Baaghi TV

ایران امریکا جنگ مزید 6 ماہ جاری رہنے کا امکان: سابق امریکی وزیر دفاع

سابق امریکی وزیر دفاع لیون پنیٹا نے خبردار کیا ہے کہ ایران کے ساتھ جاری جنگ مزید چھ ماہ تک جاری رہ سکتی ہے اور امریکہ کو اس تنازع سے نکلنے میں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ ان کے مطابق واشنگٹن ایک ایسی جنگ میں پھنسنے کا خطرہ مول لے رہا ہے جس کا کوئی واضح اختتام دکھائی نہیں دے رہا اور یہ تنازع مشرق وسطیٰ میں ایک اور طویل اور ناکام جنگ کی شکل اختیار کرسکتا ہے۔

لیون پنیٹا نے برطانوی اخبار ’دی گارڈین‘ کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ امریکہ اور ایران ایک خطرناک تعطل میں پھنسے ہوئے ہیں، جہاں جنگ ختم کرنے کے لیے دستیاب راستے انتہائی محدود ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ موجودہ صورتحال برقرار رہی تو ایران کے ساتھ جنگ مزید چھ ماہ تک بغیر کسی واضح حل کے جاری رہنے کا امکان ہے۔

باراک اوباما کے دور میں سی آئی اے کے ڈائریکٹر اور 2011 سے 2013 تک امریکی وزیر دفاع رہنے والے پنیٹا نے کہا کہ انہیں خدشہ ہے کہ ایران کے ساتھ موجودہ تنازع عراق اور افغانستان کی جنگوں کی طرح مشرق وسطیٰ کی ایک اور طویل جنگ میں تبدیل ہوسکتا ہے۔ ان کے بقول امریکہ کو ایک ایسے تنازع میں نہیں پھنسنا چاہیے جس کے خاتمے کی کوئی واضح حکمت عملی موجود نہ ہو۔

پنیٹا نے پینٹاگون کے اندر پالیسی اور کمانڈ سے متعلق مبینہ اختلافات پر بھی تشویش کا اظہار کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکی فوج ایک ایسے وقت میں جنگ لڑ رہی ہے جب پینٹاگون اور کمانڈ کے ڈھانچے میں شدید ہلچل کی اطلاعات سامنے آرہی ہیں، جس سے یہ تاثر پیدا ہوسکتا ہے کہ کسی کو واضح طور پر معلوم نہیں کہ فیصلوں کی ذمہ داری کس کے پاس ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایران سمیت امریکہ کے مخالفین اس صورتحال کو واشنگٹن کی کمزوری کے طور پر دیکھ سکتے ہیں۔ پنیٹا کے مطابق امریکہ کو چین، روس، شمالی کوریا، دہشت گردی اور ایران سمیت کئی بڑے خطرات کا سامنا ہے، لیکن پینٹاگون میں پیدا ہونے والی مبینہ بے یقینی ان مخالفین کو غلط پیغام دے سکتی ہے۔

پینٹاگون کے چیف ترجمان شان پارنیل نے پنیٹا کے اس مؤقف کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ محکمہ دفاع کے انتشار کا شکار ہونے کی بات مکمل طور پر بے بنیاد ہے۔ ان کے مطابق یہ دعویٰ پینٹاگون میں موجود ان پیشہ ور افراد اور فوجیوں کی توہین ہے جو روزانہ ملک کے دفاع کے لیے کام کرتے ہیں۔ وائٹ ہاؤس سے بھی اس معاملے پر مؤقف لینے کے لیے رابطہ کیا گیا۔

پنیٹا کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اس وقت ایک مشکل صورتحال میں پھنسے ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ صدر کے سامنے بنیادی طور پر تین راستے ہیں۔ پہلا راستہ یہ ہے کہ امریکہ جنگ سے نکل جائے اور اسے ناکام جنگ تسلیم کرے، تاہم پنیٹا کے خیال میں ٹرمپ کے لیے ایسا کرنا مشکل ہوگا۔

دوسرا راستہ موجودہ تعطل کو برقرار رکھنا ہے، جس میں دونوں جانب سے وقفے وقفے سے حملے جاری رہیں اور فریقین مذاکرات یا ہتھیار ڈالنے کے بجائے مزید خطرناک جنگ سے بچنے کی کوشش کریں۔ پنیٹا کے مطابق یہ صورتحال بالآخر وہی نتیجہ پیدا کرسکتی ہے جس کا تمام فریقوں کو خدشہ ہے، یعنی مشرق وسطیٰ میں ایک اور طویل جنگ۔

تیسرا راستہ آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے لیے امریکی فوجی کارروائی کو آگے بڑھانا ہے۔ پنیٹا کے مطابق آبنائے ہرمز ایران کے لیے امریکہ پر دباؤ ڈالنے کا ایک اہم ذریعہ ہے، کیونکہ اس راستے میں عالمی تجارت اور توانائی کی ترسیل متاثر کرنے کی صلاحیت موجود ہے۔

انہوں نے کہا کہ اگر امریکہ اس جنگ کو اپنے لیے قابلِ فتح سمجھتا ہے تو اسے اپنی حکمت عملی میں ڈرامائی تبدیلی لانا ہوگی اور واضح کرنا ہوگا کہ اس وقت بنیادی مقصد آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنا ہے۔ پنیٹا کے مطابق محض یہ تاثر دینا کہ امریکہ تعطل کے باوجود کامیاب ہورہا ہے، حقیقت کو تبدیل نہیں کرسکتا۔

سابق امریکی وزیر دفاع نے یہ بھی کہا کہ ٹرمپ بارہا جنگ کے خاتمے کے قریب ہونے اور آبنائے ہرمز کے کھلے ہونے سے متعلق ایسے دعوے کرچکے ہیں جن سے ان کی ساکھ متاثر ہوئی۔ پنیٹا کے مطابق اب اصل سوال یہ ہے کہ آیا امریکی صدر اپنے دعووں کو عملی اقدامات میں تبدیل کرنے کا فیصلہ کرتے ہیں یا نہیں۔

دوسری جانب امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے رواں ہفتے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ایران کے ساتھ موجودہ فوجی تنازع کو ’جنگ‘ قرار دینے سے گریز کیا۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ آیا نومبر کے امریکی وسط مدتی انتخابات تک یہ تنازع ختم ہوجائے گا تو انہوں نے کہا کہ وہ اس سوال کا جواب نہیں جانتے اور اس بارے میں ایرانیوں سے پوچھا جانا چاہیے۔

پنیٹا نے دعویٰ کیا کہ بہت سے امریکیوں کا ٹرمپ کی جنگ سے نمٹنے کی صلاحیت پر اعتماد کم ہوگیا ہے۔ انہوں نے حالیہ عوامی جائزوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ امریکی عوام کی اکثریت ایران کے ساتھ تنازع کو ایک غلطی سمجھتی ہے اور اس کی مخالفت کرتی ہے۔

انہوں نے امریکی فوج کی طویل تعیناتیوں پر بھی تشویش کا اظہار کیا، خصوصاً طیارہ بردار بحری جہاز ’یو ایس ایس ابراہم لنکن‘ کی ریکارڈ مدت تک تعیناتی کا ذکر کیا۔ پنیٹا کے مطابق یہ بحری جہاز ایران کے خلاف امریکی کارروائیوں میں معاونت کے بعد 260 دن سے زیادہ عرصے تک کسی بندرگاہ پر رکے بغیر تعینات رہا اور بعد ازاں تھائی لینڈ پہنچا۔

پنیٹا نے کہا کہ کسی بھی فوجی دستے کو جنگی علاقے میں لامحدود مدت تک اس وقت تک تعینات نہیں کیا جاسکتا جب تک اس کے لیے مناسب روٹیشن کا منصوبہ موجود نہ ہو۔ ان کے مطابق مسئلہ صرف یہ نہیں کہ جنگ کس انداز میں آگے بڑھ رہی ہے، بلکہ امریکی فوج میں بھی یہ خدشہ پیدا ہورہا ہے کہ آیا ملک ان فوجیوں کو مناسب انداز میں مدد اور سہولیات فراہم کررہا ہے جو اپنی جانیں خطرے میں ڈال رہے ہیں۔

More posts