Baaghi TV

عورت خاموش طاقت کی بلند آواز،تحریر:سیدہ الماس فاطمہ

زمانۂ جاہلیت کے دور میں بیٹی کو پیدا ہوتے ہی زندہ درگور کر دیا جاتا تھا۔ عرب کے معاشرے میں بیٹی کی پیدائش کو بہت زیادہ برا سمجھا جاتا تھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس دور کو ختم کیا۔ بیٹی اللہ تعالیٰ کی رحمت ہوتی ہے۔ بیٹی پر ظلم کیا جاتا تھا۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: بیٹی اللہ تعالیٰ کی رحمت ہے۔ عورتوں کو چھپی ہوئی چیز کہا گیا ہے۔ گھر کی چار دیواری میں رہنے والی ہستی ہے۔ بہت ضرورت کے تحت باہر نکل سکتی ہے۔ مردوں کے لیے حکم ہے کہ عورتوں کے حقوق کی ادائیگی کریں۔
مغربی ممالک میں عورتوں کی بے حرمتی کی جاتی ہے اور ظلم کیا جاتا ہے، اور انہیں کمتر سمجھا جاتا رہا ہے۔ ہمارے مشرقی معاشروں میں اسلام کے مطابق عورتوں کی بے حرمتی منع ہے۔ عورت تعلیم حاصل کرنے کے لیے باہر نکل سکتی ہے۔ ہر مسلمان مرد و عورت پر علم حاصل کرنا فرض ہے۔ عورت مجبوری کے تحت باہر نکل کر اسکول میں پڑھا بھی سکتی ہے۔

عورت خاموش طاقت کی بلند آواز ہے۔ عورت جب بولنے پر مجبور ہو جائے تو اس کا انتقام شدید ہو جاتا ہے، اور اگر عورت صبر کرتی ہے تو اس کا صبر بے مثال ہوتا ہے۔ انبیاء کرام علیہم السلام کی ازواج، امہات المؤمنین کا صبر بے مثال تھا۔ ہر حال میں شکر گزاری کرنے والی امہات المؤمنین، حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا اور حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا بے مثال ہیں۔ ہر امتحان میں کامیابی حاصل کی۔
اللہ تعالیٰ نے ایک عورت کو کتنے سارے ناموں سے نوازا اور کتنے سارے رشتوں میں باندھا:

زندگی کی تلخ حقیقت ہے کہ معاشرے میں عورت کے حقوق کو پامال کیا جاتا ہے۔ عورت کے ساتھ ہمیشہ ظلم و زیادتی کی جاتی ہے۔ ایک لڑکی کے کتنے نام ہوتے ہیں: لڑکی، بہن، بیٹی، بہو، ماں، ساس، دادی، نانی، بیوی، بھابھی، چاچی وغیرہ۔ ہر لڑکی کی بچپن میں والدین کے گھر میں پرورش ہوتی ہے۔ کچھ والدین اپنی بیٹیوں کو نازوں سے پالتے ہیں اور کچھ سختی سے، جس کی وجہ سے وہ بڑی ہو کر اپنے معاملات کے بارے میں بتا نہیں سکتی، اپنی پسند کا کھل کر اظہار نہیں کر سکتی۔
مظلوم لڑکی کے بھائیوں کی کیسی غیرت تھی کہ اپنی بہن کو اتنے سارے نامحرم مردوں کے سامنے گولی ماری۔ مظلوم لڑکی، زرک، سینے سے قرآنِ مجید چادر میں لپٹی ہوئی، دو گولیاں کھانے کے بعد بھی کھڑی رہی تھی۔ صرف اس کے چار بول: "شرعی حق نکاح کیا، زنا نہیں”۔ اس کے باوجود ظالم قاتل کو رحم نہ آیا۔ کیسے والدین شادی کے ڈیڑھ سال بعد بھی قتل کرنے پر آمادہ ہو گئے۔ کتنے خواب آنکھوں میں سجائے ہوئے وہ امر ہو گئی تھی۔

معاشرہ فرد سے بنتا ہے، اور جب معاشرے کا اخلاقی نظام درست ہوتا ہے تو معاشرہ کامیاب ہوتا ہے۔ معاشرے میں ہر فرد کا اخلاق اچھا ہونا چاہیے تاکہ بداخلاقی سے بچا جا سکے۔ ہمارے معاشرے میں بداخلاقی عام ہو چکی ہے۔
کسی بھی معاشرے میں اچھی تعلیم و تربیت کا ہونا ضروری ہوتا ہے۔ تعلیم کے بغیر انسان نامکمل ہے۔ قرآنِ مجید میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ علم حاصل کرنا ہر مسلمان مرد اور عورت پر فرض ہے۔
معاشرے میں انسان کی شخصیت کی پہچان اس کے اچھے اخلاق سے نمایاں ہوتی ہے۔ انسان کی شخصیت ہی اس کے کردار کا آئینہ ہوتی ہے۔

ایک خوبصورت اور کامیاب معاشرہ بنانے کے لیے ہمیں اچھی تعلیم و تربیت کے ساتھ گھر کے ماحول میں آپس کے تعلقات کو نرم لہجے، صبر و تحمل کے ساتھ نبھانے اور ایک دوسرے کو برداشت کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔
عرب میں جہالت عام تھی۔ لڑکی کو پیدا ہوتے ہی زندہ درگور کر دیتے تھے۔ امن کا نام و نشان نہ تھا۔ جہالت کے اندھیروں میں ڈوب کر لوگ زندگی سے کھیلتے تھے۔ عرب کے زمانے میں لڑکی کی پیدائش کو حقارت کی نظر سے دیکھا جاتا تھا۔ اسے ظلم و زیادتی کا نشانہ بنایا جاتا تھا۔کچھ قبائل کے لوگ آج بھی معاشرے میں لڑکی کی پسند کی شادی کرنے کی وجہ سے اسے گولی کا نشانہ بناتے ہیں۔ عورتیں تعلیم حاصل کرنے کے بعد نوکری بھی کرتی ہیں۔ امیر گھرانے کے لوگ دولت ہونے کے باوجود بے سکون رہتے ہیں، حالانکہ اسلام میں میانہ روی اختیار کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ فضول خرچی کرنا بھی اللہ تعالیٰ کی نافرمانی ہے۔ فضول خرچی سے بچنے کا حکم دیا گیا ہے۔

More posts