Baaghi TV

چیونٹیوں کا گھر ،تحریر:عائشہ گُل

بال بکھرے ہوئے خستہ حالت میں رات کا ڈھیلا ڈھالا لباس پہنے وہ بخار سے بےحال بیڈکے ساتھ ٹیک لگائے دیوار کی جانب دیکھ رہی تھی مسلسل دو تین روز گزر جانے کے بعد بھی سارہ کا یہی حال تھا۔۔۔ وہ اپنے کمرے تک ہی محدود رہ چکی تھی کمرے سے باہر نہ نکلتی نہ کسی سے ملتی نہ بات کرتی اور نہ ہی کھانے پر کچھ خاص دھیان دیتی ہوں آنکھوں کے گرد سیاہ حلقے آنکھوں کی خوبصورتی کو مانند کر رہے تھے۔
کمرے کا دروازہ ہلکا سا سرکا اور حلیمہ اندر کمرے میں داخل ہوئی۔
ماں نے جب اپنی بیٹی کی یہ حالت دیکھی تو اس کی پریشانی میں مزید اضافہ ہوا اس دوران حلیمہ نے کئی بار سارہ کے کمرے کا چکر لگایا لیکن سارہ کو سوتا پا کر وہ واپس چلی جاتی جب بھی آتی سارہ سے بات کرنے کا ارادہ کرتی لیکن ہمت نہ کر پاتی اور بات کیے بغیر واپس چلی جاتی اب کے بار وہ پختہ ارادہ لئے آئی تھی کہ سارہ سے بات کیے بغیر نہیں جائیں گی۔۔
سارہ میری پیاری بیٹی!
یہ کیا حال بنا رکھا ہے تم نے اپنا کھانا بھی نہیں کھا رہی آج کل چلو ہم مل کر کھاتے ہیں مجھے بھی بہت بھوک لگی ہے ماں نے بیٹی کا دل بہلاتے ہوئے کہا _دیکھو ذرا بال کیسے بکھرے ہوئے ہیں ماتھے سے بال پیچھے کرتے ہوئے حلیمہ نے کہا سارا تمہیں تو بخار بھی ہے میری بچی اٹھو ہمت کرو اور کھانا کھاؤ پھر دوائی دیتی ہوں میں تمہیں۔۔۔
ماں میرا کچھ کرنے کو دل نہیں کرتا، اور نہ ہی مجھے بھوک ہے ،سارہ نے ماں کے کندھے پر سر رکھتے ہوئے کہاں امی میں تنگ آگئی ہوں اپنی زندگی سے میرا زندہ رہنے کا بالکل دل نہیں کرتا میری زندگی کی مشکلیں کم ہونے کا نام نہیں لیتی، حلیمہ ہلکے ہلکے سارہ کے بالوں میں ہاتھ پھیرتی رہی اور سارا نے دل کی ساری باتیں ماں کے گوش گزار کر دی سارہ کی زندگی میں ایسا کیا ہوا جو وہ اپنی زندگی سے اتنا بیزار اور مایوس ہو گئی_ ان ماں بیٹی کو تھوڑی دیر کے لیے یہاں چھوڑ کر ہم دو ماہ پیچھے چلتے ہیں۔۔۔
دو ماہ پہلے:-
سارہ اور حسن ایک دوسرے سے بہت محبت کرتے تھے حسن ہمیشہ سارہ کی ہر خواہش کو پورا کرتا اس کی ہر بات کا احترام کرتا حسن سارہ کے ماموں کا بیٹا تھا دونوں خاندانوں نے بچپن سے ہی یہ طے کر لیا تھا کہ ان دونوں کی شادی ہوگی سارہ اور حسن بھی بچپن سے اس رشتے کو لے کر پروان چڑھتے رہے لیکن قسمت کو تو کچھ اور ہی منظور تھا !
پھر ایک دن کچھ یوں ہوا کہ ماموں جان اور ممانی کی نیت میں فتور آگیا۔ ممانی نے کہا میری بہن کی بیٹی ارسہ بہت اچھی لڑکی ہے وہ لوگ سارہ کے گھر والوں سے بہت زیادہ امیر بھی ہیں ،کیوں نہ ارسہ سے حسن کی شادی کر دی جائے ارسہ اچھا خاصا جہیز کا سامان ساتھ لے کر آئے گی، سونے پہ سہاگہ یہ ہے کہ وہ گاڑی دینے کا بھی کہہ رہے ہیں۔۔ممانی کی خوشی کا تو کوئی ٹھکانا نا تھا وہ وہ بنا سوچے بولے جا رہی تھی۔
تو کیوں نہ ہم حسن کا رشتہ وہاں پہ کر دیں اور آپ کے بہن سے ہمیں کیا ملنا ہے کچھ بھی نہیں اس نے کچھ دیر توقف کی بعد کہا۔۔۔
ماموں جان نے اپنی بیوی کی باتوں سے اتفاق کیا اور کچھ عرصے پہلے کی منگنی کو دولت کی لالچ میں توڑ دیا!
حلیمہ نے اپنے بھائی کی بہت منت کی بارہا ان کو روکنے کی کوشش کی لیکن بھائی صاحب کا خون سفید ہو گیا اور انہوں نے رشتہ توڑ دیا آنکھوں پر لالچ کی پٹی جو بندھی تھی۔
حسن جو سارہ سے ہمیشہ محبت کے دعوے کرتا تھا، وہ بھی ماں باپ کی باتوں میں آگیا اور بچپن کی محبت کو دفن کر کے دنیاوی ساز و سامان کو اہمیت دی محبت کو پس پشت ڈال دیا لیکن لالچ کو مات نہ دے سکا!
حلیمہ کو ہمیشہ سے ہی اپنی بھابی کی نیت پر شک تھا اس لیے وہ ہمیشہ اپنی بیٹی سارہ کو سمجھاتی کہ بیٹا اتنی امیدیں مت لگاؤ وقت کا کوئی بھروسہ نہیں کون، کب، بدل جائے۔۔۔
سارہ کو اپنی ماں کی باتیں کہاں سمجھ آتی تھی
حسن سے منگنی ٹوٹنے کے بعد جب بیٹی کا حال دیکھا کہ وہ بہت گم صم رہتی ہے دنیا کی رنگینیوں سے بہت دور ہو گئی ہے یہ سوچ کر والدین نے اپنی بیٹی کا دوبارہ سے گھر آباد کرنے کی ٹھان لی۔۔۔
سارہ نے بھی بغیر ضد کیے اپنے والدین کی بات کا مان رکھا۔

پھر سے کسی اچھے گھر بار کا لڑکا تلاش کیا اور سادگی سے منگنی کی رسم کر دی۔۔۔ ابھی سارہ حسن کی محبت کے فریب سے اور رشتہ ٹوٹنے کے غم سے پوری طرح نکل نہ پائے تھی کہ اسے ایک اور صدمے نے آن گھیرا ،جس جگہ اب منگنی کی وہ لڑکا پہلے سے ہی شادی شدہ تھا اور دو بچوں کا باپ تھا پہلے تو ان لوگوں نے کافی حد تک اس بات کو چھپانے کی کوشش کی لیکن حقیقت پر دیر تک پردہ پڑے رہنا ناممکن ہے !
کسی خیر خواہ کے ذریعے ان کو اس حقیقت کا پتہ چلا اس طرح سارہ کی دوسری بار بھی منگنی ٹوٹ گئی_ وہ اس صدمے کو برداشت نہ کر پائی وہ کسی اور سے کیا مان رکھتی جب اپنوں نے ہی اس کی پیٹھ پیچھے وار کیا۔
سارہ کے شب و روز گریا و زاری میں گزرتے، ہستی کھیلتی سارا ایک پتھر کی مورت بن کر رہ گئی- لوگ دوسروں کی بیٹیوں کو کھلونا سمجھتے ہیں، جب دل کیا اس سے کھیل لیا اور جب دل کیا اس کو توڑ کر دوسرے کھلونے کی طرف متوجہ ہو گئے۔۔۔
موجودہ دن:-
سارہ کا کمرہ۔۔۔۔۔بیڈ پر سارہ اور حلیمہ
سارہ بیٹا میری ایک بات مانو گی؟
جی امی میں کوشش کروں گی کہ آپ کی ہر بات مان سکو (ماں نے دل میں سوچا کاش بیٹی تم میری بات پہلے مان لیتی تو آج ہمیں یہ دن نہ دیکھنا پڑتا ماں تو پھر ماں ہوتی ہیں نا اولاد کی ہزاروں خامیوں کے باوجود بھی اپنی اولاد کو کبھی اکیلا نہیں چھوڑتی) گھر کے باہر جو ہمارا باغ ہے نا ؟
اس میں بہت زیادہ چیونٹیاں آگئی ہیں جنہوں نے وہاں اپنا گھر بنا لیا ہے جس کی وجہ سے پھولوں کے پیداوار اچھی نہیں ہو رہی تم نے کرنا یہ ہے کہ ان چیونٹیوں کا گھر ختم کرنا ہے اور وہاں سے جگہ صاف کرنی ہے تاکہ ہمارے باغ میں پھولوں کے پیداوار اچھی ہو سکے_ یہ عمل تم نے پوری ذمہ داری سے چھ سے سات دن تک کرنا ہے پھر مجھے بتانا کہ چیونٹیوں کا گھر وہاں ہے یا نہیں؟؟؟
سارہ نے ماں کی بات فورا مان لی اور سات دن کے بعد بتانے کا بھی کہہ دیا ۔
سارہ نے سوچا کمرے میں فضول بیٹھنے سے بہتر ہے کہ امی کے لیے کچھ آسانی کر دے، اس طرح امی کی کچھ مدد ہو جائے گی۔۔۔
(دل نہ چاہتے ہوئے بھی ماں کی بات مان لی دل میں خیال آیا کاش میں ماں کی بات پہلے مان لیتی تو حسن سے دھوکہ نہ کھاتی) سارہ نے سارے خیالات کو جھٹک کر کام کرنے کا ارادہ کیا صبح سارہ باغ میں آئی تو اس نے دیکھا کہ چونٹیاں گھر بنانے میں بہت زیادہ محنت کر رہی ہیں تھوڑی تھوڑی مٹی جمع کرتی ،پھر جا کر اس جگہ انڈیل دیتی جہاں گھر بنانا ہے، کوئی چیونٹی زمین سے مٹی نکال کر صاف کر رہی ہے کوئی،اناج کا انتظام کر رہی ہے ۔۔۔
الغرض تمام چیو نٹیاں اپنے کام میں مشغول تھی
سارہ کا دل نہیں کر رہا تھا کہ اتنی محنت سے بنائے گئے گھر کو تباہ کر دے لیکن ماں کی بات بھی ماننی تھی سارہ نے ایک دم سے پورے گھر کو ہاتھ مار کر گرا دیا ۔۔اس کے اس عمل سے سب چونٹیوں میں ہلچل آگئی_ سب چونٹیاں ادھر سے ادھر بھاگنے لگی اور کچھ مر گئی۔۔۔
یہ کر کے سارہ کمرے میں آئی اور سوچا اتنا آسان کام تھا میں ایسے ہی اتنا سوچ رہی تھی۔۔
دوسرا دن :-
جب سارا باغ میں آئی تو سب چونٹیاں کل والا عمل کر رہی تھی سارہ نے فورا گھر تباہ کیا اور اندر چلی گئی۔۔
تیسرا دن۔۔۔۔چوتھا دن۔۔۔رفتہ رفتہ دن گزرنے لگے۔۔
چھٹا دن:-
سارہ جب باغ میں آئی وہ چونٹیاں پھر سے وہی عمل سر انجام دے رہی تھی لیکن آج سارہ کے ذہن میں اٹھتے سوالات نے اس کو مزید پریشان کر دیا آخر یہ چیو نٹیاں یہاں سے جا کیوں نہیں رہی ؟؟میں روز ان کا گھر گرا دیتی ہوں اور وہ پھر اپنا گھر بنا لیتی ہیں امی کو آخر ان سے مسئلہ کیا ہے وہ کیوں ان کا گھر تباہ کر رہی ہیں؟؟ اب مجھ میں ہمت نہیں اب میں ان پر مزید ظلم نہیں کر سکتی مجھے امی سے بات کرنی ہوگی
اس کے ضمیر نے اسے ملامت کی سارہ آج گھر تباہ کیے بغیر ہی اندر چلی گئی_ وہ فیصلہ کر چکی تھی کہ اب وہ گھر نہیں گرائے گی۔۔۔
امی جان! آپ کو ان چیونٹیوں کو وہاں گھر بنا لینے دیجیے ،میں روز ان کا گھر گراتی ہوں وہ روز بنا لیتی ہیں وہ نہیں جاتی وہاں سے وہ ہر روز ایک نیا عزم لے کر آجاتی ہیں ۔
سارہ نے کچن میں کھڑی ہوئی حلیمہ بیگم کو مخاطب کیا!
حلیمہ مسکرانے لگی۔۔ سارہ حیران ہوئی میں اتنی سیریس بات کر رہی ہوں اور آپ مسکرا رہی ہیں ؟
آپ ہنس کیوں رہی ہیں امی؟ بیٹا دیکھو یہ چھوٹی چھوٹی چیونٹیاں ہمت نہیں ہا رہی اپنی منزل سے دور نہیں بھاگ رہی اپنے گھر سے کس قدر محبت کرتی ہیں ہر روز ایک نئی امید ایک نیاعزم لیے آجاتی ہیں۔۔۔ رات کی تاریکی سے باہر نکل کر صبح کی روشنی کا استقبال کرتی ہیں۔۔۔
تم سے یہ سب کروانے کا مقصد یہ تھا کہ کبھی ہمت نہیں ہارنی چاہیے ماضی میں کی گئی غلطیوں سے اپنا مستقبل خراب نہیں کرتے بیٹا!
ماضی کی غلطیوں سے سیکھ کر توبہ کرتے ہوئے آگے بڑھتے ہیں سچی توبہ کے ساتھ اپنے آج کو اور آنے والے کل کو روشن کرتے ہیں اللہ رب العزت نے ہمیں اشرف المخلوقات بنایا تو ہم کیوں اشرف المخلوقات والے کام نہیں کرتے؟
ماں نے سارہ کے کندھوں پر ہاتھ رکھتے ہوئے پیار سے سمجھایا اس طرح تو انسان سے اچھی پھر چونٹیاں نہ ہوئی؟ جو ہر حال میں اللہ تعالی پر بھروسہ کرتی ہیں مایوسی کا شکار نہیں ہوتی ڈٹ کر محنت کرتی ہیں اور منزل مقصود تک پہنچنے کا عزم رکھتی ہیں اور بالاخر ایک دن اپنے مقصد کو پا ہی لیتی ہیں ۔۔۔جی امی جان آپ نے بالکل درست فرمایا ہم انسان چھوٹی چھوٹی مشکلات کو دیکھ کر ہمت ہار جاتے ہیں اور یہ بھول جاتے ہیں کہ اللہ تعالی ہر چیز پر قادر ہے میں اپنے اللہ تعالی سے معافی مانگتی ہوں اور سچی توبہ کرتی ہوں اور آئندہ زندگی اللہ تعالی کے نازل کردہ احکامات کے تحت گزارنے کا پختہ عہد کرتی ہوں ۔۔۔
آج سے سارہ کے نئے سفر کا آغاز ہوا چاہتا ہے جہاں ہر عمل میں فقط اللہ تعالی کی رضا درکار ہو۔

ہر اک چہرہ چھپا ہے نقاب میں
آجکل سچی محبت کہاں ملتی ہے
کھیل رچاتے، لڑکیوں کو ورغلانے کا
غرض و لالچ سے پاک الفت کہاں ملتی ہے
جب ہو جائے خواہش نفس پوری
تو اپنی ہی محبت ان کو بری لگتی ہے
کبھی لوگوں کے بہکاوے میں مت آنا گل
یہاں سچی محبت بہت کم ملتی ہے۔

More posts