منقبت در مدحت امہات المؤمنین
ہم کو غفلت سے جگائیں امہات المؤمنین
حکم آقا کا بتائیں امہات المومنین
بھول بیٹھی ہے جو امت اپنے آقا کا سبق
وہ سبق ہم کو سکھائیں امہات المؤمنین
چھوڑ دی آسائشیں آقا کی قربت کے لیے
ساتھ پیارے سے نبھائیں امہات المؤمنین
پہلے سیکھیں آپ سے اور پھر بتائیں آل کو
دین کی اطہر ادائیں امہات المؤمنین
ان کے بیٹے کٹ گئے زنداں میں جا کے بس گئے
خواب میں پھر ان کے آئیں امہات المؤمنین
ہے لکھا قرآن میں یہ ہر مسلماں کے لیے
ہیں تمہاری سب یہ مائیں امہات المومنین
بَکنے والے بک رہے ہیں آج بھی اُن پہ زبیر
شمع بن کر جگمگائیں اُمہات المؤمنین
زبیر احمد
