سعودی عرب اور فرانس نے سرمایہ کاری اور اقتصادی تعاون کو مزید وسعت دینے، نجی شعبے کی شراکت داری بڑھانے اور توانائی، ٹیکنالوجی، لاجسٹکس، سیاحت سمیت اہم شعبوں میں نئے مواقع تلاش کرنے پر اتفاق کیا ہے۔
پیرس میں فرانسیسی سعودی انویسٹمنٹ راؤنڈ ٹیبل کا انعقاد سعودی ولی عہد و وزیراعظم محمد بن سلمان بن عبدالعزیز آل سعود کے دورۂ فرانس کے موقع پر ہوا، جس میں دونوں ممالک کے اعلیٰ حکام، کاروباری شخصیات اور بڑی کمپنیوں کے سربراہان نے شرکت کی۔
سعودی وزیر سرمایہ کاری فہد بن عبدالجلیل السیف نے کہا کہ سعودی عرب اور فرانس کے درمیان ایک صدی پر محیط تعلقات اب اقتصادی اور سرمایہ کاری کے تعاون کے ایک نئے مرحلے میں داخل ہوچکے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ سعودی عرب میں فرانسیسی براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری کا حجم 2024 میں 16.3 ارب یورو تک پہنچ گیا، جو گزشتہ پانچ برس کے دوران دوگنا ہوا ہے۔
انہوں نے کہا کہ فرانس سعودی عرب میں براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری کا چوتھا بڑا ذریعہ بن چکا ہے، جبکہ فرانسیسی سرمایہ کار سعودی عرب میں 18 مختلف شعبوں میں 650 سے زائد سرمایہ کاری لائسنس رکھتے ہیں۔
سعودی وزیر کے مطابق وژن 2030 کے تحت سعودی معیشت تیزی سے ترقی کر رہی ہے اور 2017 کے بعد ملکی مجموعی پیداوار میں تقریباً 85 فیصد اضافہ ہوا ہے، جبکہ غیر تیل شعبوں کا ملکی پیداوار میں حصہ نصف سے تجاوز کرچکا ہے۔ 2026 کی پہلی سہ ماہی میں سعودی عرب میں براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری تقریباً 6.1 ارب یورو رہی، جو گزشتہ سال کے اسی عرصے کے مقابلے میں 2.4 فیصد زیادہ ہے۔
فہد السیف نے فرانسیسی سرمایہ کاروں کے لیے توانائی، مالیاتی خدمات، ڈیجیٹل انفراسٹرکچر، جدید مینوفیکچرنگ، ٹرانسپورٹ، لاجسٹکس، گیمنگ اور سیاحت کو اہم مواقع قرار دیا۔ انہوں نے روایتی توانائی، پیٹروکیمیکلز اور صاف توانائی کے شعبوں میں بھی تعاون بڑھانے پر زور دیا۔
سعودی وزیر نے ملک کے تیزی سے ترقی کرتے گیمنگ اور ای اسپورٹس شعبے کو بھی فرانسیسی کمپنیوں کے لیے اہم موقع قرار دیتے ہوئے کہا کہ سعودی عرب کی نوجوان آبادی اور بڑھتی ہوئی ڈیجیٹل معیشت عالمی کمپنیوں کے لیے سرمایہ کاری کے وسیع امکانات رکھتی ہے۔
راؤنڈ ٹیبل میں بتایا گیا کہ ریجنل ہیڈکوارٹر پروگرام کے تحت 750 سے زائد عالمی کمپنیاں سعودی عرب منتقل ہوچکی ہیں، جن میں 39 فرانسیسی کمپنیاں بھی شامل ہیں جو مختلف شعبوں میں کام کررہی ہیں۔
فرانسیسی وزیر اقتصادیات و خزانہ رولان لیسکیور نے سعودی عرب اور فرانس کے تعلقات کی اسٹریٹجک اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے توانائی اور لاجسٹکس سیکیورٹی کو دونوں ممالک کی شراکت داری کے اہم ستون قرار دیا۔ انہوں نے سعودی عرب کو عالمی توانائی مارکیٹ کے استحکام میں ایک قابل اعتماد شراکت دار قرار دیا۔
ملاقات میں بتایا گیا کہ سعودی عرب اور فرانس کے درمیان دوطرفہ تجارت 2025 میں 44.2 ارب سعودی ریال تک پہنچ گئی، جبکہ 2024 میں سعودی عرب میں فرانسیسی براہ راست سرمایہ کاری 63.9 ارب سعودی ریال رہی، جو 2021 کے مقابلے میں دوگنا سے بھی زیادہ ہے۔
دونوں ممالک کے کاروباری نمائندوں نے مستقبل کی سرمایہ کاری، صنعتی منصوبوں، ٹرانسپورٹ و لاجسٹکس نیٹ ورک، مصنوعی ذہانت، ڈیجیٹل انفراسٹرکچر، توانائی اور دیگر شعبوں میں تعاون بڑھانے کے امکانات پر بھی تبادلہ خیال کیا۔ سعودی عرب کے وژن 2030 کے تحت دونوں ممالک کے درمیان سرمایہ کاری شراکت داری مزید مضبوط ہونے اور بڑے منصوبوں میں فرانسیسی کمپنیوں کی شرکت بڑھنے کی توقع ہے۔
