کبھی کبھی انسان کو مرنے کا دل نہیں کرتا، بس یہ دل کرتا ہے کہ کوئی آئے، اسے گلے لگائے اور کہے، "بہت تھک گئے ہو نا؟ رو لو۔”
مگر مسئلہ یہ ہے کہ کچھ لوگوں کے پاس رونے کے لیے بھی کوئی نہیں ہوتا۔وہ لوگ جنہیں دنیا مضبوط سمجھتی ہے، اکثر اندر سے سب سے زیادہ تھکے ہوئے ہوتے ہیں۔ وہ سب کے مسئلے سنتے ہیں، سب کو مشورے دیتے ہیں، سب کے دکھ میں شریک ہوتے ہیں، مگر جب ان کا اپنا دل بھر آتا ہے تو وہ موبائل کی اسکرین دیکھتے رہ جاتے ہیں کہ آخر کس کو فون کریں؟
کس سے کہیں کہ آج دل بہت بوجھل ہے؟
کس کے سامنے اپنے آنسوؤں کو بے ترتیب ہونے دیں؟
اور پھر فون واپس جیب میں رکھ دیتے ہیں۔
کیونکہ کوئی ہوتا ہی نہیں۔
ہمارے معاشرے نے انسان کو ایک عجیب تربیت دی ہے۔ ہمیں کامیاب ہونا سکھایا گیا، مضبوط ہونا سکھایا گیا، برداشت کرنا سکھایا گیا، مگر ہمیں یہ نہیں سکھایا گیا کہ ٹوٹنے کے بعد کسی کو کیسے بلایا جاتا ہے۔
خاص طور پر مرد کو۔
اسے بچپن سے بتایا جاتا ہے کہ مرد روتے نہیں۔ وہ باپ بنے تو ذمہ داری اٹھائے، بیٹا بنے تو خاموش رہے، بھائی بنے تو حفاظت کرے، شوہر بنے تو حالات سنبھالے۔ ہر رشتے میں اس سے مضبوط رہنے کی توقع کی جاتی ہے۔
مگر کوئی یہ نہیں پوچھتا کہ جو شخص سب کو سنبھالتا ہے، اسے کون سنبھالتا ہے؟
شاید اسی لیے بہت سے مرد اپنی زندگی میں ایک ایسا مقام حاصل کر لیتے ہیں جہاں ان کے پاس ہر چیز ہوتی ہے، سوائے ایک کندھے کے۔
وہ گھر واپس آتے ہیں۔
دروازہ بند کرتے ہیں۔
جوتے اتارتے ہیں۔
کمرے کی لائٹ بند کرتے ہیں اور پھر وہ شخص، جو چند گھنٹے پہلے دنیا کے سامنے بالکل ٹھیک دکھائی دے رہا تھا، اندھیرے میں بیٹھ کر اپنی آنکھوں سے وہ سب کچھ نکالنے لگتا ہے جسے دن بھر دل میں دفن کیے رکھا تھا۔
وہ روتا ہے، مگر آہستہ۔
اس لیے نہیں کہ اسے شرم آتی ہے، بلکہ اس لیے کہ اسے عادت ہو چکی ہوتی ہے کہ اس کے رونے کی آواز سننے والا کوئی نہیں۔
یہ کیسی عجیب دنیا ہے جہاں انسان کے ہزاروں فالوورز ہو سکتے ہیں، سیکڑوں کانٹیکٹس ہو سکتے ہیں، روزانہ درجنوں لوگوں سے بات ہو سکتی ہے، مگر رات کے دو بجے اگر دل اچانک ٹوٹ جائے تو فون کی پوری کانٹیکٹ لسٹ بھی بے معنی لگنے لگتی ہے۔
تب سمجھ آتا ہے کہ رابطے بہت ہیں، تعلق کوئی نہیں۔
ہم نے دوستی کو آن لائن کر دیا، محبت کو تصویروں تک محدود کر دیا اور اپنائیت کو "مصروف ہوں” کے ایک جملے میں دفن کر دیا۔
لوگ پوچھتے ہیں
"کیا ہوا؟”
ہم کہتے ہیں:
"کچھ نہیں۔”
وہ کہتے ہیں:
"اوکے۔”
اور بات ختم ہو جاتی ہے۔
حالانکہ بعض اوقات "کچھ نہیں” کے اندر پوری زندگی دفن ہوتی ہے۔
کسی کے والد کی یاد ہوتی ہے۔
کسی کی ماں کی خاموشی ہوتی ہے۔
کسی کا ٹوٹا ہوا رشتہ ہوتا ہے۔
کسی کی ناکامی ہوتی ہے۔
کسی کا وہ خواب ہوتا ہے جو پورا نہیں ہوا۔
اور کبھی کبھی صرف یہ احساس ہوتا ہے کہ مجھے چاہنے والا کوئی نہیں۔
انسان کی سب سے بڑی بھوک شاید محبت نہیں، اہم ہونے کی بھوک ہے۔
وہ چاہتا ہے کہ کسی ایک انسان کی دنیا میں اس کی جگہ ایسی ہو جسے کوئی دوسرا پُر نہ کر سکے۔
وہ چاہتا ہے کہ اگر وہ ایک دن خاموش ہو جائے تو کوئی پوچھے:
"تم آج خاموش کیوں ہو؟”
اگر وہ تھک جائے تو کوئی کہے:
"آج تم کچھ مت کرو، میں ہوں۔”
اگر وہ روئے تو کوئی آنسو گننے کے بجائے اسے سینے سے لگا لے۔
اور اگر وہ ٹوٹ جائے تو اسے یہ ثابت نہ کرنا پڑے کہ وہ واقعی ٹوٹا ہوا ہے۔
مگر زندگی ہمیشہ ہماری خواہش کے مطابق نہیں چلتی۔
کچھ لوگ پوری عمر دوسروں کے لیے گھر بناتے رہتے ہیں اور خود ایک گھر کی تلاش میں بوڑھے ہو جاتے ہیں۔
کچھ لوگ سب کے لیے دستیاب رہتے ہیں، مگر جب انہیں کسی کی ضرورت ہوتی ہے تو سب مصروف ہوتے ہیں۔
اور کچھ لوگ محبت مانگتے مانگتے اس مقام پر پہنچ جاتے ہیں جہاں انہیں محبت سے زیادہ *تنہائی کی عادت* ہو جاتی ہے۔
پھر وہ کسی سے شکایت نہیں کرتے۔
وہ بس خاموش ہو جاتے ہیں۔
اور خاموش لوگ خطرناک نہیں ہوتے، *وہ صرف بہت کچھ کہہ کر تھک چکے ہوتے ہیں۔*
مجھے لگتا ہے ہماری زندگی کا سب سے بڑا المیہ یہ نہیں کہ ہمیں وہ نہیں ملا جو ہم چاہتے تھے۔
المیہ یہ ہے کہ کبھی کبھی ہمیں وہ بھی نہیں ملتا جس کی ہمیں سب سے زیادہ ضرورت ہوتی ہے:
ایک انسان۔
صرف ایک۔
جو ہمارے مضبوط ہونے کی شرط نہ رکھے۔
جو ہماری کامیابی سے محبت نہ کرے بلکہ ہماری شکست میں بھی ہمارے ساتھ بیٹھے۔
جو ہمارے آنسوؤں سے گھبرائے نہیں۔
جو ہمیں گلے لگاتے ہوئے یہ نہ سوچے کہ لوگ کیا کہیں گے۔
بس گلے لگا لے۔
اور ہمیں رو لینے دے۔
کیونکہ بعض اوقات انسان کو بچانے کے لیے دوا نہیں چاہیے ہوتی۔
*صرف ایک سینہ چاہیے ہوتا ہے، جس پر سر رکھ کر وہ کچھ دیر کے لیے دنیا سے ہار سکے۔*
اور پھر شاید وہ دوبارہ اٹھ جائے۔
شاید دوبارہ مسکرا دے۔
شاید دوبارہ زندگی سے لڑنے لگے۔
مگر اگر ایسا کوئی نہ ہو تو انسان لڑتے لڑتے تھک جاتا ہے۔
اور ایک دن اسے احساس ہوتا ہے کہ اس نے پوری زندگی دوسروں کے لیے مضبوط بن کر گزاری، مگر اپنے لیے کبھی کسی کی بانہوں میں کمزور ہونے کی اجازت ہی نہیں ملی۔
پھر دل سے ایک جملہ نکلتا ہے:
*”میرا کوئی بھی نہیں ہے جو مجھے گلے لگا کر روئے۔”*
اور یقین کیجیے، اس جملے سے زیادہ تنہا جملہ شاید کوئی نہیں۔
کیونکہ کبھی کبھی انسان کو اپنا ہونے کے لیے پوری دنیا نہیں چاہیے ہوتی۔
*بس ایک شخص چاہیے ہوتا ہے۔*
