پاکستان کرکٹ بورڈ کو فاسٹ بولنگ کے شعبے میں جھنگ سے ایک نیا تیز رفتار ٹیلنٹ مل گیا، نوجوان فاسٹ بولر قیوم خان کی گیند کی رفتار 150 کلومیٹر فی گھنٹہ سے بھی تجاوز کرگئی، جس کے بعد پی سی بی نے انہیں نیشنل کرکٹ اکیڈمی لاہور طلب کرکے خصوصی تربیت شروع کردی۔
جھنگ سے تعلق رکھنے والے قیوم خان نے حال ہی میں گریڈ ٹو ٹورنامنٹ میں اسپورٹس بورڈ پنجاب کی نمائندگی کرتے ہوئے اپنی تیز رفتار بولنگ سے توجہ حاصل کی۔ نوجوان فاسٹ بولر پہلی مرتبہ پرائم منسٹر ٹیلنٹ ہنٹ پروگرام کے ذریعے نمایاں ہوئے، جہاں ان کی بولنگ کی رفتار اور صلاحیتوں نے پی سی بی حکام کو متاثر کیا۔
پی سی بی کے ڈائریکٹر ہائی پرفارمنس عاقب جاوید کے مطابق جھنگ سے بورڈ کو ایک نایاب فاسٹ بولنگ ٹیلنٹ ملا ہے جو 150 کلومیٹر فی گھنٹہ سے زائد رفتار سے گیند کرانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ قیوم خان کی رواں سیزن میں خصوصی تربیت کی جارہی ہے اور اگلے سیزن میں انہیں بڑے پلیٹ فارم پر موقع دینے کی تیاری کی جارہی ہے۔
عاقب جاوید کے مطابق پاکستان کرکٹ کی پہچان ہی تیز رفتار فاسٹ بولنگ رہی ہے اور پی سی بی مستقبل کے لیے ایسے نوجوان بولرز تیار کرنے پر توجہ دے رہا ہے جو عالمی سطح پر ملک کی نمائندگی کرسکیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان پیس بولنگ کے بغیر نامکمل ہے، اس لیے تیز رفتار بولرز کی نئی کھیپ تیار کرنا بورڈ کی ترجیحات میں شامل ہے۔
قیوم خان کے علاوہ بھی پاکستان کو مستقبل میں مزید ایکسپریس فاسٹ بولرز سے بڑی امیدیں وابستہ ہیں۔ علی رضا، رضا اللہ، عبدالسبحان اور ابوذر بھی 145 کلومیٹر فی گھنٹہ سے زائد رفتار سے گیند کرانے کی صلاحیت رکھتے ہیں اور انہیں مستقبل کے لیے تیار کیا جارہا ہے۔
پی سی بی کے ہائی پرفارمنس سینٹر کا ہدف ہے کہ اگلے سال تک تین سے چار ایکسپریس فاسٹ بولرز تیار کیے جائیں تاکہ قومی کرکٹ ٹیم کے فاسٹ بولنگ شعبے کو مزید مضبوط بنایا جاسکے اور پاکستان کو عالمی کرکٹ میں ایک بار پھر تیز رفتار بولنگ کے حوالے سے نمایاں مقام دلایا جاسکے۔
نیشنل کرکٹ اکیڈمی لاہور میں نوجوان فاسٹ بولرز کے لیے خصوصی بولنگ کیمپ بھی جاری ہے، جس کی نگرانی قومی ٹیم کے فاسٹ بولنگ کوچ ایشلے نوفکے کررہے ہیں۔ خصوصی کیمپ 28 اگست تک جاری رہے گا، جہاں نوجوان بولرز کی رفتار، فٹنس، تکنیک اور بولنگ کی مجموعی صلاحیتوں پر خصوصی توجہ دی جارہی ہے۔
