Baaghi TV

خیبرپختونخوا میں عملاً کوئی حکومت نہیں،مولانا فضل الرحمان

سربراہ جمعیت علمائے اسلام (ف) مولانا فضل الرحمان نے خیبر پختونخوا میں حکومتی کارکردگی پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ صوبے میں عملاً کوئی حکومت نہیں، جبکہ انہوں نے وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کے حوالے سے اپنی سابقہ رائے پر اپنی غلطی کا اعتراف بھی کیا۔

لاہور میں سینئر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ پنجاب میں امن و امان کی صورتحال بہتر ہے، تاہم ملک کے دو صوبوں میں امن تباہ ہوچکا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ خیبر پختونخوا میں عملاً کوئی حکومت موجود نہیں اور ان کے بیٹوں اور بھتیجوں پر بھی حملے ہوئے کیونکہ وہ بھتہ ادا نہیں کرتے۔

انہوں نے کہا کہ وفاقی، صوبائی اور مقامی حکومتوں کے درمیان اختیارات کی مناسب تقسیم سے عوامی مسائل حل کیے جاسکتے ہیں اور انتظامی امور کو زیادہ مؤثر بنایا جاسکتا ہے۔

مولانا فضل الرحمان نے سیاسی معاملات پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ان کا اور نواز شریف کا سوچنے کا انداز ایک جیسا ہے، فرق صرف یہ ہے کہ وہ اپنی بات کھل کر بیان کر رہے ہیں جبکہ نواز شریف خاموش ہیں۔

انہوں نے کہا کہ 26ویں آئینی ترمیم کے معاملے میں جے یو آئی نے حکومت کو 35 شقوں سے دستبردار کرایا، جو ان کے بقول جے یو آئی اور پی ٹی آئی کے درمیان مشاورت اور اشتراک کا نتیجہ تھا۔ مولانا فضل الرحمان نے بتایا کہ انہوں نے دو مرتبہ پارلیمنٹ میں ان کیمرہ اجلاس بلانے کا مطالبہ کیا، تاہم ان کا مطالبہ تسلیم نہیں کیا گیا۔

ملک کی معاشی صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے سربراہ جے یو آئی نے کہا کہ نہ پاکستانی سرمایہ کاری کر رہے ہیں اور نہ ہی بیرونِ ملک سے سرمایہ کار آ رہے ہیں۔ ان کے مطابق پاکستان کی تجارت کا ایک بڑا دارومدار وسطی ایشیا پر تھا، تاہم اب یہ تجارت بھی متاثر ہوچکی ہے۔

انہوں نے کہا کہ وسطی ایشیا کو پاکستان سے سبزیاں اور پھل برآمد کیے جاتے تھے، لیکن موجودہ صورتحال کے باعث یہ سلسلہ بھی ختم ہوگیا ہے۔

مولانا فضل الرحمان نے پارلیمانی نظام پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ پارلیمنٹ دھاندلی کے نتیجے میں بنی ہے اور حکومت کو این ایف سی ایوارڈ بھی ہضم نہیں ہو رہا۔

معدنی ذخائر کے معاملے پر انہوں نے کہا کہ ملک میں موجود معدنی وسائل سے متعلق معاملات کو عوام کے سامنے لاکر شفاف انداز میں طے کیا جانا چاہیے۔ وفاق، صوبوں اور عوام کا حصہ واضح طور پر متعین ہونا چاہیے تاکہ معدنی وسائل سے حاصل ہونے والے فوائد کی منصفانہ تقسیم یقینی بنائی جاسکے۔

محسن نقوی کے حوالے سے مولانا فضل الرحمان نے واضح طور پر کہا کہ وہ اپنی سابقہ رائے یا موقف پر اپنی غلطی کا اعتراف کرتے ہیں۔

More posts