نیویارک: امریکی امیگریشن اینڈ کسٹمز انفورسمنٹ (ICE) نے نیویارک ریاست میں غیر قانونی طور پر مقیم تقریباً 2,200 افراد کو گرفتار کرلیا، جن میں قتل، ریپ، بچوں کے خلاف جنسی جرائم اور منشیات کی اسمگلنگ جیسے سنگین جرائم میں ملوث یا سزا یافتہ افراد بھی شامل ہیں۔
امریکی محکمہ ہوم لینڈ سکیورٹی کے مطابق ICE نے 27 جولائی سے 29 اگست کے دوران نیویارک میں کارروائی کرتے ہوئے مجموعی طور پر 2,197 افراد کو حراست میں لیا۔ یہ کارروائی ’’آپریشن روٹن ایپل‘‘ (Operation Rotten Apple) کے تحت کی گئی۔ہوم لینڈ سکیورٹی کے سیکریٹری مارک وین مولن نے پریس کانفرنس میں بتایا کہ گرفتار افراد میں گینگ ارکان، ریپسٹ، قاتل اور بچوں کے خلاف جنسی جرائم کے مرتکب افراد بھی شامل ہیں۔انہوں نے دعویٰ کیا کہ یہ آپریشن نیویارک کے ان مقامی سیاسی رہنماؤں کے تعاون کے بغیر کیا گیا جو ICE کے ساتھ مقامی اداروں کے تعاون کو محدود کرنے کی پالیسی رکھتے ہیں۔
حکام کے مطابق گرفتار افراد میں یوکرین سے تعلق رکھنے والا بوگدان ڈیٹرووچ گرین بھی شامل ہے، جو امریکا میں غیر قانونی طور پر مقیم تھا اور قتل، اغوا، موت کا سبب بننے والے اغوا اور غیر قانونی طور پر ہتھیار رکھنے کے جرائم میں سزا یافتہ بتایا گیا ہے۔اسی طرح کولمبیا سے تعلق رکھنے والے اینڈریاس برنال چیکیتو کو بھی گرفتار کیا گیا، جس کے ماضی میں بچے کے ساتھ جنسی زیادتی سے متعلق الزامات اور 17 سال سے کم عمر بچے کو زخمی کرنے کے مقدمات کا ذکر کیا گیا ہے۔حکام کے مطابق بھارت سے تعلق رکھنے والے پالویندر سنگھ کو بھی حراست میں لیا گیا، جو جرمنی میں ریپ کے جرم میں سزا یافتہ قرار دیا گیا تھا، جبکہ وینزویلا سے تعلق رکھنے والے کارلوس مینڈیز اکوسٹا کو بھی ریپ کے جرم میں سزا یافتہ بتایا گیا ہے۔
مارک وین مولن نے اعلان کیا کہ نیویارک میں مزید وفاقی امیگریشن اہلکار بھیجے جائیں گے اور کارروائیوں کا سلسلہ جاری رکھا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ وفاقی حکومت کا مقصد قانون کی عمل داری اور عوامی تحفظ کو یقینی بنانا ہے۔
دوسری جانب نیویارک کے حکام کی جانب سے غیر قانونی تارکین وطن کے حوالے سے نسبتاً مختلف پالیسی اختیار کی گئی ہے۔ نیویارک سٹی کے میئر زوہران ممدانی نے عہدہ سنبھالنے کے بعد ایسے اقدامات کیے جن کے تحت مقامی اداروں کے لیے ICE کے ساتھ تعاون محدود کیا گیا۔امریکی حکام کا کہنا ہے کہ نیویارک کی پالیسیوں کے باعث متعدد ایسے غیر قانونی تارکین وطن بھی دوبارہ سڑکوں پر پہنچے جن کے خلاف مجرمانہ ریکارڈ موجود تھا۔
ٹرمپ انتظامیہ کے بارڈر زار ٹام ہومن نے بھی نیویارک کی پالیسیوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ بعض سیاسی رہنما عوامی تحفظ کی بات تو کرتے ہیں لیکن وفاقی امیگریشن حکام کو جیلوں میں موجود مجرم غیر قانونی تارکین وطن کو تحویل میں لینے کی اجازت نہیں دیتے۔مارک وین مولن نے مزید کہا کہ وفاقی حکومت کو ان ریاستوں اور شہروں کو مالی معاونت دینے پر بھی غور کرنا چاہیے جو وفاقی امیگریشن حکام کے ساتھ تعاون نہیں کرتے۔ انہوں نے کہا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ بھی اس معاملے پر مختلف آپشنز کا جائزہ لے رہے ہیں۔
