Baaghi TV

پمز سانحہ، متاثرہ خاندانوں میں غم و غصہ؛ واقعے کی مکمل تحقیقات کا مطالبہ

پمز سانحے کے بعد متاثرہ خاندانوں کی جانب سے اسپتال کے ہنگامی انتظامات اور عملے کی موجودگی پر سنگین سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ ایک متاثرہ ماں نے سوال کیا ہے کہ سانحے کے وقت ڈاکٹر اور نرسیں کہاں تھیں اور آئی سی یو کو لاک کیوں کیا گیا تھا؟ دوسری جانب واقعے کی تحقیقات کے لیے قائم انکوائری کمیٹی نے غفلت کے ذمہ دار افراد کا تعین کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

انکوائری کمیٹی مستقبل میں ایسے افسوسناک واقعات کی روک تھام کے لیے ضروری اصلاحات اور حفاظتی اقدامات سے متعلق سفارشات بھی مرتب کرے گی۔ کمیٹی 48 گھنٹوں کے اندر اپنی سفارشات پر مشتمل عبوری رپورٹ وزیراعظم کو پیش کرے گی، جبکہ مکمل تحقیقات، ذمہ داروں کے تعین اور قابل عمل سفارشات پر مشتمل جامع رپورٹ 5 روز کے اندر وزیراعظم کو پیش کی جائے گی۔

وزارت قومی صحت کو انکوائری کمیٹی کا فوری نوٹیفکیشن جاری کرنے اور تحقیقات کے سلسلے میں کمیٹی کو ہر ممکن معاونت فراہم کرنے کی ہدایت بھی کی گئی ہے۔ کمیٹی پمز میں فائر سیفٹی انتظامات، ہنگامی اخراج کے راستوں، حفاظتی ضوابط اور واقعے کے دوران عملے کے ردعمل سمیت تمام متعلقہ پہلوؤں کا جائزہ لے گی۔

سانحے کے بعد متاثرہ خاندانوں میں شدید غم و غصہ پایا جا رہا ہے۔ ایک طرف سرکاری سطح پر واقعے کی تحقیقات جاری ہیں اور ذمہ داروں کا تعین کرنے کے دعوے کیے جا رہے ہیں، جبکہ دوسری جانب پمز انتظامیہ نے فائر سیفٹی انتظامات اور امدادی کارروائیوں سے متعلق اپنا مؤقف پیش کیا ہے۔

متاثرہ خاندانوں کے بیانات اور پمز انتظامیہ کے مؤقف میں سامنے آنے والے فرق کے باعث واقعے کے اصل حالات، ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے طریقہ کار، عملے کی موجودگی اور حفاظتی انتظامات کی مکمل اور غیر جانب دارانہ جانچ مزید اہم ہوگئی ہے۔ تحقیقات میں یہ بھی واضح کیا جانا ضروری ہوگا کہ آگ لگنے کے بعد نومولود بچوں اور دیگر مریضوں کے انخلا کے لیے مقررہ ہنگامی طریقہ کار پر کس حد تک عمل کیا گیا۔

سانحے میں جاں بحق ہونے والے بچوں میں ایک ہی خاندان کے جڑواں نومولود بھی شامل ہیں، جس نے غمزدہ خاندان کے دکھ میں مزید اضافہ کردیا ہے۔ جاں بحق بچوں کے جسد خاکی قانونی کارروائی مکمل ہونے کے بعد ورثا کے حوالے کیے جاچکے ہیں۔

واہ کینٹ میں بھی سانحے میں جاں بحق ہونے والی ایک نومولود بچی کی نماز جنازہ ادا کی گئی، جس کے بعد اسے سپرد خاک کردیا گیا۔ متاثرہ خاندان اپنے پیاروں کے اچانک بچھڑ جانے پر غمزدہ ہیں اور واقعے کی شفاف تحقیقات، ذمہ داروں کے تعین اور انصاف کے منتظر ہیں۔

More posts