اسلام آباد کے پاکستان انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) اسپتال کی نرسری میں آتشزدگی کے دلخراش واقعے کی تحقیقاتی کمیٹی کی عبوری رپورٹ وزیراعظم شہباز شریف کو پیش کردی گئی، جس کی روشنی میں 8 افراد کو فوری معطل کرنے اور ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کی منظوری دے دی گئی ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت پمز آتشزدگی واقعے پر اعلیٰ سطح کا اجلاس ہوا، جس میں تحقیقاتی کمیٹی کی عبوری رپورٹ پیش کی گئی اجلاس میں وزیراعظم نے غفلت کے مرتکب 8 افراد کو فوری معطل کرنے کی منظوری دی، وزیراعظم نے ذمہ دار افراد کے خلاف محکمانہ کارروائی کے ساتھ فوجداری قوانین کے تحت کارروائی کی بھی ہدایت کردی ہے۔ وزیراعظم نے پمز کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر کو عہدے سے ہٹا دیا ہے۔
ذرائع کے مطابق تحقیقاتی کمیٹی کے سربراہ اور سابق سیکریٹری داخلہ شاہد خان نے یہ رپورٹ وزیراعظم کے مشیر توقیر شاہ کے دفتر میں جمع کروائی تمام ارا کین کے دستخط شدہ اس رپورٹ کو پبلک کرنے کا اختیار وزیراعظم کے پاس ہے۔
رپورٹ میں پمز اسپتال کے اندر علاج معالجے اور فائر سیفٹی کی ناکافی سہولیات کی نشاندہی کرتے ہوئے واضح کیا گیا ہے کہ وہاں کوئی بھی حفاظتی بندوبست عالمی معیار کے مطابق نہیں تھا رپورٹ میں اسپتال انتظامیہ، ڈاکٹروں کے انٹرویوز، فائربریگیڈ اور ریسکیو ٹیموں کے بیانات کے ساتھ ساتھ امدادی کارروائیوں میں درپیش شدید مشکلات کا بھی تفصیلی ذکر کیا گیا ہے۔
وزیراعظم کی جانب سے کارروائی کی منظوری کے بعد غفلت کے ذمہ دار قرار دیے گئے افراد کے خلاف محکمانہ اور فوجداری قوانین کے تحت کارروائی کا عمل شروع کیا جائے گا کمیٹی نے واقعے کے وقت غیر حاضر پائے جانے والے متعلقہ عملے کے خلاف سخت کارروائی کی سفارش کی ہے۔
واضح رہے کہ اس سے قبل سی ڈی اے فائر انسیڈنٹ رپورٹ میں بھی یہ بات سامنے آئی تھی کہ اسپتال کے فائر ایگزٹ کو تالے لگا کر مستقل بند رکھا گیا تھا اور سیکیورٹی عملے نے فائر بریگیڈ کے ابتدائی رسپانس میں رکاوٹیں کھڑی کیں سانحے کے روز پیش آنے والے واقعات اور انتظامی اقدامات سے متعلق مختلف حکام اور عینی شاہدین کی جانب سے متضاد بیانات بھی سامنے آئے ہیں۔
وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے صورتحال کی وضاحت کرتے ہوئے بتایا کہ صبح چھ بج کر اڑتیس منٹ پر ممکنہ طور پر ایئر کنڈیشنر سے چنگاری اٹھی اور ویڈیو کے مطابق چھ بج کر انتالیس منٹ پر لوگ وارڈ سے نکلنا شروع ہوئے وارڈ میں چودہ بچے آکسیجن پر تھے جس نے آگ کو تیزی سے بھڑکایا، جبکہ اسپتال میں خودکار فائر سپرنکلر سسٹم موجود نہیں تھا اور آگ بجھانے کے لیے چھبیس سلنڈر استعمال کیے گئے،نوٹسز موصول ہونے پر عملدرآمد کی پوری کوشش کی جاتی رہی ہے۔
ایگزیکٹو ڈائریکٹر پمز رانا عمران سکندر نے تالے لگانے کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ بچوں کے چوری ہونے کے ماضی کے واقعات کے باعث صرف ایک دروازہ محدود رسائی کے لیے رکھا جاتا تھا لیکن اس پر تالا نہیں تھا۔
