ہر سال کی طرح اس سال بھی 12 ربیع الاول کو ہم نے جشن ولادت مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم خوب جوش و خروش سے منایا ۔ سرکار کی آمد مرحباً کے نعرے لگائے ۔ عمارتوں پر چراغاں کیا اور ایک دوسرے کو عید میلاد کی خوشی میں مبارکبادیں دیں ۔ بلا شبہ آپ صلعم کی ولادت باسعادت ملت اسلامیہ کے لیے باعث صد مسرت و انبساط ہے۔ اس نعمت ربانی پر اللہ کا جتنا بھی شکر ادا کیا جائے اور جتنی بھی خوشی کا اظہار کیا جائے وہ کم ہی ہے۔
مبارک ہو کہ دورِ راحت و آرام آ پہنچا
نجاتِ دائمی کی شکل میں اسلام آ پہنچا
مبارک ہو کہ ختمِ المرسلیں تشریف لے آئے
جنابِ رحمتہ للعٰلمین تشریف لے آئے
تاہم اس موقع پر میری چشمِ تصور میں مدینہ النبی کی وہ نورانی فضاء جگمگانے لگی جہاں امام الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی ذاتِ مبارک خود موجود تھی۔ وہاں ہر سال 12 ربیع الاول کا دن عام دنوں کی طرح آتا اور گذر جاتا۔ نہ کوئی محفل سجائی جاتی نہ کوئی اور اہتمام کیا جاتا ۔
مگر 11ھجری کے 12 ربیع الاول کا سورج تاریخ اسلام کا انتہائی غمزدہ دن لے کر طلوع ہوا۔ مدینہ منورہ کا ہر گوشہ اور ہر کوچہ ماتم کدہ بن گیا ۔ صحابہ کرام ناقابل بیان غم و اندوہ میں ڈوبے ہوئے تھے ۔ امہات المومنین کا دل پھٹا جارہا تھا ۔ اطراف و اکناف کے سب مسلمان شدت غم سے زاروقطار رو رہے تھے ۔ کیونکہ اس روز تاجدار کائنات، فخر رسل ، سید الکونین نبی رحمت صلی اللہ علیہ وسلم اپنی امت کو روتا بلکتا چھوڑ کر اپنے اللہ کے حضور جا چکے تھے ۔ صحابہ کرام کو نبی کی مفارقت کا یقین ہی نہیں آ رہا تھا ۔ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ جیسی جہاں دیدہ اور مدبر شخصیت بھی فرط غم سے کہہ اٹھی کہ جس نے محمد کی وفات کا اعتراف کیا، میں اس کی گردن اڑا دوں گا۔ وہ دن ریاست مدینہ کے لیے بے انتہا سوگ اور گریہ و زاری کا دن تھا ۔
اب زمانہ کا انقلاب ملاحظہ ہو کہ 1400 سال کے بعد وہی دن غمزدگی اور افسردگی کا لبادہ اتار کر ایک جشن کی صورت اختیار کر چکا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی امت اس دن کو آپ کی وفات کا غم یاد کرنے کی بجائے آپ کا یوم ولادت قرار دے چکی ہے اور اس مناسبت سے اسے عید کا نام دے چکی ہے۔ رنج و الم کی کیفیت کا مسرت و فرحت میں تبدیل ہونے کا یہ سفر اپنی جگہ بہت حیرت انگیز ہے بقول اقبال:
زمانے کے انداز بدلے گئے
نیا راگ ہے ساز بدلے گئے
