وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان مکہ دفاعی معاہدے کے تحت مجوزہ سیکریٹریٹ کے قیام اور اتحاد کے تنظیمی ڈھانچے پر تفصیلی غور کیا گیا ہے، جبکہ سیکریٹریٹ کی حتمی ساخت آئندہ دو سے تین ہفتوں میں مکمل ہونے کا امکان ہے۔
پارلیمنٹ ہاؤس میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے خواجہ آصف نے بتایا کہ اجلاس میں مجوزہ اتحاد کے سیکریٹریٹ کے ڈھانچے، مینڈیٹ، سیکریٹری جنرل اور مختلف عہدوں و شعبوں کے قیام سے متعلق امور زیر بحث آئے۔ اس کے علاوہ اتحاد میں نئے ممالک کی شمولیت کے لیے شرائط، طریقہ کار اور ممکنہ ٹائم فریم پر بھی غور کیا گیا۔
وزیر دفاع کے مطابق پاکستان کی جانب سے اتحاد کے تنظیمی ڈھانچے سے متعلق پیش کیے گئے ڈرافٹ کو خاصی پذیرائی حاصل ہوئی ہے۔ سیکریٹریٹ اور تنظیمی ڈھانچے کی حتمی شکل دو سے تین ہفتوں میں تیار کرلی جائے گی، جبکہ اکتوبر کے اوائل میں پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کا دوبارہ اجلاس ہوگا جس میں باقی معاملات کو حتمی شکل دینے کی کوشش کی جائے گی۔
خواجہ آصف نے کہا کہ تقریباً ایک سے ڈیڑھ ماہ میں اتحاد کا بنیادی ڈھانچہ عملی شکل اختیار کرلے گا، تاہم نئے ممالک کی شمولیت سے متعلق شرائط و ضوابط ابھی طے ہونا باقی ہیں۔ یہ بھی بعد میں فیصلہ کیا جائے گا کہ نئے ممالک کو فوری طور پر اتحاد میں شامل کیا جائے گا یا اس کے لیے کوئی عبوری مدت مقرر ہوگی۔
انہوں نے واضح کیا کہ ابھی تمام معاملات حتمی نہیں ہوئے تاہم اتحاد کے بنیادی اصول اور ڈھانچہ طے کرلیے گئے ہیں۔ پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کا یہ اتحاد خطے میں مضبوط دفاعی تعاون کی بنیاد بن سکتا ہے۔
وزیر دفاع کا کہنا تھا کہ اتحاد کی شروعات اللہ کے گھر سے ہوئی ہے اور دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ اس میں برکت ڈالے۔ ان کے مطابق اتحاد کا بنیادی مقصد مشترکہ خطرات اور چیلنجز کا مل کر مقابلہ کرنا اور تینوں ممالک کی باہمی سلامتی و دفاع کو مضبوط بنانا ہے۔
ایک صحافی کی جانب سے سوال کیا گیا کہ کیا اس اتحاد سے پاکستان کے دشمن بھارت کی نیندیں حرام ہوگئی ہوں گی؟ اس پر خواجہ آصف نے کہا کہ عالم اسلام کے تمام دشمنوں میں بھارت بھی شامل ہے۔
تاہم انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کا اتحاد کسی مخصوص ملک کے خلاف جارحانہ نوعیت کا نہیں۔ یہ کسی ملک سے لڑائی یا جارحیت کے لیے نہیں بنایا گیا بلکہ اس کا مقصد دفاعی تعاون اور مشترکہ تحفظ کو یقینی بنانا ہے۔
خواجہ آصف نے کہا کہ دفاعی معاہدے کے تحت اگر تینوں رکن ممالک میں سے کسی ایک پر حملہ ہوتا ہے تو اسے تینوں ممالک پر حملہ تصور کیا جائے گا۔ ان کے مطابق اس کا مقصد تینوں ممالک کی باہمی حفاظت، دفاع اور مشترکہ سلامتی کو یقینی بنانا ہے۔
وزیر دفاع نے بتایا کہ مستقبل میں مزید اسلامی ممالک کو اتحاد میں شامل کرنے کے لیے باقاعدہ طریقہ کار اور شرائط طے کی جائیں گی۔ فی الحال پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ اس اتحاد کے بنیادی تین رکن ممالک ہیں۔
انہوں نے کہا کہ نئے ممالک کی شمولیت کا فیصلہ طے شدہ مینڈیٹ اور شرائط کے مطابق کیا جائے گا۔ مکہ دفاعی اتحاد کا کوئی جارحانہ ڈیزائن نہیں بلکہ یہ سو فیصد دفاعی معاہدہ ہے، جس کا مقصد تینوں ممالک کے درمیان دفاعی تعاون، باہمی تحفظ اور مشترکہ سلامتی کو مزید مضبوط بنانا ہے۔
