Baaghi TV

پٹڑی پر ماضی، منزل پر مستقبل،تحریر: رئیس عنایت اللہ چاچڑ

پاکستان ریلوے کی سیٹی کبھی اس ملک کی ترقی، سفر اور رابطے کی علامت سمجھی جاتی تھی۔ کراچی سے پشاور تک پھیلا ہوا ریلوے کا مرکزی راستہ صرف ریل کی پٹڑی نہیں بلکہ برصغیر کی تاریخ، تجارت، معیشت اور عوامی رابطے کی ایک طویل داستان اپنے اندر سموئے ہوئے ہے۔ اس نظام کی بنیاد برطانوی دور میں مختلف مراحل کے ذریعے رکھی گئی۔ کراچی سے کوٹری تک پہلی عوامی ریلوے لائن 13 مئی 1861ء کو کھولی گئی، لاہور سے پشاور کا ریلوے سیکشن 1876ء میں مکمل ہوا اور روہڑی سے ملتان کا حصہ 1879ء میں نیٹ ورک کا حصہ بنا، جبکہ مختلف حصے بالآخر 1900ء تک باہم مربوط ہوگئے۔ اس وقت بچھائی جانے والی پٹڑی اپنے زمانے کی جدید ترین ضرورت تھی، مگر افسوس کہ ایک آزاد ملک کی حیثیت سے کئی دہائیاں گزرنے کے باوجود ہم اپنے ریلوے نظام کو اس رفتار سے جدید نہ بنا سکے جس کی ضرورت تھی۔

آج کا اصل سوال یہ نہیں کہ پاکستان ریلوے کا ماضی کتنا شاندار تھا، سوال یہ ہے کہ اس کا مستقبل کتنا محفوظ اور روشن ہے؟ ایک طرف دنیا جدید ترین ریل نظام، تیز رفتار ٹرینوں، خودکار سگنلنگ اور محفوظ سفری سہولیات کی طرف بڑھ رہی ہے، دوسری طرف ہمارے ریلوے نظام کے کئی حصے اب بھی پرانے ٹریک، فرسودہ سگنلنگ، کمزور انفراسٹرکچر اور محدود سہولیات کا بوجھ اٹھا رہے ہیں۔ ایسے حالات میں معمولی سی غفلت بھی بڑے سانحے کا سبب بن سکتی ہے۔ ماضی میں پیش آنے والے متعدد جان لیوا ریلوے حادثات ہمیں بار بار یہ احساس دلاتے ہیں کہ ریلوے کی حفاظت صرف ایک محکمانہ معاملہ نہیں بلکہ انسانی زندگیوں کا سوال ہے۔ مسافر جب ٹرین میں سوار ہوتا ہے تو وہ اپنی جان کا بھروسا ریاستی نظام، ڈرائیور، ٹریک، سگنلنگ اور پورے ریلوے انفراسٹرکچر پر کرتا ہے؛ اس اعتماد کو برقرار رکھنا حکومت اور متعلقہ اداروں کی بنیادی ذمہ داری ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں ایم ایل ون منصوبے کی اہمیت کئی گنا بڑھ جاتی ہے۔ کراچی سے پشاور تک ریلوے کے مرکزی راستے کو جدید خطوط پر استوار کرنا، ٹریک کو اپ گریڈ اور ڈوئلائز کرنا، جدید سگنلنگ اور مواصلاتی نظام نصب کرنا، پلوں کو مضبوط بنانا، خطرناک لیول کراسنگز کو محفوظ بنانا اور ٹرینوں کی رفتار و سفری معیار میں اضافہ کرنا وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔ ایم ایل ون کی تکمیل پاکستان کے ریلوے نظام کو محض ایک نئی پٹڑی نہیں دے گی بلکہ ملک کے سفری اور معاشی ڈھانچے میں ایک بڑی تبدیلی کا دروازہ کھول سکتی ہے۔ تیز اور محفوظ ریلوے سے مسافروں کو سہولت ملے گی، مال برداری بہتر ہوگی، بندرگاہوں اور صنعتی مراکز کے درمیان رابطہ مضبوط ہوگا اور ملکی تجارت کو نئی رفتار مل سکتی ہے۔ سی پیک کے وسیع تر وژن میں بھی جدید مواصلاتی ڈھانچے کو بنیادی حیثیت حاصل ہے۔

اگر پاکستان واقعی اپنے جغرافیائی محلِ وقوع کو معاشی طاقت میں تبدیل کرنا چاہتا ہے تو سڑکوں کے ساتھ ساتھ ریلوے نیٹ ورک کو بھی جدید بنانا ہوگا۔ گوادر سے کراچی، کراچی سے اندرونِ ملک اور پھر شمالی علاقوں تک بہتر ریلوے رابطہ نہ صرف ملکی معیشت بلکہ علاقائی تجارت کے لیے بھی اہم ثابت ہو سکتا ہے۔ لیکن منصوبوں کا اعلان کافی نہیں؛ اصل کامیابی اس وقت ہوگی جب منصوبے کاغذوں سے نکل کر زمین پر نظر آئیں اور ان کی تکمیل مقررہ اہداف کے مطابق ہو۔ قومی سطح کے بڑے منصوبوں کے ساتھ ساتھ علاقائی ریلوے رابطوں کو بھی نظرانداز نہیں کیا جانا چاہیے۔

خانپور تا چاچڑاں شریف تاریخی برانچ لائن اس کی ایک نمایاں مثال ہے۔ یہ ریلوے لائن ریاست بہاولپور کے دور میں قائم ہوئی اور 1911ء میں ٹریفک کے لیے کھولی گئی تھی۔ اس تاریخی راستے نے خانپور کو کوٹلہ پٹھان، ججہ عباسیاں، ظاہر پیر اور چاچڑاں شریف جیسے علاقوں سے جوڑا تھا۔ آج یہ لائن ماضی کی ایک خاموش یاد بن چکی ہے، مگر اس کے احیاء میں مستقبل کے بے شمار امکانات پوشیدہ ہیں۔ خانپور تا چاچڑاں شریف ریلوے لائن کی بحالی محض ایک مقامی مطالبہ نہیں سمجھا جانا چاہیے۔ یہ خطے کے عوام کے لیے روزگار، تعلیم، علاج، تجارت اور سفر کے نئے مواقع پیدا کرنے کا ذریعہ بن سکتی ہے۔ زرعی علاقوں سے پیداوار کی منڈیوں تک رسائی آسان ہو سکتی ہے، مقامی کاروبار کو فروغ مل سکتا ہے اور تاریخی و ثقافتی مقامات تک سیاحوں کی رسائی بہتر بنائی جا سکتی ہے۔ اگر ایک صدی سے زیادہ پرانی لائن اپنے وقت میں لوگوں کو ایک دوسرے سے جوڑ سکتی تھی تو آج جدید تقاضوں کے مطابق اس کی بحالی اس سے کہیں زیادہ مؤثر ثابت ہو سکتی ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ پاکستان ریلوے کے مستقبل کو وقتی مرمتوں کے بجائے ایک جامع اور طویل المدتی منصوبہ بندی کے تحت دیکھا جائے۔ جہاں ایم ایل ون جیسے بڑے منصوبوں کو ترجیحی بنیادوں پر مکمل کیا جائے، وہیں تاریخی برانچ لائنوں کی بحالی، اسٹیشنوں کی تزئین و آرائش، جدید سگنلنگ، محفوظ لیول کراسنگز، بہتر کوچز اور مسافروں کے لیے بنیادی سہولیات کو بھی قومی ریلوے پالیسی کا حصہ بنایا جائے۔ ریلوے صرف مسافروں کو ایک شہر سے دوسرے شہر پہنچانے کا ذریعہ نہیں بلکہ یہ معیشت کی رفتار، تجارت کی روانی اور قومی یکجہتی کا اہم ستون ہے۔ ہمیں یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ ہم اپنے ریلوے نظام کو ماضی کی نشانی کے طور پر محفوظ رکھنا چاہتے ہیں یا اسے مستقبل کی ترقی کا ذریعہ بنانا چاہتے ہیں۔ برطانوی دور کے لوگوں نے اپنے وقت کی ضرورت کے مطابق پٹڑی بچھائی تھی؛ اب آزاد پاکستان کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے دور کی ضرورت کے مطابق اس پٹڑی کو جدید بنائے۔ کراچی سے پشاور تک ایم ایل ون کی تکمیل، سی پیک کے منصوبوں پر مؤثر عملدرآمد اور خانپور تا چاچڑاں شریف جیسی تاریخی برانچ لائنوں کی بحالی ایک ایسے پاکستان کی بنیاد رکھ سکتی ہے جہاں ریل صرف سفر کا ذریعہ نہیں بلکہ ترقی کی رفتار بنے۔ ریلوے کی پٹڑی پر دوڑتی ہوئی ٹرین دراصل قوم کی سمت کا استعارہ ہوتی ہے۔ اگر پٹڑی مضبوط، سگنل واضح اور نظام جدید ہو تو سفر محفوظ بھی ہوتا ہے اور منزل قریب بھی آتی ہے۔ اب وقت ہے کہ پاکستان اپنی ریلوے کو ماضی کے بوسیدہ ڈھانچے سے نکال کر مستقبل کی جدید شاہراہ پر لے آئے، کیونکہ ایک محفوظ، تیز رفتار اور مضبوط ریلوے صرف مسافروں کو منزل تک نہیں پہنچاتی بلکہ پوری قوم کو ترقی کی منزل کے قریب لے جاتی ہے۔

More posts