Baaghi TV

سرخ آسمان ،تحریر: سیدہ شبانہ رضوی

بچپن کے دن بھی کیا عجیب دن تھے۔ سادگی تھی، معصومیت تھی اور شاید دل بھی کچھ زیادہ زندہ تھے۔ فطرت کی ہر تبدیلی ہمیں اپنے اندر کسی نہ کسی احساس سے جوڑ دیتی تھی۔
مجھے آج بھی یاد ہے، جب کبھی شام کے وقت یا رات کے پچھلے پہر پورا آسمان اچانک گہرے سرخ رنگ کی چادر اوڑھ لیتا تو ہم بچے گھبرا کر اپنے نانا، نانی کے پاس جا بیٹھتے اور پوچھتے کہ آسمان اتنا سرخ کیوں ہوگیا ہے؟
وہ بڑے گہرے دکھ کے ساتھ کہتے:
"لگتا ہے دنیا میں کہیں کسی بے گناہ کا خون بہایا گیا ہے، کسی مظلوم کی آہ سے آسمان بھی خون کے آنسو رو رہا ہے۔
ہمیں اس بات کی گہرائی کا علم تو نہیں تھا۔ لیکن ہم اداس ہو جایا کرتے تھے
شاید وہ ہمارے بزرگوں کا ہمیں انسانیت کا سبق دینے کا ایک معصوم سا انداز تھا۔ وہ ہمیں بتاتے تھے کہ دنیا کے کسی کونے میں ہونے والا ظلم صرف مظلوم کا دکھ نہیں، بلکہ پوری انسانیت کا دکھ ہے۔
آج کئی دہائیاں گزر چکی ہیں۔ کبھی کبھی شام کے وقت میں آسمان کی طرف دیکھتی ہوں تو بچپن کی وہ بات یاد آ جاتی ہے۔
دل پوچھتا ہے:
کیا اب دنیا میں کسی بے گناہ کا خون نہیں بہتا؟
کیا ظلم ختم ہوگیا؟
کیا انسانیت واقعی جاگ گئی؟
مگر پھر خبریں سامنے آتی ہیں

آج تو ظلم پہلے سے کہیں زیادہ ہے۔ فرق صرف اتنا ہے کہ اب ہمیں ظلم کی خبریں سننے کے لیے آسمان کی سرخی طرف دیکھنے کی ضرورت نہیں۔ موبائل کی ایک اسکرین پر دنیا بھر کے مظالم ہمارے سامنے موجود ہیں۔
روز کوئی خبر دل دہلا دیتی ہے۔ کہیں کوئی بچی درندگی کا شکار ہوتی ہے، کہیں کسی معصوم کو تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے، کہیں کسی ماں کی گود اجڑ جاتی ہے۔
کراچی کی معصوم ایزل کی والدہ کے وہ الفاظ آج بھی دل کو چیر دیتے ہیں:
"وہ بہت چھوٹی تھی نا… تو بتا نہیں سکی کہ اس کو درد کدھر ہے۔”
یہ صرف ایک ماں کا جملہ نہیں۔ یہ ہمارے معاشرے کے ضمیر پر ایک سوال ہے۔
ایک ایسی ننھی بچی جو اپنے جسم پر ہونے والی تکلیف کی جگہ تک بیان نہیں کر سکتی تھی، وہ کس اذیت سے گزری ہوگی؟ اور اس کی ماں کس کرب سے یہ الفاظ ادا کر رہی ہوگی؟

کم سن آیت نور کی والدہ کا درد بھی اسی اجتماعی بے حسی پر ایک زوردار طمانچہ ہے۔ ایک ماں کا یہ کہنا کہ اس کی بچی اتنی معصوم تھی کہ اسے جوتا سیدھا یا الٹا پہننے کا بھی شعور نہیں تھا، مگر وہ اس دنیا کی سفاکی کا شکار ہوگئی، انسان کو اندر تک ہلا دیتا ہے۔
زینب جیسے سانحات بھی ہم بھول نہیں سکتے۔ ایسے واقعات کے بعد پورا معاشرہ چند دنوں کے لیے جاگتا ہے، احتجاج ہوتا ہے، آوازیں بلند ہوتی ہیں، انصاف کے مطالبے کیے جاتے ہیں، مگر پھر وقت گزرنے کے ساتھ سب کچھ دوبارہ معمول بن جاتا ہے۔
یہی شاید ہمارے عہد کا سب سے بڑا المیہ ہے۔
ہم ظلم سے زیادہ اس کی خبر کے عادی ہوگئے ہیں۔
سوشل میڈیا نے ہمیں معلومات تو بے شمار دے دی ہیں، مگر شاید احساس کم کر دیا ہے۔ ہم کسی معصوم پر تشدد کی ویڈیو دیکھتے ہیں، چند لمحوں کے لیے افسوس کرتے ہیں، ایک تعزیتی جملہ لکھتے ہیں، شاید کوئی ہیش ٹیگ بھی چلا دیتے ہیں اور پھر اگلے ہی لمحے کسی تفریحی ویڈیو کی طرف بڑھ جاتے ہیں۔
کسی ماں کی چیخ ہمارے لیے چند لمحوں کی خبر بن کر رہ گئی ہے۔
کسی معصوم کی موت ایک نوٹیفکیشن بن گئی ہے۔
اور کسی مظلوم کی زندگی چند دن کی سوشل میڈیا بحث۔
ہم نے درد کو بھی وقت کی ایک مختصر مدت میں قید کر دیا ہے۔
مسئلہ صرف قانون کا نہیں، مسئلہ ہمارے اجتماعی رویے کا بھی ہے۔ جب معاشرہ ظلم کے خلاف مستقل مزاجی سے کھڑا نہ ہو تو ظالم کے حوصلے بڑھتے ہیں اور مظلوم کی آواز کمزور پڑتی جاتی ہے۔
ہمیں سوچنا ہوگا کہ آخر وہ کون سی چیز ہے جو ہمارے اندر سے ختم ہوگئی ہے؟
میرے خیال میں وہ احساس ہے۔
وہی احساس جس کی وجہ سے ہمارے بزرگ آسمان کے سرخ ہونے کو کسی مظلوم کے خون سے جوڑتے تھے۔
آج شاید آسمان سرخ نہ ہوتا ہو، مگر ظلم تو موجود ہے۔ چیخیں آج بھی بلند ہوتی ہیں۔ ماؤں کی گودیں آج بھی اجڑتی ہیں۔ معصوم بچیاں آج بھی درندگی کا شکار ہوتی ہیں۔
تو پھر آسمان خاموش کیوں ہے؟
شاید اس لیے کہ آسمان سے پہلے ہم خاموش ہو چکے ہیں۔
شاید فطرت نہیں بدلی، ہم بدل گئے ہیں۔
شاید آسمان نے ماتم کرنا نہیں چھوڑا، ہم نے اس کے ماتم کو محسوس کرنا چھوڑ دیا ہے۔
آج ضرورت صرف مجرموں کو سزا دینے کی نہیں، اپنے اندر کے انسان کو زندہ کرنے کی بھی ہے۔

ہمیں ایسا معاشرہ بنانا ہوگا جہاں کسی بچی کو اپنے گھر، گلی، مدرسے، اسکول یا کسی بھی جگہ خود کو غیر محفوظ محسوس نہ ہو۔ جہاں کسی ماں کو اپنی بیٹی کے لیے انصاف مانگتے ہوئے در در نہ بھٹکنا پڑے۔ جہاں ظلم چند دن کی خبر نہیں بلکہ مستقل اجتماعی تشویش بنے۔
بچپن میں ہمارے بزرگ شاید ہمیں آسمان کے سرخ ہونے کی سائنسی وجہ نہیں بتاتے تھے، مگر وہ ہمیں ایک ایسی حقیقت ضرور سمجھا رہے تھے جو آج ہماری سب سے بڑی ضرورت ہے:
کسی بے گناہ کا درد صرف اس کا اپنا درد نہیں ہوتا۔
اگر کسی معصوم کی چیخ ہماری روح کو نہیں ہلاتی، اگر کسی ماں کے آنسو ہمیں بے چین نہیں کرتے، اگر کراچی کی ایزل کی ماں کا یہ جملہ کہ "وہ بتا نہیں سکی کہ اس کو درد کدھر ہے” ہمیں اندر سے نہیں توڑتا، تو پھر ہمیں اپنے آپ سے ضرور پوچھنا چاہیے کہ ہمارے اندر انسان کتنا باقی رہ گیا ہے؟
آج شام جب میں آسمان کی طرف دیکھتی ہوں تو سرخ رنگ شاید نظر نہیں آتا، مگر ایک گہرا اندھیرا ضرور محسوس ہوتا ہے۔
یہ اندھیرا آسمان پر نہیں۔
یہ ہماری اپنی روحوں میں اتر چکا ہے۔
اور شاید اس دور کا سب سے بڑا سانحہ یہ نہیں کہ ظلم بڑھ گیا ہے۔
سب سے بڑا سانحہ یہ ہے کہ ظلم دیکھ کر ہمارا تڑپنا کم ہوگیا ہے۔
اب آسمان لال ہو یا نہ ہو، ہمیں اپنے دل ضرور زندہ رکھنے ہوں گے۔
کیونکہ جس دن انسان کے اندر مظلوم کے لیے درد ختم ہوگیا، اُس دن صرف انسانیت نہیں مرے گی—انسان بھی مر جائے گا۔آسمان نے تو پہلے ہی سرخ ہونا چھوڑ دیا ہے ۔۔

More posts