Baaghi TV

خالی جیب اور بھرے خواب،تحریر: سید ساجد علی شاہ

زندگی بھی عجیب امتحان ہےکسی کے پاس دولت کے انبار ہوتے ہیں مگر سکون نہیں ہوتا، اور کسی کی جیب خالی ہوتی ہے مگر آنکھوں میں ایسے خواب سجے ہوتے ہیں جو اسے ہر صبح دوبارہ زندہ کر دیتے ہیں ,ہمارے معاشرے میں ایسے بے شمار لوگ موجود ہیں جو غربت کے اندھیروں میں رہتے ہوئے بھی امید کا چراغ بجھنے نہیں دیتے, ان کے پاس وسائل کم ہیں، لیکن حوصلے بڑے ہیں؛ جیب خالی ہے، مگر خواب بھرے ہوئے ہیں , آج کا غریب صرف دو وقت کی روٹی کا مسئلہ نہیں لڑ رہا بلکہ وہ تعلیم، علاج، روزگار، بجلی کے بل، مکان کے کرائے، بچوں کی فیس اور روزمرہ کی بڑھتی ہوئی ضروریات کے بوجھ تلے دبا ہوا ہے۔ مہنگائی نے متوسط طبقے کو بھی اس مقام پر لا کھڑا کیا ہے جہاں کل تک جو شخص خود کو خوش حال سمجھتا تھا، آج بنیادی ضروریات پوری کرنے کے لیے حساب کتاب کرنے پر مجبور ہے , ایک مزدور صبح سویرے گھر سے نکلتا ہے اس کے ہاتھ میں اوزار ہوتے ہیں اور دل میں یہ امید کہ آج کچھ ایسا کما لے گا جس سے گھر کا چولہا جل سکے , کبھی اسے مزدوری مل جاتی ہے اور کبھی شام خالی ہاتھ لوٹنا پڑتا ہے گھر میں بچے اس کے منتظر ہوتے ہیں, وہ اپنی پریشانی چہرے پر نہیں آنے دیتا، مسکرا کر بچوں سے پوچھتا ہے ’’آج کیا پڑھا؟‘‘ حالانکہ اس کے ذہن میں صرف ایک سوال گردش کر رہا ہوتا ہے کہ کل کا خرچ کہاں سے آئے گا؟ یہی ہمارے معاشرے کی اصل تصویر ہے , غریب کا سب سے بڑا المیہ یہ نہیں کہ اس کے پاس پیسہ نہیں، بلکہ یہ ہے کہ اس کے خواب بھی اکثر وسائل کی کمی کے سامنے دم توڑنے لگتے ہیں, ایک بچہ ڈاکٹر بننا چاہتا ہے، دوسرا انجینئر، کوئی استاد بننے کا خواب دیکھتا ہے اور کوئی صحافی یا ادیب, مگر جب گھر میں کتاب خریدنے کے پیسے نہ ہوں، اسکول کی فیس مشکل ہو جائے اور والدین علاج کے اخراجات کے لیے پریشان ہوں تو خوابوں کا سفر مشکل ضرور ہو جاتا ہے,
لیکن تاریخ گواہ ہے کہ بڑے خواب ہمیشہ بڑے گھروں میں پیدا نہیں ہوتے, کئی عظیم شخصیات نے غربت کے باوجود اپنی منزل حاصل کی, فرق صرف اتنا تھا کہ انہوں نے حالات کو اپنی قسمت کا آخری فیصلہ نہیں بننے دیا۔ انہوں نے مشکلات کو راستے کی دیوار سمجھا، منزل کی بندش نہیں,

ہمارے نوجوانوں کے لیے اس میں ایک بڑا سبق ہے, وسائل کی کمی یقیناً ایک حقیقت ہے، مگر صلاحیت کی کمی نہیں ہونی چاہیے ,آج موبائل فون اور انٹرنیٹ نے علم کے دروازے ہر شخص کے لیے کھول دیے ہیں, ضرورت صرف اس بات کی ہے کہ نوجوان اپنا وقت فضول مشاغل میں ضائع کرنے کے بجائے ہنر سیکھیں، کتاب سے رشتہ جوڑیں، اپنی زبان اور اپنے علم کو مضبوط کریں اور چھوٹے کام کو حقیر سمجھنے کے بجائے محنت کو عزت دیں۔
دوسری طرف ریاست اور معاشرے کی بھی ذمہ داری ہے ہم صرف غریب کو یہ کہہ کر بری الذمہ نہیں ہو سکتے کہ محنت کرو، کامیاب ہو جاؤ گے۔ سوال یہ ہے کہ اسے معیاری تعلیم کون دے گا؟ علاج کی سہولت کون فراہم کرے گا؟ روزگار کے مواقع کون پیدا کرے گا؟ ایک ایسے نوجوان کو جس کے پاس سفارش نہیں، سرمایہ نہیں اور وسائل نہیں آگے بڑھنے کا منصفانہ موقع کون دے گا؟

میرٹ کسی بھی معاشرے کی ترقی کی بنیاد ہے اگر ایک غریب کا بیٹا اپنی قابلیت کے باوجود صرف اس لیے پیچھے رہ جائے کہ اس کے پاس سفارش نہیں، تو یہ صرف ایک فرد کا نقصان نہیں بلکہ پوری قوم کا نقصان ہے جس معاشرے میں صلاحیت دولت سے ہار جائے، وہاں ترقی کا سفر کبھی مکمل نہیں ہو سکتا, ہمیں اپنے اردگرد ایسے لوگوں کو تلاش کرنا ہوگا جو خاموشی سے مشکلات برداشت کر رہے ہیں کسی مستحق بچے کی فیس ادا کرنا، کسی طالب علم کو کتابیں فراہم کرنا، کسی بے روزگار نوجوان کو ہنر سکھانا یا کسی ضرورت مند خاندان کی مدد کرنا بظاہر چھوٹے کام ہیں، مگر کسی کی زندگی بدل سکتے ہیں , ہماری مساجد، مدارس، تعلیمی ادارے، فلاحی تنظیمیں، مخیر حضرات اور صاحبِ حیثیت افراد اگر اپنی ذمہ داری محسوس کریں تو معاشرے میں بہت بڑی تبدیلی لائی جا سکتی ہے, خیرات وقتی سہارا دیتی ہے، مگر تعلیم اور ہنر انسان کو اپنے پاؤں پر کھڑا کرتے ہیں, اس لیے ضرورت اس امر کی ہے کہ مدد کا نظام ایسا ہو جو انسان کو محتاج رکھنے کے بجائے بااختیار بنائے ،خالی جیب انسان کو کمزور ضرور کر سکتی ہے، مگر خالی حوصلہ اسے مکمل طور پر شکست دے دیتا ہے، اسی لیے ہمیں اپنے بچوں اور نوجوانوں کو یہ سکھانا ہوگا کہ غربت شرمندگی نہیں، بے عملی شرمندگی ہے، چھوٹا کام شرم کی بات نہیں، محنت سے بھاگنا شرم کی بات ہے۔ ناکامی اختتام نہیں، دوبارہ کوشش نہ کرنا اصل شکست ہے۔

آج پاکستان کو ایسے ہی بھرے ہوئے خوابوں کی ضرورت ہے ، ایسے خواب جو صرف ذاتی دولت تک محدود نہ ہوں بلکہ ایک بہتر معاشرے، معیاری تعلیم، سستا اور بروقت انصاف، باعزت روزگار اور محفوظ مستقبل کا تصور بھی اپنے اندر رکھتے ہوں۔
ہمیں فیصلہ کرنا ہوگا کہ ہم اپنے بچوں کو صرف خواب دیکھنے دیں گے یا انہیں خواب پورے کرنے کے مواقع بھی فراہم کریں گے کیونکہ جس دن ایک غریب بچے کی آنکھ میں موجود خواب کو وسائل کی طاقت مل گئی، اسی دن اس ملک کی اصل ترقی شروع ہوگی۔
یاد رکھیے ، جیب خالی ہو تو کوئی بات نہیں، مگر دل اور آنکھیں خوابوں سے خالی نہیں ہونی چاہئیں، حالات کتنے ہی سخت کیوں نہ ہوں، امید کا چراغ جلتا رہے تو راستے نکل آتے ہیں، شاید آج کسی مزدور کا بیٹا ایک چھوٹے سے کمرے میں بیٹھ کر بڑا خواب دیکھ رہا ہو۔ ممکن ہے اس کی جیب خالی ہو، مگر اس کے خواب پاکستان کا مستقبل ہوں،
ہمیں صرف اس کے خواب کو مرنے سے بچانا ہے,

More posts