Baaghi TV

پاکستان کے لئے مسیحی بھائیوں کی خدمات ،تحریر: شاہد بخاری

جب ووٹنگ کے بعد پنجاب اسمبلی کی سیڑھیوں پر ماسٹر تارا سنگھ نے یہ نعرہ لگایا:
جو مانگے گا پاکستان
وہ جا ئے گا قبرستان
تب اس کے جواب میں سپیکر اسمبلی S.P.سنگھا مسیح M.A.,ہLL.Bنے یہ جوابی نعرہ لگایا تھا:
سینے پہ گولی کھائیں گے
پاکستان بنائیں گے
بعد ازاں 1965ء71ء و دیگر معرکوں میں جان کی بازی لگا کر دفاع وطن، مسیحی برادران بھی کرتے رھے۔اعظم معراج کی396صفحات پر مشتمل”شناخت نامہ” میں مصدقہ گراں قدر معلو مات بعد از بہت کاوشوں و عرق ریزیوں درج ھیں،جن کا حاصل مطالعہ نذر قارئین ھے

قیام پاکستان کی تحریک کے مسیحی کرداروں میں K.Lرلیا رام،B.Lرلیا رام،مزدور رھنما الفریڈ پرشاد،S.P
سنگھا،(جن کے کاسٹنگ ووٹ سے مغربی پنجاب پاکستان میں شامل ھوسکا)C.E.گبن،ہیڈماسٹر فضل الہٰی،ادیب و مفکر جوشوا فضل الدین نمایاں ھیں۔
برصغیر پاک و ھند میں مسیحی تعلیمی ادارے تقریباً 200سال سے تعلیم کے شعبے میں مثالی خدمات انجام دے رہے ہیں،جن میں پاکستانی تاریخ کے کرداروں کے فارغ التحصیل ہونے والوں کی تعداد بہت طویل ہے ۔یاد رھے کہ علی گڑھ یونیورسٹی کے بانی سر سید،علامہ اقبال اورقائد اعظم مسیحی اداروں میں بھی پڑھتے رھے۔ قیام پاکستان کے بعد جب بھارت سے لٹے پٹے اور زخموں سے چور قافلےپاکستان میں داخل ھوئے تو ان کی مرھم پٹی اور تسلی وتشفی کے لیے والٹن میں مسیحی بھائی بھی مسیحائی کرتے رھے۔زخمییوں کے علاج معالجے کے لیے FCکالج لاھور نے کیمپ لگائے جسے بعد میں U.C.Hکا نام دے کر گلبرگ لاہور نزد لبرٹی چوک میں مستقل ہاسپٹل بنا دیا گیا۔ شعبہ صفائی ستھرائی میں مسیحی برادران کی خدمات آج بھی قابل داد ھیں۔ گداگری کے بجائے یہ یہ خاکروب بننے کو ترجیح دیتے ھیں۔کیوں کی یہ محنت میں عظمت کے قائل ھیں۔

عدلیہ میں جسٹس کارنیلیس I.C.S کا نام آج بھی عزت واحترام سے لیا جاتا ہے،جنھوں نے محل نماگھر میں رھنے کے بجائے فلیٹیز لاہور کے دو کمروں زندگی گزار دی ۔ قیام پاکستان کے بعد دلشاد نجم۔I.G،سموئیل
جوشوا،سفیر،ابر ھام جوشوا و ھارون مل،ڈی میلو،چئیر مین،ریلوے ،بینن رنیڈل،جوائنٹ سیکرٹری،ڈونالڈ جوشوا،
انکم ٹیکس کمشنر،سرفراز شادی خان S.Pنیک نام مسیح تھے ۔1980 سے 2016تک جو16مسیحی سول سروس اکیڈمی میں پہنچے،ان کے نام اور عہدے صفحہ 101 پر درج ھیں۔
سموئیل مارٹن برق(ستارہء پاکستان)نے وزیر بننے کے بجائے سفارت کاری کےشعبے کو اپنایا۔پاکستان کی خارجہ پالیسی کے ساتھ ساتھ ایٹمی پالیسی کے معماروں میں آپ بھی شامل رھے۔ عاشر عظیم نےCSS
کا امتحان 87ء میں پاس کیا۔بلوچستان میں ان کا نمبر ون تھا۔91ءمیں جب A.C اینٹی سمگلنگ تھے ،تب”دھواں” ناول تخلیق کیا جو PTVپر ھٹ رھا۔ان کی فلم”مالک” دیکھنے سے تعلق رکھتی ہے ۔ مزدور کے بیٹےذی شان لبھا نے،ٹیوشنز پڑھا کر PMS میں کامیابی حاصل کی۔S&GAD میں سیکشن افسر منکسر المزاجی کی بدولت نیک نام ھیں۔(ص129)
معروف شاعر،موسیقار ڈاکٹر شہباز کا زبور مقدس کا پنجابی میں منظوم ترجمہ،شہ پاروں میں شمار ھوتا ھے۔ اردو فاؤنڈیشن ایوارڈ یافتہ ممتاز شاعر نذیر قیصر کی شاعری کو بےلاگ نقادوں نے بھی سراھا ھے
۔۔۔ع۔۔دیواروں سے
باتیں کرنا اچھا لگتا ھے
زبان زد عام ھے۔
موھنی حمید براڈ کا سٹر،گلو کارہ آئرن پروین،بنجمن سسٹرز،گلوکار سلیم رضا،سدا بہار ھیروئن شبنم،آج بھی سب کے دلوں میں موجود ھیں۔

دفاع پاکستان کے ضمن میں بھی مسیحی بھائیوں کا کردار قابل فخر رھاھے۔سابق صدر جنرل ضیاء الحق برگیڈئیر انگل کو پاک فوج کے اولین معماروں میں سے ایک قرار دیا کرتے تھے کیوں کہ وزیراعظم لیاقت علی خاں نے انھیں PMA کاکول قائم کرنے کا اعزاز دیا تھا۔جنگ کشمیر 48ء65ء71ءسیاچن،اوپریشن المیزان،راہ نجات،ضرب عضب میں 57 مسیحی برادران نے وطن کی خاطر جا نوں کا نذرانہ پیش کیا
جن کی تفصیل ص204تا 259 پر درج ھے۔

جنرل اسرائیل نوئل کھو کھر،میجر جنرل پیٹر جولین،16 بریگیڈرز50 کرنلزکی خدمات کا GHQمعترف ھے۔1971 کی جنگ میں 7 کرنلز37 میجرز،11کپتان اور ایک لیفٹیننٹ لاھور،سیالکوٹ سیکٹرز پر داد شجاعت دیتے رھے۔ :
جان و دل سے تم ھمارے ساتھ ھو
سچ تو یہ ھے،تم ھمارے ھاتھ ھو
ان سب کے کارنامے ص266تا312 پر ملاحظہ فرمائیں۔PMAکاکول سے اعزازی شمشیر یافتگان میں کیپٹن ڈکونا،نیول کیپٹن سمتھ،سکواڈرن لیڈر مائیکل سموئیل شامل ھیں ۔PAF کے مسیحی شھداء میں اوفیسر کیڈٹ تھیوڈور،ونگ کمانڈر مڈل کورٹ،(بار ٹو دی ستارہ جراءت) سکوڈرن لیڈرپیٹر کرسٹی (تمغہ و ستارہءجراءت) شامل ھیں
۔۔ع۔۔۔
یہ رتبہء بلند ملا،جن کو مل گیا

مسیحی محافظ وشھدائے وطن
جب بھی دفاع پاکستان کے لئے لڑنا پڑا،مسیحی برادران شانہ بہ شانہ مسلمانوں کے ساتھ جان و دل سے رھے اور اپنی جانیں پاک وطن پر قربان کردیں۔ دفاع وطن کے محافظوں اور پاکستان کے لئیے جانیں قربان کرنے والے مسیحوں کی ایمان افروز داستانیں اعظم معراج نے”سبزوسفید ھلالی پرچم کے محافظ و شھداء” میں عرق ریزی سے چھان پھٹک کے بعد یکجا کرتے ھوئے لکھا ھے کہ جہاد کشمیر میں1948ء میں پانڈو کے مقام پر پاکستا
نی پرچم لہراتے ہوئے شھید یونس ولد قیصر مسیح شھداء کے قافلے سرخیل تھے۔جنگی مشقوں کے دوران اٹک پل کے نیچے پائلٹ افسر نوون،شھید ھوئے۔ 1994 کوئیٹہ میں فلائٹ لیفٹیننٹ ایڈون شھید کے علاوہ سانحہ گیاری جو 7اپریل2012کو سیاچن میں ھوا139مسلمز میں سے4 آصف مسیح،آمون عادل اور نوید بھی شامل تھے۔
1964ء جہاد کشمیر میں کرنل L.C.راتھ، کالی داھار سیکٹر میں کمانڈر تھے۔جنگ71ء میں لاھور قصور کے محاذ پر جو18 یونٹس مورچوں پر ڈٹی ھوئی تھیں کی9 یونٹس کے کمانڈنگ افسران مسیحی تھے۔ 1972ءکو لیپا اوپریشن میں میجر بنسن وارث نے سخت سردی،شدید برفانی اور طوفانی موسم میں ماؤ نٹین بیٹری(توپ)کندھے پر رکھ کر بھارتی فوجیوں کے دو بدو زیرو پوائنٹ پر پہنچ کر انھیں پسپا کیا،شدید زخمی ھوئے۔ میجر جنرل اسرائیل نوئل کھو کھر،میجر جنرل جولین،پیٹرکی خدمات کا GHQمعترف ھے۔بریگیڈیئر انتھونی لمب نے 65ء میں کھیم کرن سیکٹر پر فتح کے جھنڈے گاڑے۔بریگیڈئرآسٹن نے65اور71 کی جنگ میں داد شجاعت دیتے ھوئے تمغہ بسالت حاصل کیا۔ بریگیڈیئر جاوید حیات،بریگیڈیئر سائمن، کرنل ہربرٹ،کرنل ٹریسلرکرنلK.M رائے،کرنل L.C.راتھ،Lt.کرنل جوزف تمغہ جراءت،تمغہ امتیاز،کرنل البرٹ ستارہ امتیاز ملٹری Lt.کرنل فلپ عطارد میجر رامون تمغہء بسالت،میجر جوزف شرف نے65ءو71کی جنگوں میں جراءت و بہادری کی داستانیں رقم کیں۔توپچی نعمت مسیح71کی جنگ میں اپنی توپ پر صلیب لگائے جذبے اور سر شاری سے لاھور کا دفاع کرتے رھے۔

جون جلال الدین کا تعلق تحصیل ننکانہ سے تھا۔دورانM.A،وائسرائے کمیشن کے تحت آپ نائب صوبیدار سیلیکٹ اور بطور صوبیدارJCO ریٹائرڈ ھوئے۔1962 میں UNOفورسز کے ساتھ کانگو میں خدمات سر انجام دیں۔65میں برکی کے محاذ پر دفاع لاھور کیا۔71ءمیں جیسورمیں جنگی قیدی بنے اورگیا کےکیمپ نمبر 96 میں رھے۔ سیکنڈ لیفٹیننٹ ڈینیل عطارد کے سینے سے جب3گولیاں نکالی گئیں تب انھوں نے سرجن کو کہا”
یہ گولیاں میری ماں کو سو وینئر کے طور پر دینا کی یہ دفاع وطن کے لئے سینے پر کھائی ھیں”13 دسمبر کو آپ شھید ھوئے۔ کیپٹن مائیکل ولسن 21نومبر72ءکو چھمب سیکٹر میں زخمی ھوکر 25نومبر کو رتبہء شہادت پر فائز ھوئے ۔
میجر سر مس روءف،تمغہء بسالت 13ستمبر 2007باجوڑ سے اپنے جوانوں اور افسروں کو شدت پسندوں کے محاصرے سے نکال چکے تھے تب را کٹ لگنے سے شھید ھو گئے۔ان کی آرزو تھی ،میرے محبوب وطن
تجھ پہ اگر ھو جاؤں نثار ،میں یہ سمجھوں گا ٹھکانے لگا سرمایہءتن

ائر کموڈور بلونت کمار داس،قیام پاکستان کے وقت سکوڈرن لیڈر تھے۔ PAF کالج رسالپور اور پشاور میں کمانڈنٹ رھے۔ ائر کموڈور J.Kداس کو بھی پاک فضائیہ کے قائدین میں شامل ھونے کا اعزاز حاصل ھے۔آپ D.G
سول ایوی ایشن بھی رہے ،

مسیحی افسران کو ملنے والے ستارہ جراءت کی تعداد7ھے۔ ائر وائس مارشل ایرک گوڈون ھالS.J ۔۔رسالپور میں اوفیسرز کو ٹریننگ دیتے رھے۔PAF Basesپرکمانڈ بھی کی۔امریکہ میں ائیر اتاشی رھے۔65ءمیں C.130 ٹرانسپورٹ طیارے کو چند تبدیلیوں کے ساتھ ھیوی بمبار میں تبدیل کرکے جنگ کا پانسہ پلٹ دیا۔
ائر کموڈور نذیر لطیف S.Jکے بمبار طیارے کو65ء کی جنگ میں انبالے میں گن کے دو گولے بھی لگے لیکن یہ اپنا مشن مکمل کرکے رھے۔71ء میںبھی شریک جنگ رھے۔ سکوڈرن لیڈر ولیم ھارنی S.J نے ھاتھ زخمی ھو نے کے باوجود رضا کارانہ طور پر14بومبنگ مشنز میں حصہ لیا۔ سکواڈرن لیڈر پیٹر کرسٹی شھید S.J نے65
میں متعدد آپریشنز میں حصہ لیا۔71ء میں PIAسے رضا کارانہ طور پر شریک جنگ رھے۔انڈیا کےجام نگرمیں آپ نے جام شہادت نوش فرمایا۔ ونگ کمانڈر مڈل کوٹ SJ.To The Bar نے65میں پلک جھپکتے ھی دو بھارتی طیاروں کو گرایا اور ڈیفینڈر اوف کراچی کا خطاب پایا ۔آپ نے17ائر ڈیفنس سورٹیز کیں اور3 فوٹو ری کو سیزن کیں۔71ء میں اردن سے پاکستان پہنچ کر، اوپریشن امرتسر ریڈار کو پایہ تکمیل تک پہنچایا۔جام نگر پر بعد از بمباری دو مگ طیاروں سے HITھوکر جام شہادت نوش فرمایا ۔ گروپ کیپٹن سیسل چودھری 65ء کے ستارہ جراءت نے71ء میں S.Jلینے سے انکار یہ کہہ کر کیا کہ ھاری ھو ئی جنگ میں انعام کیا لینا؟؟پسلیوں میں فریکچر کے باوجود 11 دسمبر کو بھارتی SU7 ٹھیک اسی جگہ مار گرایا جہاں 7دسمبر کو ان کا طیارہ HIT ھوا لیکن Bail out ھونے کے بجائےآپ سرگودھا Base پر لینڈ کر کے دیکھنے والوں کو ورطہء حیرت میں ڈال گئے ۔عراق کے صدر صدام نے چودھری صاحب کو عراق کی نیشنیلٹی دینا چاھی جو آ پ نے قبول نھیں کی
۔۔۔ع۔۔۔
میرا مرنا میرا جینا اسی مٹی کے تلے
PAFسے ریٹائرمینٹ کے بعد آپ سینٹ انتھونی سکول میں بطور پرنسپل طلباء کی کردار سازی کرنے کے ساتھ ساتھ ان میں خود اعتمادی پیدا کرتے رھے۔
فلائنگ کیڈٹ اوفیسر عماد آصف جارج شھید: PAF اکیڈمی رسالپور کی بے ھودہ ٹریڈیشن،سینئرز کے "رگڑا” لگانے کے نتیجے میں عماد آصف 10جو لائی 1997 کو داغ مفارقت دے گئے،ان کے ھاوءس ماسٹر کو ان سے بہت توقعات تھیں۔ارباب اختیار سے اپیل ھے کہ جارج شھید کو ایوارڈ سے ڈیکوریٹ جلد کیا جائے

More posts