Baaghi TV

ضمیر کا امتحان،تحریر:عائشہ گل

نظر اٹھا کر دیکھو تو سہی نفسا نفسی کا عالم ہے۔ اور تم ابھی بھی قیامت کے منتظر ہو؟ قیامت تو روز آ رہی ہے کبھی ڈیڑھ سال کی بچی کی چیخ بن کر کبھی چار سال کی لاش بن کر ہمارے معاشرے کی اینٹ سے اینٹ بج چکی ہے۔ رشتے اخلاق انسانیت سب منڈی میں نیلام ہو رہے ہیں۔ اور ہم ٹی وی کا ریموٹ بدل کر اگلی خبر پر چلے جاتے ہیں۔ پھر چاہے وہ ڈیڑھ سالہ بچی کے ساتھ درندگی کا واقعہ ہو چار سالہ معصوم بچی کی لاش کا کھیتوں سے ملنا ہو کراچی میں سوتیلی ماں کے ہاتھوں بچیوں کا قتل ہو یا پنجاب میں آن لائن بلیک میلنگ سے تنگ آ کر نوجوان لڑکیوں کی خودکشی ہو ہر خبر دل دہلا دیتی ہے ماں باپ خود اپنی اولاد کے دشمن بن چکے ہیں اور اپنی نااہلی کا بوجھ بھی تقدیر پر ڈال دیتے ہیں میڈیا کھولیں تو روز ایک نئی خبر سامنے آتی ہے آج فلاں بچی لاپتہ آج فلاں کا قتل آج کسی نے مہنگائی سے تنگ آ کر خودکشی کر لی۔

یہ واقعات اب اتنے عام ہو چکے ہیں کہ ہماری روح لمحہ بھر کے لیے بھی نہیں کانپتی۔ ہم سب خاموش تماشائی بنے بیٹھے ہیں مہنگائی کے بحران نے پہلے ہی کمر توڑ رکھی تھی ایک مزدور جس کی تنخواہ 25 ہزار ہے چار بچے ہیں اور گھر کرائے کا ہے وہ کس طرح گزر بسر کرے یہ احساس ان صاحبان اقتدار کو کیسے ہو اگر کبھی وہ ہار ماننے کا سوچے بھی تو یہی سوچ اسے روک دیتی ہے کہ کل بچوں کو کون پالے گا پھر تنگ آ کر وہی ہوتا ہے جو ہم آئے روز سنتے ہیں گھریلو جھگڑے خودکشیاں اور خاندانوں کا بکھر جانا دنیا بھر میں مظلوموں پر ظلم ہو رہا ہے غزہ ہو یا کہیں اور معصوموں کی چیخیں آسمان تک جا رہی ہیں مگر اصل امتحان ہمارا ہے کیا ہم اپنے گھر اپنے گلی محلے کے مظلوم کا ساتھ دے رہے ہیں یہ معاشرہ میرا نہیں یہ معاشرہ آپ کا نہیں یہ ہمارا معاشرہ ہے کب تک حکومت کی نااہلی کی سزا غریب بھگتے گا ٹی وی پر بیٹھ کر کہنا کہ ہم آپ کے غم میں برابر کے شریک ہیں یہ کہنا بہت آسان ہے مگر کیا کسی نے جا کر ان کے گھر کی حالت دیکھی یقینا نہیں!

میرے عزیزو! لمحہ فکریہ ہے لمحہ بیداری ہے !اگر ہم نے اب بھی اپنے ضمیروں کو نہ جگایا تو کب جگائیں گے؟ کل تک خون سفید ہو گیا سن کر لوگ کانپ جاتے تھے۔ آج تو پوری انسانیت کا خون سفید ہو چکا ہے۔ کیا ہم نے مرنا نہیں؟ کیا ہم نے رب کعبہ کے حضور پیش نہیں ہونا؟ آج اگر دوسرے لوگ خبروں کی زینت بنے ہیں۔ اور ہم خاموش ہیں۔ تو کیا خبر کل ان کی جگہ ہم ہوں۔ خدارا ان سب چیزوں سے نکل کر واپس اپنی اصل کی طرف آئیں! وہ اصل جس کی طرف لوٹنا ہے وہ اصل جو ہماری پہچان ہے۔ اور وہ اصل کیا ہے؟ اللہ کی طرف لوٹنا قبر کی طرف لوٹنا ایک دن ہم نے بھی چھ فٹ کی قبر میں لیٹ جانا ہے۔ اور کوئی خبر نہیں! کہ قبر بھی نصیب ہوتی ہے یا نہیں۔ بعض لوگوں کی لاشیں جلا دی جاتی ہیں۔ اور بعض لوگ پانی میں بہہ جاتے ہیں۔ قبر کا نصیب ہونا بھی آج کے دور میں بہت بڑی غنیمت ہے۔ جس دن ہمیں یہ یقین ہو گیا کہ ہمیں اللہ کے حضور کھڑا ہونا ہے ۔اسی دن ہم صرف سوال نہ اٹھائیں گے بلکہ اس کا حل بھی تلاش کریں گے۔ حل یہی ہے کہ اپنے گھر سے شروع کریں اپنے محلے کے یتیم کا خیال رکھیں! کسی مظلوم کی آواز بنیں۔ باتیں اب بہت ہو چکیں ۔آنسو بھی بہت بہا لیے۔ اب وقت ہے باتوں سے نکل کر عملی میدان میں قدم رکھنے کا۔ ہمیں نہ صرف دوسروں کے سوئے ہوئے ضمیروں کو جگانا ہے۔ بلکہ سب سے پہلے اپنا ضمیر جگانا ہے۔ کیونکہ تبدیلی کا آغاز ہمیشہ میں سے ہوتا ہے ۔وہ سے نہیں۔ ابھی بھی کچھ لوگ ہیں جو اندھیرے میں چراغ جلا رہے ہیں۔ بس ضرورت ہے ان کا ساتھ دینے کی۔اور خود کو اس راستے پر گامزن کرنے کی۔ایک بار اس راستے پر چل۔تو رب کی بارگاہ میں سر خرو ہو جائیں گے۔ان شاءاللہ اللہ ہم سب کا حامی و ناصر ہو۔ آمین یا رب العالمین

More posts