گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے کہا ہے کہ پیپلزپارٹی کے اپوزیشن میں بیٹھنے یا حکومت کے ساتھ رہنے کا حتمی فیصلہ پارٹی کی کور کمیٹی کرے گی، بلاول بھٹو زرداری کی اپوزیشن لیڈر سے ملاقات معمول کی سیاسی ملاقات تھی، اسے غیرمعمولی رنگ دینا مناسب نہیں۔
فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ قانون سازی کے معاملات پر اپوزیشن اور حکومتی ارکان ایک دوسرے سے ملاقاتیں کرتے رہتے ہیں، بلاول بھٹو کی اپوزیشن رہنماؤں سے ملاقات کو سیاسی طوفان قرار دینا چائے کی پیالی میں طوفان برپا کرنے کے مترادف ہے۔ پیپلزپارٹی اپنے سیاسی معاملات اور مستقبل کے لائحہ عمل پر مشاورت جاری رکھے ہوئے ہے، اس لیے کسی سیاسی ملاقات کو حتمی فیصلے سے تعبیر نہیں کیا جانا چاہیے۔
گورنر خیبرپختونخوا نے پاکستان تحریک انصاف پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ پی ٹی آئی کو مولانا فضل الرحمان سے اپنے کیے پر معافی مانگنی چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ سیاسی اختلافات اپنی جگہ موجود ہیں، تاہم ملک کے مفاد میں سیاسی جماعتوں کے درمیان بات چیت اور مفاہمت کا راستہ ہمیشہ کھلا رہنا چاہیے۔
ملکی اور علاقائی صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ بھارت کے خلاف جنگ اور سفارتکاری میں فیلڈ مارشل کا کردار قابلِ تعریف رہا ہے۔ پاکستان نے 47 سال بعد ایران اور امریکا کو مذاکرات کی میز پر لانے میں کردار ادا کیا، جو پاکستان کی بڑی سفارتی کامیابی ہے۔ دنیا بھی اب تسلیم کررہی ہے کہ پاکستان امن کا خواہاں ہے اور مشکل حالات میں ذمہ دارانہ سفارتکاری کا مظاہرہ کر رہا ہے۔
صوبے کی امن و امان کی صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے گورنر خیبرپختونخوا نے کہا کہ صوبہ دہشتگردی کا سامنا کر رہا ہے، اس لیے موجودہ حالات میں خیبرپختونخوا میں کسی قسم کا لانگ مارچ یا شارٹ مارچ نہیں ہونا چاہیے۔ تمام سیاسی قوتوں کو امن و استحکام کے لیے اپنا کردار ادا کرنا چاہیے اور ایسے اقدامات سے گریز کرنا چاہیے جن سے صوبے کے حالات مزید خراب ہوں۔
بانی پی ٹی آئی کی صحت سے متعلق فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ ان کا طبی معائنہ ہوچکا ہے اور وہ صحت مند ہیں۔ ان کے مطابق صحت جیسے معاملات کو غیرضروری سیاسی تنازع نہیں بنانا چاہیے۔
گورنر خیبرپختونخوا نے ہری پور واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے انتہائی افسوسناک قرار دیا اور وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا اور آئی جی پولیس سے مطالبہ کیا کہ واقعے کا فوری نوٹس لیتے ہوئے ذمہ دار عناصر کے خلاف کارروائی کی جائے۔
فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ وہ ہری پور جاکر غمزدہ والدین سے ملاقات کریں گے اور ان کے دکھ میں شریک ہوں گے۔ متاثرہ خاندانوں کو تنہا نہیں چھوڑا جائے گا اور واقعے میں ملوث ذمہ دار عناصر کو قانون کے کٹہرے میں لانا ضروری ہے۔
