کراچی: میر رضا کیس میں لاش کا پہلا پوسٹ مارٹم کرنے والے پولیس سرجن ڈاکٹر اسامہ جوڈیشل کمیشن کے روبرو پیش ہوئے، جہاں انہیں پوسٹ مارٹم رپورٹ اور پیشہ ورانہ تربیت سے متعلق سخت سوالات کا سامنا کرنا پڑا۔
جوڈیشل کمیشن نے ڈاکٹر اسامہ سے استفسار کیا کہ انہوں نے ایم بی بی ایس کی ڈگری کب مکمل کی اور میڈیکو لیگل شعبے میں کب سے خدمات انجام دے رہے ہیں۔ ڈاکٹر اسامہ نے بتایا کہ انہوں نے 2016 میں ایم بی بی ایس مکمل کیا، 2019 میں سندھ پبلک سروس کمیشن کے ذریعے سروس جوائن کی جبکہ 2021 میں پولیس سرجن آفس میں تعینات ہوئے۔ بعد ازاں انہیں جناح پوسٹ گریجویٹ میڈیکل سینٹر میں بطور میڈیکو لیگل افسر تعینات کیا گیا۔
کمیشن نے سوال کیا کہ کیا ایم بی بی ایس کے دوران میڈیکو لیگل کی تربیت دی جاتی ہے اور ڈگری مکمل کرنے کے بعد اس حوالے سے کوئی باقاعدہ ٹریننگ ہوتی ہے؟ اس کے علاوہ ڈاکٹر اسامہ سے اب تک کیے گئے پوسٹ مارٹمز کی تعداد بھی دریافت کی گئی۔ڈاکٹر اسامہ نے بتایا کہ وہ حتمی تعداد نہیں بتا سکتے، تاہم اب تک کم از کم 100 سے زائد پوسٹ مارٹم کرچکے ہیں۔ کمیشن نے سوال اٹھایا کہ کیا انہوں نے ڈپلومہ مکمل کیے بغیر پوسٹ مارٹم کیے؟ ڈاکٹر اسامہ نے جواب دیا کہ ڈپلومہ مکمل کرنے کے بعد انہوں نے تقریباً 30 سے 50 پوسٹ مارٹم کیے ہوں گے۔
کمیشن نے میر رضا کے پوسٹ مارٹم سے متعلق سوال کرتے ہوئے پوچھا کہ پوسٹ مارٹم انہوں نے خود کیا تھا یا سویپر نے؟ ڈاکٹر اسامہ نے جواب دیا کہ میر رضا کا پوسٹ مارٹم انہوں نے خود کیا تھا۔کمیشن نے دوبارہ استفسار کیا کہ پوسٹ مارٹم ڈاکٹر کرتے ہیں یا سویپر؟ ڈاکٹر اسامہ نے وضاحت کی کہ ہر پوسٹ مارٹم کے دوران سویپر بھی موجود ہوتا ہے۔اس موقع پر کمیشن نے ڈاکٹر اسامہ کی سرزنش کرتے ہوئے کہا کہ کمیشن کے سامنے اسمارٹ بننے کی کوشش نہ کریں۔ کمیشن نے رپورٹ میں جسم یا ہاتھ پر جلنے کے نشانات کے ذکر سے متعلق بھی سوالات کیے اور پوچھا کہ کیا پوسٹ مارٹم رپورٹ میں درج تفصیلات مناسب تھیں اور میر رضا کے جلنے کا ذکر کہاں کیا گیا ہے؟ڈاکٹر اسامہ نے بتایا کہ جسم پر جلنے کے نشانات نہیں تھے بلکہ رنگ تبدیل ہوا تھا۔ اس جواب پر کمیشن نے سوال کیا، ’’کیا آپ ڈاکٹر ہیں بھی؟‘‘ کمیشن نے کہا کہ اگر رپورٹ میں کوئی غلطی ہوئی ہے تو اسے تسلیم کیا جائے۔کمیشن نے مزید نشاندہی کی کہ رپورٹ میں کسی ہڈی کے ٹوٹنے کا ذکر نہیں۔ ڈاکٹر اسامہ نے جواب دیا کہ معائنے کے دوران کوئی واضح فریکچر نہیں ملا۔جوڈیشل کمیشن نے یہ بھی پوچھا کہ کیا انہیں صرف ایک گولی کا نشان نظر آیا اور کیا لاش کا چہرہ ڈی کمپوز تھا؟ ڈاکٹر اسامہ نے بتایا کہ 24 سے 36 گھنٹوں کے دوران چہرہ ڈی کمپوز ہونا شروع ہوجاتا ہے۔
’’دوست کمرے میں کچھ ڈھونڈ رہے تھے، بعد میں پارٹنرشپ معاہدہ غائب ملا‘‘
میر رضا کے والدین نے بھی جوڈیشل کمیشن کے سامنے اہم تفصیلات بیان کیں۔میر رضا کے والد نے بتایا کہ بیٹے کی گمشدگی کے بعد فیروز آباد تھانے نے فوری طور پر ایف آئی آر درج کرنے سے انکار کردیا اور کہا کہ نوجوان ہے، ممکن ہے ناراض ہوکر کہیں چلا گیا ہو۔ان کے مطابق ون فائیو پر رابطے کے باوجود پولیس کی جانب سے فوری مدد نہیں ملی۔ انہوں نے خود گھر کے قریب نصب سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج دیکھی، جس میں ایک گاڑی گھر کے سامنے سے گزرتی دکھائی دی۔ پڑوسی کے کیمرے کی فوٹیج میں میر رضا کو پیدل چلتے ہوئے دیکھا گیا۔والد نے بتایا کہ انہوں نے ایک ڈپارٹمنٹل اسٹور سے بھی سی سی ٹی وی فوٹیج دکھانے کی درخواست کی، تاہم اسٹور انتظامیہ نے انکار کردیا۔ بعد ازاں ایک جاننے والے اے ایس آئی کی مدد سے فوٹیج دیکھی گئی، جس میں میر رضا گاڑی میں بیٹھ کر جاتے ہوئے نظر آئے۔ان کے مطابق گاڑی خالد بن ولید روڈ کی جانب رانگ سائیڈ تیزی سے جاتی دکھائی دی اور پھر جھیل پارک کی طرف جاتے ہوئے نظر آئی۔ اہل خانہ نے اپنی مدد سے گاڑی کو ٹریس کرنے کی کوشش کی جبکہ ان کے بقول پولیس نے ان کے سامنے کوئی سی سی ٹی وی فوٹیج حاصل نہیں کی۔ شام سات بجے ایس آئی او شبیر لغاری گھر آئے۔
میر رضا کی والدہ نے بتایا کہ رات کے وقت میر رضا کے بزنس پارٹنر اور دیگر دوست گھر آئے اور کمرے کی تلاشی لی۔ پوچھنے پر انہوں نے کہا کہ شاید کوئی بس کا ٹکٹ تلاش کر رہے ہیں۔ والدہ کے مطابق انہیں سمجھ نہیں آیا کہ دوست کیا ڈھونڈ رہے تھے، تاہم بعد میں دوبارہ تلاش کرنے پر میر رضا کا پارٹنرشپ معاہدہ غائب پایا گیا۔والدہ نے کمیشن کو بتایا کہ 29 جولائی کی صبح میر رضا نے رینٹل کار سروس سے رابطہ کیا تھا۔ ڈرائیور احسان اللہ کے مطابق اس نے میر رضا کو گلستان جوہر بلاک ٹو میں اتارا تھا، جہاں میر رضا کا کلاؤڈ کچن بھی موجود تھا۔اہل خانہ خود ڈراپ لوکیشن پر پہنچے تو معلوم ہوا کہ یہ مقام کلاؤڈ کچن سے کچھ فاصلے پر تھا۔ کچن کے گارڈ نے بتایا کہ رات کے وقت کچن بند رہتا ہے اور مشورہ دیا کہ ممکن ہے میر رضا قریبی گیسٹ ہاؤس گیا ہو۔والدہ کے مطابق گیسٹ ہاؤس کا دروازہ بند تھا، اس لیے انہوں نے باہر سے ہی اندر موجود افراد کو میر رضا کی تصویر دکھائی۔ تصویر دیکھتے ہی اندر موجود لڑکے مبینہ طور پر اندر کی جانب بھاگ گئے۔
کمیشن نے کہا کہ ممکن ہے لڑکے ڈر گئے ہوں، تاہم میر رضا کی والدہ نے بتایا کہ تصویر دکھاتے ہی گیسٹ ہاؤس میں بھگدڑ مچ گئی۔ اسی دوران چار موٹر سائیکلوں پر آٹھ افراد وہاں پہنچے اور بتایا کہ تین افراد پچھلی دیوار پھلانگ کر فرار ہوگئے ہیں۔
میر رضا کے والد کے مطابق سامنے موجود اسکول کے گارڈ نے اہل خانہ سے کہا کہ وہ شریف خاندان سے تعلق رکھتے ہیں اور یہ گیسٹ ہاؤس جوہر تھانے کی سرپرستی میں چلتا ہے، اس لیے وہ وہاں سے چلے جائیں۔والد نے بتایا کہ گیسٹ ہاؤس سے فرار ہونے والے لڑکے کچھ فاصلے پر مل گئے، جنہیں پکڑ کر گیسٹ ہاؤس واپس لایا گیا۔ تاہم اہل خانہ کو بتایا گیا کہ گیسٹ ہاؤس میں فیملیز بھی موجود ہیں۔
