آسٹریلیا کے جنوبی حصے میں ہر سال افزائش نسل کے موسم کے دوران ہزاروں بلکہ بعض برسوں میں ایک لاکھ سے زائد دیوہیکل کٹل فش جمع ہوتی ہیں، تاہم رواں سال ان کی تعداد میں غیر معمولی کمی نے ماہرین کو تشویش میں مبتلا کردیا ہے۔
جنوبی آسٹریلیا کی اسپینسر گلف میں واقع پوائنٹ لوولی کے ساحل پر ہر سال موسم سرما میں دیوہیکل کٹل فش افزائش نسل کے لیے جمع ہوتی ہیں۔ اسے دنیا میں کٹل فش کا سب سے بڑا اجتماعی افزائشی اجتماع سمجھا جاتا ہے، جہاں نر کٹل فش رنگ اور جسمانی شکلیں بدل کر ماداؤں کو اپنی جانب متوجہ کرتی ہیں۔
تاہم رواں سال غوطہ خوروں کے ایک سروے کے دوران صرف 44 کٹل فش دیکھی گئیں، جبکہ معمول کے برسوں میں اس مقام پر دسیوں ہزار سے لاکھوں کٹل فش موجود ہوتی ہیں۔ سروے کے دوران صرف 440 انڈے بھی ملے، حالانکہ عام طور پر ان کی تعداد لاکھوں میں ہوتی ہے۔
ماہرین کے مطابق گزشتہ برس جنوبی آسٹریلیا میں پھیلنے والی شدید زہریلی الجی نے سمندری ماحول کو بری طرح متاثر کیا، جس کے اثرات کٹل فش کی افزائش نسل پر بھی پڑنے کا خدشہ ہے۔ تاہم سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ کٹل فش کی تعداد میں اچانک ہونے والی اس غیر معمولی کمی کی حتمی وجوہ جاننے کے لیے مزید تحقیق کی ضرورت ہے۔
ماہرین کے مطابق کٹل فش کی یہ مخصوص آبادی اپنی مختصر زندگی کے باعث ہر سال کامیاب افزائش نسل پر بہت زیادہ انحصار کرتی ہے، کیونکہ بالغ کٹل فش افزائش نسل کے بعد عموماً مر جاتی ہیں۔ ایسے میں رواں سال افزائشی موسم کے دوران کٹل فش کی انتہائی کم تعداد آئندہ نسل کے لیے بھی ایک سنگین خطرہ بن سکتی ہے۔
