انا للہ وانا الیہ راجعون
موبائل کو سائیڈ پر رکھیں۔ اپنے چہرے پر ایک زوردار چپت رسید کیجئے۔ کھڑے ہیں تو بیٹھ جائیں۔ بیٹھے ہیں تو سانس روک کر پڑھیے۔ کیونکہ اگلی چند سطریں آپ کے ضمیر کا امتحان ہیں۔ سب سے پہلا سوال: آپ کا ضمیر زندہ ہے یا مر چکا ہے؟ جواب آئینے میں دیکھ کر دیجئے گا۔ گزشتہ دنوں کراچی میں ڈیڑھ سالہ ننھی کلی مٹی تلے سو گئی۔ ٹھہریے! لفظ بدلیے۔ "سلا دی گئی”۔ 17 سالہ لڑکے کے ہاتھوں۔ جو ابھی بلوغت کی دہلیز پر بھی نہیں پہنچا تھا۔ رشتے میں ماموں لگتا تھا۔ چیز کا لالچ دے کر گھر سے لے گیا۔ اور جب لوٹی تو کلی مرجھائی ہوئی تھی۔ زار و قطار رو رہی تھی۔ وہ بول نہیں سکتی تھی۔ صرف اٹھکیاں لیتی تھی۔ والدین ہسپتال لے گئے تو ڈاکٹروں نے کہا: "بہت دیر ہو چکی”۔ اور یوں وہ معصوم، کسی شکایت کے بغیر، کسی فریاد کے بغیر، آنسوؤں کی گواہی کے ساتھ مٹی کی آغوش میں اتار دی گئی۔ قرآن پاک ہمیں یہ سوال یاد دلاتا ہے: "اور جب زندہ دفن کی ہوئی لڑکی سے پوچھا جائے گا کہ وہ کس گناہ کی وجہ سے قتل کی گئی”۔ [سورۃ التکویر: 8-9] قیامت کے دن جب اس ننھی کلی سے یہ سوال ہوگا تو ہم سب کا سر شرم سے جھک جائے گا۔ ہمارے پاس کیا جواب ہوگا؟ میرے قلم کی سیاہی بھی آج آنسو بن گئی ہے۔ سوچتا ہوں اس ماں پر کیا گزری ہوگی جس کے آنگن کا چراغ سفید کفن میں لپیٹ کر قبر میں رکھ دیا گیا۔ یہ منظر قیامت سے کم نہیں۔
ہم کس قدر بے حس ہو چکے ہیں کہ یہ خبر پڑھ کر اگلی خبر پر سکرول کر دیتے ہیں۔ کیونکہ یہ "روز کا معمول” بن چکا ہے۔ جنسی ہوس ایک ایسا ناسور ہے جو انسان کو درندہ بنا دیتا ہے۔ وہ بھول جاتا ہے کہ سامنے فرشتہ ہے، نابالغ ہے۔ وہ بھول جاتا ہے کہ "اللہ دیکھ رہا ہے”۔ شیطان کے بہکاوے میں آ کر وہ اپنی ہی نسل کی جڑیں کاٹ دیتا ہے۔ توبہ! اللہ کی پناہ۔ جن کے ضمیر مر چکے، انہیں زندہ لاش کہنا بھی زندہ لاشوں کی توہین ہے۔ تو اب علاج کیا ہے؟ سزا کیا ہے؟ ہمارے رب نے 1400 سال پہلے ہی ہمیں راستہ دکھا دیا تھا۔ اللہ تبارک و تعالیٰ سورہ نور میں ارشاد فرماتا ہے: "زنا کرنے والی عورت اور زنا کرنے والے مرد، دونوں میں سے ہر ایک کو سو کوڑے مارو۔ اور اللہ کے دین کے معاملے میں ان پر ترس نہ کھاؤ۔ اور چاہیے کہ ان کی سزا کے وقت مسلمانوں کی ایک جماعت موجود ہو”۔ [سورۃ النور: 2] غور کیجئے! اللہ نے سزا کے ساتھ "گواہوں کا مجمع” کیوں رکھا؟ تاکہ ایک کو سزا ملے اور ہزاروں کو عبرت۔ تاکہ ہر مجرم کو پتہ ہو کہ گناہ کے بعد چھوٹ نہیں، سزا ہے۔ اسی لیے آج ضرورت ہے کہ ہم ایسے وحشی درندوں کو سرِعام کیفرِ کردار تک پہنچائیں۔ انہیں ایسی سزا دیں جو دوسروں کے لیے نشانِ عبرت بن جائے۔ تاکہ جب کوئی گندی نظر اٹھے تو اس کے ہاتھ کانپ جائیں۔ تاکہ ہماری ننھی کلیاں، ہمارے آنگن کے چراغ محفوظ رہ سکیں۔
اور اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ہم کیا کر سکتے ہیں؟ ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھے رہیں یا آنے والی نسلوں کے لیے دیوار بنیں؟ سب سے پہلے گھر سے شروع کریں: اپنے بیٹوں کو "مرد” نہیں "انسان” بنائیں۔ انہیں سمجھائیں کہ طاقت عزت لوٹنے کے لیے نہیں، عزت بچانے کے لیے ہے۔ انہیں بتائیں کہ ہر حال میں عورت کا محافظ بننا ہے۔ غیر محرم ہو تب بھی عورت کو میری نظر سے نہیں دیکھنا۔ قرآن میں تمہیں بھی حکم دیا گیا ہے "نظریں نیچی رکھو”۔ اس حکم پر عمل کرنا ہے تب ہی معاشرہ سنورے گا۔ دوسرا نظام سے مطالبہ کریں: فوری، شفاف اور عبرتناک انصاف۔ تاکہ عدالتوں کے چکر نہ لگیں، صرف سزا کی گونج سنائی دے۔ تیسرا خاموشی توڑیں: ظلم دیکھ کر چپ رہنا بھی ظلم میں شراکت ہے۔ ایک آواز کئی کلیوں کو بچا سکتی ہے۔ میں ان تمام جنسی درندوں کے لیے انا للہ وانا الیہ راجعون پڑھتی ہوں۔ کیونکہ وہ مر چکے ہیں۔ اور اب وہ دوسروں کو بھی مار رہے ہیں۔ یاد رکھیے: جب قوم کا ضمیر مر جائے تو قبریں ہی اس کا مقدر بنتی ہیں۔ اور جب قوم کا قانون جاگ جائے تو قبریں بند ہو جاتی ہیں۔ نوٹ: یہ کالم کسی خاص فرد، گروہ یا عمر کے خلاف نہیں ہے۔ اس کا مقصد صرف ظلم کے خلاف آواز اٹھانا اور معاشرے میں شعور بیدار کرنا ہے۔ میرا مقصد دل آزاری نہیں اصلاح ہے۔ اللہ ہم سب کو اپنی اور دوسروں کی عزتوں کا محافظ بنائے۔ اللہ تعالی ہم سب کا حامی و ناصر ہو.
آمین یا رب العالمین
