اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کریں گے، جبکہ دیگر ارکان میں سیکرٹری نیشنل ہیلتھ سروسز، ریگولیشنز اینڈ کوآرڈینیشن ڈویژن، بریگیڈیئر ڈاکٹر جہانزیب علی (اے ایف آئی سی)، ڈاکٹر نصرت اللہ چوہدری، پروفیسر ڈاکٹر ندیم حیات ملک، بریگیڈیئر (ر) ڈاکٹر عظمت حیات (پمز) اور عمر فاروق، سی ٹی اینجیو ٹیکنیشن اے ایف آئی سی شامل ہیں۔ کمیٹی ضرورت کے مطابق مزید کسی رکن کو بھی شامل کرسکے گی۔انکوائری کمیٹی اس امر کا جائزہ لے گی کہ آیا پمز میں 2022ء سے سی ٹی کورونری اینجیوگرام کرنے کی تکنیکی صلاحیت موجود تھی اور اگر تھی تو مطلوبہ تکنیکی سہولیات، انسانی وسائل اور سافٹ ویئر کس حد تک دستیاب تھے۔کمیٹی 2022ء سے اب تک پمز میں کیے گئے سی ٹی کورونری اینجیوگرام کے طریقہ کار، تعداد، تاریخوں اور نوعیت کا بھی جائزہ لے گی جبکہ ہسپتال کے ریکارڈ سمیت تمام متعلقہ دستاویزی شواہد کی جانچ پڑتال کی جائے گی۔اس کے علاوہ کارڈیالوجی اور ریڈیالوجی شعبوں کے درمیان سی ٹی کورونری اینجیوگرافی کے لیے موجود ریفرل میکنزم، باہمی رابطہ کاری اور ہسپتال انتظامیہ کے کردار کا بھی جائزہ لیا جائے گا۔
کمیٹی یہ بھی تحقیقات کرے گی کہ آیا پمز کے کارڈیالوجی ڈیپارٹمنٹ کے مریضوں کو معمول کے مطابق سی ٹی کورونری اینجیوگرام کے لیے نجی طبی مراکز ریفر کیا جاتا رہا اور اگر ایسا ہوا تو کیا کسی مخصوص نجی ادارے کو ترجیح دی گئی۔ اس حوالے سے یہ بھی تعین کیا جائے گا کہ سرکاری ہسپتال سے کتنے مالیاتی کاروبار کا رخ نجی مراکز کی جانب منتقل ہوا۔انکوائری کمیٹی پمز کے کارڈیالوجی اور ریڈیالوجی شعبوں کے درمیان ممکنہ عدم رابطہ کاری، بدانتظامی یا غلط فہمی اور اس کے نتیجے میں عوامی مفاد کو پہنچنے والے نقصان کا بھی جائزہ لے گی اور ذمہ دار افسران یا دفاتر کا تعین کرے گی۔وزیراعظم نے ہدایت کی ہے کہ تمام متعلقہ حقائق اور ریکارڈ کی مکمل جانچ پڑتال کے بعد رپورٹ پیش کی جائے تاکہ معاملے میں مزید کارروائی قانون اور قواعد کے مطابق عمل میں لائی جاسکے۔نیشنل ہیلتھ سروسز، ریگولیشنز اینڈ کوآرڈینیشن ڈویژن انکوائری کے دوران کمیٹی کو ضروری معاونت فراہم کرے گا۔
