Baaghi TV

سیرت مصطفی ﷺ وقت کی ضرورت، انسانیت کی نجات ،تحریر:ڈاکٹر حافظ مسعود اظہر

hafi masood ahar

تاریک رات کے بھیانک سناٹے میں، جب کائنات جہالت، ظلمت اور گمراہی کے گرداب میں ڈوب چکی تھی، جب انسانیت اپنے وجود کی بقا کی آخری سانسیں لے رہی تھی، جب باپ اپنی ہی بیٹی کو زندہ درگور کر کے فخر محسوس کرتا تھا اور جب مظلوم کی آہ و زاری سننے والا کوئی نہ تھااس وقت وادی فاران کے افق سے وہ آفتابِ ہدایت طلوع ہوا جس کی ضیا پاشیوں نے ظلمت کے سارے بادل چھانٹ دیے اور کائنات کے ذرے ذرے کو نورِ الہی سے منور کر دیا۔ وہ ہستیِ گرامی، وہ پیکرِ جود و سخا، وہ شافعِ روزِ جزا، سیدنا محمد مصطفی احمدِ مجتبی ﷺ کی ذاتِ بابرکات ہے۔ آپ کی آمد صرف ایک فردِ واحد کی بعثت نہ تھی، بلکہ انسانی تاریخ کا وہ عظیم ترین انقلاب تھا جس نے انسانیت کے مرجھائے ہوئے گلشن کو ابدی زندگی، تازگی اور نکھار عطا کیا۔
آج کا انسان سائنس اور ٹیکنالوجی کے معراج پر پہنچ کر بھی اضطراب، بے چینی اور باطنی ویرانی کا شکار ہے۔ انسان نے چاند پر کمندیں ڈالیں، فضائوں کو تسخیر کیا ا ور سمندروں کی گہرائیوں کا کھوج لگایا، مگر افسوس کہ وہ اپنے اندر کے انسان کو نہ پا سکا، وہ اپنے دل کا سکون گنوا بیٹھا۔ مادیت پرستی، ناہمواری، قتل و غارت گری ا ور اخلاقی زوال نے نوعِ انسانی کو تباہی کے دہانے پر لا کھڑا کیا ہے۔ ایسے تاریک دور میں، جہاں ہر طرف یاس و قنوطیت کا راج ہے، سیرتِ مصطفی ﷺ ہی وہ واحد لائحہ عمل، وہ آفتابِ عالم تاب اور وہ منارہ نور ہے جو اس بھٹکی ہوئی انسانیت کو ساحلِ نجات سے ہمکنار کر سکتا ہے۔ یہ محض ایک تاریخی حقیقت نہیں بلکہ وقت کا سب سے بڑا تقاضا اور انسانیت کی بقا کی آخری امید ہے۔

خالقِ کائنات نے انسان کو پیدا کیا اور اسے اندھیروں سے نکال کر روشنی کی طرف لانے کے لیے اپنے محبوبِ پاک کو مبعوث فرمایا۔ آسمانی صحیفوں کی آواز اور پروردگار کا فرمانِ عالی شان اس بات کی گواہی دیتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کو تمام جہانوں کے لیے سراپا رحمت بنا کر بھیجا ہے۔ یہ وہ عالمگیر رحمت ہے جو کسی ایک قوم، نسل، یا خطے تک محدود نہیں، بلکہ اس کا سایہ عاطفت ہر خشک و تر، دوست و دشمن اور انسان و حیوان پر یکساں طور پر محیط ہے۔ اللہ رب العزت نے ا نسانیت کو جھنجھوڑتے ہوئے خبردار کیا کہ بلاشبہ تمہارے لیے رسول اللہ ﷺ کی ذاتِ گرامی میں بہترین اور کامل ترین نمونہ موجود ہے۔ یہ نمونہ ہر شعبہ زندگی کے لیے ہے، ایک حکمران کے لیے عادلانہ اصول، ایک تاجر کے لیے صداقت و امانت، ایک سالار کے لیے حکمت و شجاعت اور ایک عام انسان کے لیے ہمدردی و خیرخواہی کا نام ہی سیرتِ طیبہ ہے۔
جب ہم تاریخ کے اوراق پلٹتے ہیں اور پیغمبرِ اسلام کے ارشادات اور افکار پر نظر دوڑاتے ہیں تو روح وجد کرنے لگتی ہے۔ آپ نے فرمایا کہ میں تو اعلیٰ اخلاق کی تکمیل کے لیے مبعوث کیا گیا ہوں۔ ایک اور موقع پر باری تعالیٰ کے حضور اپنے تعلق کو ظاہر کرتے ہوئے آپ نے فرمایا کہ جس نے میری اطاعت کی اس نے دراصل اللہ کی اطاعت کی ا ور جو مجھ سے منہ موڑ گیا اس نے حق سے منہ موڑ لیا۔ انسانیت کے باہمی تعلقات کی باریکیوں کو واضح کرتے ہوئے آپ ﷺ نے فرمایا کہ تم میں سے کوئی شخص اس وقت تک کامل مومن نہیں ہو سکتا جب تک وہ اپنے بھائی کے لیے وہی کچھ پسند نہ کرے جو وہ اپنے نفس کے لیے پسند کرتا ہے۔ یہ وہ انقلابی اور زریں اصول ہے اگر اسے آج کا معاشرہ اپنا لے تو حسد، کینہ، بغض اور ناہمواری کا نام و نشان مٹ جائے۔

سیرتِ مصطفی ﷺ کا سب سے تابناک اور درخشندہ پہلو آپ کا بے مثال حسنِ اخلاق، عفو و درگزر اور بے پناہ رحم دلی ہے۔ فتحِ مکہ کا وہ تاریخی منظر تصور کیجیے، جب وہ شہر جہاں آپ پر پتھر برسائے گئے، جہاں آپ کی راہ میں کانٹے بچھائے گئے، جہاں آپ کا سماجی بائیکاٹ کیا گیا ا ور جہاں سے آپ کو وطن چھوڑنے پر مجبور کیا گیا، آج وہ شہر آپ کے قدموں میں تھا۔ دس ہزار مسلح قدسیوں کا لشکر آپ کے ساتھ تھا، قریش کے جابر اور خونخوار سردار خوف سے کانپ رہے تھے اور اپنی سزائوں کے منتظر تھے۔ مگر تاریخ نے دیکھا کہ رحمتِ عالم نے گردن جھکائے ہوئے، تواضع کے ساتھ شہر میں قدم رکھا اور اعلان فرمایا کہ آج تم پر کوئی گرفت نہیں، جا ئو تم سب آزاد ہو۔ عفو و درگزر کی یہ ایسی مثال ہے جس کی نظیر نہ زمین کے سینے پر ملتی ہے اور نہ آسمان کی آنکھ نے کبھی دیکھی۔ آپ نے فرمایا کہ جو تم پر ظلم کرے اسے معاف کر دو، جو تم سے کٹے اس سے جوڑو، اور جو تمہارے ساتھ برائی کرے اس کے ساتھ بھلائی کرو۔صحابہ کرام رضی اللہ عنھم اور ہمارے دیگر اسلاف نے سیرتِ مصطفی کی روح کو سچے دل سے سمجھا اور دنیا کے سامنے پیش کیا۔ فکرِ اسلاف کا خلاصہ یہی ہے کہ مصطفی ﷺ کی محبت ہی اصلِ ایمان ہے اور ان کی اتباع ہی کامیابی کا واحد راز ہے۔

آج کا زوال زدہ انسان اگر سکونِ قلب چاہتا ہے، اگر وہ نسل پرستی، طبقاتی تقسیم اور معاشی استحصال سے نجات چاہتا ہے، تو اسے دوبارہ مدینے کے اس تاجدار کے در ِ اقدس پر جھکنا ہوگا۔ وہی ذات ہے جس نے غلاموں کو آقا بنایا، جس نے عورت کو عزت، احترام اور حقوق کا تاج پہنایا، جس نے یتیموں کا سہارا بن کر ان کے سر پر شفقت کا ہاتھ رکھا جس نے عرب و عجم کا امتیاز ختم کر کے فرمایا کہ کسی عربی کو عجمی پر اور کسی عجمی کو عربی پر، کسی گورے کو کالے پر اور کسی کالے کو گورے پر کوئی فضیلت حاصل نہیں، فضیلت کا معیار صرف اور صرف تقوی اور پاکیزگی ہے۔ یہ وہ خطبہ حجۃ الوداع کا منشورِ اعظم تھا جو دنیا کے پہلے اور سب سے بڑے انسانی حقوق کے چارٹر کے طور پر ابھرا۔
سیرتِ طیبہ کا ہر لمحہ، ہر ادا اور ہر عمل حیات آفریں اور انقلاب انگیز ہے۔ آپ کا قیام، آپ کا قعود، آپ کی خلوت، آپ کی جلوت، آپ کی مسکراہٹ اور آپ کی چشمِ ترسب انسانیت کی ہدایت کے لیے تھے۔ جب آپ راتوں کو اٹھ کر اللہ کے حضور سجدہ ریز ہوتے اور امت کی بخشش کے لیے اس قدر روتے کہ آپ کی داڑھی مبارک تر ہو جاتی اور قدموں میں سوجن آ جاتی، تو ملائکہ بھی اس بے پناہ محبت پر رشک کرتے۔ آپ نے دکھ سہے، فاقے برداست کیے، طائف کی وادی میں خون سے جوتے بھر گئے مگر لبوں پر دعا کے سوا کچھ نہ تھا کہ اے پروردگار! میری قوم کو ہدایت دے، یہ مجھے جانتے نہیں۔ یہ وہ بے لوث اور بے مثال محبت تھی جس نے پتھر دلوں کو موم کر دیا اور خون کے پیاسوں کو ایک دوسرے پر جان چھڑکنے والا بھائی بنا دیا۔

وقت کی سب سے بڑی ضرورت یہ ہے کہ ہم سیرتِ مصطفی ﷺ کو محض ایک تاریخی واقعے کے طور پر نہ دیکھیں بلکہ اسے اپنے زوال کا علاج اور اپنے دردو غم کا مداوا بنائیں۔ ہمارے تعلیمی نظام، ہمارے ذرائع ابلاغ، ہمارے اقتدار کے ایوانوں اور ہمارے گھروں میں سیرتِ نبوی کا چراغ اس طرح روشن ہونا چاہیے کہ اس کی روشنی سے ذہنوں کی تاریکی اور دلوں کا زنگ دھل جائے۔ ایک تاجر جب اپنی دکان پر بیٹھے تو اسے سرکارِ دو عالم کی امانت داری یاد آئے؛ ایک حکمران جب مسندِ اقتدار پر بیٹھے تو اسے فاروقِ اعظم رضی اللہ عنہ کا وہ خوف یاد آئے جو انہوں نے مصطفی ﷺ کی تعلیمات سے سیکھا تھا؛ اور ایک عام فرد جب کسی انسان سے ملے تو اس کے اخلاق سے مصطفوی خوشبو آئے۔

More posts